أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَوَمَنۡ كَانَ مَيۡتًا فَاَحۡيَيۡنٰهُ وَجَعَلۡنَا لَهٗ نُوۡرًا يَّمۡشِىۡ بِهٖ فِى النَّاسِ كَمَنۡ مَّثَلُهٗ فِى الظُّلُمٰتِ لَـيۡسَ بِخَارِجٍ مِّنۡهَا‌ ؕ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

کیا جو شخص پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور ہم نے اس کے لیے ایک نور بنایا جس کی وجہ سے وہ لوگوں کے درمیان چلتا ہے، وہ اس کی مثل ہوسکتا ہے جو اندھیروں میں ہو اور ان سے نکل نہ سکتا ہو، اسی طرح کافر جو عمل کر رہے ہیں وہ ان کے لیے خوشنما بنا دیے گئے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا جو شخص پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور ہم نے اس کے لیے ایک نور بنایا جس کی وجہ سے وہ لوگوں کے درمیان چلتا ہے، وہ اس کی مثل ہوسکتا ہے جو اندھیروں میں ہو اور ان سے نکل نہ سکتا ہو، اسی طرح کافر جو عمل کر رہے ہیں وہ ان کے لیے خوشنما بنا دیے گئے ہیں۔ (الانعام : ١٢٢) 

کافر کے مردہ اور مومن کے زندہ ہونے کی مثالیں :

امام ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ حضرت زید بن اسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی ‘ اے اللہ ! ابوجہل بن ہشام یا عمر بن الخطاب میں سے کسی ایک کو اسلام کے غلبہ کا سبب بنا دے۔ یہ دونوں گمراہی میں مردہ پڑے ہوئے تھے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر (رض) کو اسلام سے زندہ کیا اور ان کو عزت اور توقیر دی اور ابوجہل کو گمراہی کی موت میں برقرار رکھا۔ زید بن اسلم نے کہا ہے ‘ یہ آیت ان دونوں کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ‘ ج ٤‘ ص ١٣١٨‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الریاض ‘ ١٤١٧ ھ) 

امام ابو الحسن علی بن احمد واحدی متوفی ٤٦٨ ھ لکھتے ہیں 

اس آیت میں حضرت حمزہ بن عبدالمطلب اور ابو جہل مراد ہیں ‘ کیونکہ ایک دن ابو جہل نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر لید پھینک دی ‘ اس وقت تک حضرت حمزہ ایمان نہیں لائے تھے۔ ابو جہل کی اس حرکت کی حضرت حمزہ کو خبر دی گئی ‘ وہ اس وقت ہاتھ میں کمان لیے ہوئے شکار سے واپس آرہے تھے ‘ یہ سن کر غضبناک ہوئے اور جاکر ابو جہل کو کمان سے مارا ‘ ابو جہل فریاد کر رہا تھا کہ تم کو پتا نہیں وہ کم عقل کیا کہتا ہے ؟ ہمارے خداؤں کو برا کہتا ہے اور ہمارے باپ دادا کی مخالفت کرتا ہے۔ حضرت حمزہ نے کہا تم سے بڑا بےقوف اور کون ہے ؟ـ تم اللہ کو چھوڑ کر پتھروں کی عبادت کرتے ہو ‘ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ‘ وہ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور (سیدنا) محمد ( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ (اسباب النزول ‘ رقم الحدیث : ٤٥٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) 

ان حدیثوں کے مطابق حضرت عمر یا حضرت سید الشہداء حمزہ (رض) پہلے کفر میں مردہ تھے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلام سے زندہ کیا اور ان کو اسلام کی نمایاں خدمات کرنے کی توفیق دی ‘ جس کی وجہ سے مسلمانوں کی تاریخ میں وہ دونوں آج تک روشن ہیں اور بعد کے لوگوں کے لیے منارئہ نور ہیں ‘ ایسے لوگ ابو جہل جیسے لوگوں کی مثل کب ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ کفر کے اندھیروں میں رہے اور ان اندھیروں سے کچھی نکل نہ سکے ‘ ہرچند کہ اس آیت کے شان نزول کے متعلق دور روایتیں ہیں ‘ لیکن مفسرین نے کہا ہے کہ ان آیتوں میں مطلقا مومن اور کافر مراد لینا زیادہ مناسب ہے۔ 

علم اور جہل کے مراتب۔ 

امام فخرالدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے کہا ہے کہ ارواح بشریہ کی معرفت میں چار مراتب ہیں۔ پہلے مرتبہ میں اس کو بالفعل کوئی علم حاصل نہیں ہوتا۔ لیکن وہ علوم اور معارف کی استعداد رکھتا ہے ‘ بسا اوقات یہ استعداد کامل ہوتی ہے اور بعض اوقات یہ استعداد کم اور ضعیف ہوتی ہے۔ اس مرتبہ کو اس آیت میں موت کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔ دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ انسان کو علوم کلیہ اولیہ حاصل ہوتے ہیں ‘ اس کو عقل کہتے ہیں۔ اس مرتبہ کی طرف اس آیت میں (آیت) ” فاحییناہ “ (ہم نے اس کو زندہ کیا) سے اشارہ فرمایا ہے۔ تیسرا مرتبہ میں انسان معلومات بدیہیہ سے مجہولات نظریہ کو حاصل کرتا ہے ‘ اس کی طرف اس آیت میں (آیت) ’ وجعلنالہ نورا “۔ (اور ہم نے اس کے لیے ایک نور بنایا) سے اشارہ فرمایا اور چوتھا مرتبہ یہ ہے کہ تمام معارف قدسیہ اس کے سامنے حاضر بالفعل ہوں ‘ اور وہ روح ان معارف کے ساتھ منور اور کامل ہوجائے۔ اس کی طرف اس آیت میں (آیت) ” یمشی بہ فی الناس “۔ (جس کی وجہ سے وہ لوگوں کے درمیان چلتا ہے) سے اشارہ فرمایا ہے ‘ اور اس مرتبہ کے حصول کے بعد نفس انسان کی سعادت کے درجات مکمل ہوجاتے ہیں۔ 

یہ بھی کہا گیا ہے کہ دیکھنے کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ آنکھ سلامت ہو اور کوئی خارجی روشنی بھی ہو ‘ اسی طرح بصیرت کے لیے بھی دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ عقل سلیم ہو اور نور وحی اور نور کتاب دستیاب ہو۔ اس لیے مفسرین نے کہا ہے کہ اس آیت میں نور سے مراد قرآن ہے۔ بعض نے کہا اس سے مراد دین ہے اور بعض نے کہا اس سے مراد حکمت ہے۔ 

خلاصہ یہ ہے کہ بصر اور بصیرت کے لیے آنکھ اور عقل کا سالم ہونا اور خارجی روشنی اور نور قرآن کا میسر ہونا ضروری ہے۔ اور یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ نے مومن کو عطا کی ہیں اور رہا کافر تو وہ ہمیشہ جہل ‘ برے اخلاق اور بداعمالیوں کی تاریکیوں اور کفر اور گمراہی کے اندھیروں میں ڈوبا رہتا ہے ‘ اور خوف ‘ دہشت اور عجز کے اندھیروں میں ہاتھ پاؤں مارتا رہتا ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٥ ص ١٣٤۔ ١٣٣ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 122