اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌۚ-یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَۚ-فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًاؕ-وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ(۴۴)

بے شک ہم نے توریت اُتاری اس میں ہدایت اور نور ہے اس کے مطابق یہود کو حکم دیتے تھے ہمارے فرماں بردار نبی اور عالم اور فقیہ کہ ان سے کتابُ اللہ کی حفاظت چاہی گئی تھی(ف۱۱۳) اور وہ اس پر گواہ تھے تو (ف۱۱۴) لوگوں سے خوف نہ کرو اور مجھ سے ڈرو اور میری آیتوں کے بدلے ذلیل قیمت نہ لو(ف۱۱۵)اور جو اللہ کے اتارے پر حُکم نہ کرے (ف۱۱۶) وہی لوگ کافر ہیں

(ف113)

کہ اس کو اپنے سینوں میں محفوظ رکھیں اور اس کے درس میں مشغول رہیں تاکہ وہ کتاب فراموش نہ ہو اور اس کے احکام ضائع نہ ہوں ۔ (خازن)

مسئلہ : توریت کے مطابق انبیاء کا حکم دینا جو اس آیت میں مذکور ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم سے پہلی شریعتوں کے جو احکام اللہ اور رسول نے بیان فرمائے ہوں اور ان کے ہمیں ترک کا حکم نہ دیا ہو منسوخ نہ کئے گئے ہوں وہ ہم پر لازم ہوتے ہیں۔( جمل وابوالسعود)

(ف114)

اے یہودیو تم سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت و صفت اور رجم کا حکم جو توریت میں مذکور ہے اس کے اظہار میں ۔

(ف115)

یعنی احکامِ الٰہیہ کی تبدیل بہر صورت ممنوع ہے خواہ لوگوں کے خوف اور ان کی ناراضی کے اندیشہ سے ہو یا مال و جاہ ورشوت کی طمع سے ۔

(ف116)

اس کا منکِر ہو کر ” کَمَا قَالَہُ اِبنِ عَبَّاس رضی اللہ عنہما ”۔

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِۙ-وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّۙ-وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌؕ-فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗؕ-وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۴۵)

اور ہم نے توریت میں ان پر واجب کیا(ف۱۱۷) کہ جان کے بدلے جان (ف۱۱۸) اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بدلہ ہے (ف۱۱۹) پھر جو دل کی خوشی سے بدلہ کراوے تو وہ اس کا گناہ اتار دے گا (ف۱۲۰) اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں

(ف117)

اس آیت میں اگرچہ یہ بیان ہے کہ توریت میں یہود پر قصاص کے یہ احکام تھے لیکن چونکہ ہمیں ان کے ترک کا حکم نہیں دیا گیا اس لئے ہم پر یہ احکام لازم رہیں گے کیونکہ شرائعِ سابقہ کے جو احکام خدا و رسول کے بیان سے ہم تک پہنچے اور منسوخ نہ ہوئے ہوں وہ ہم پر لازم ہوا کرتے ہیں جیسا کہ اوپر کی آیت سے ثابت ہوا ۔

(ف118)

یعنی اگر کسی نے کسی کو قتل کیا تو اس کی جان مقتول کے بدلے میں ماخوذ ہوگی خواہ وہ مقتول مرد ہو یا عورت آزاد ہو یا غلام مسلِم ہو یا ذمّی ۔

شانِ نُزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مردکو عورت کے بدلے قتل نہ کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ( مدارک)

(ف119)

یعنی مماثلت و مساوات کی رعایت ضروری ہے ۔

(ف120)

یعنی جو قاتل یا جنایت کرنے والا اپنے جُرم پر نادم ہو کر وبالِ معصیّت سے بچنے کے لئے بخوشی اپنے اوپر حکمِ شرعی جاری کرائے تو قصاص اس کے جُرم کا کفّارہ ہوجائے گا اور آخرت میں اس پر عذاب نہ ہوگا ۔(جلالین و جمل) ، بعض مفسّرین نے اس کے معنٰی یہ بیان کئے ہیں کہ جو صاحبِ حق قصاص کومعاف کردے تو یہ معافی اس کے لئے کفّارہ ہے ۔ (مدارک) ، تفسیرِاحمدی میں ہے یہ تمام قصاص جب ہی واجب ہونگے جب کہ صاحبِ حق معاف نہ کرے اگروہ معاف کردے تو قصاص ساقط ۔

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ۪-وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌۙ-وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ(۴۶)

اور ہم اُن نبیوں کے پیچھے اُن کے نشان قدم پر عیسٰی بن مریم کو لائے تصدیق کرتا ہوا توریت کی جو اس سے پہلے تھی (ف ا۱۲) اور ہم نے اسے انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تصدیق فرماتی ہے توریت کی کہ اس سے پہلی تھی اور ہدایت (ف۱۲۲) اور نصیحت پرہیزگاروں کو

(ف121)

احکامِ توریت کے بیان کے بعد احکامِ انجیل کا ذکر شروع ہوا اور بتایا گیا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام توریت کے مصدِّق تھے کہ وہ منزَّل من اللہ ہے اور نسخ سے پہلے اس پر عمل واجب تھا حضرت عیسٰی علیہ السلام کی شریعت میں اس کے بعض احکام منسوخ ہوئے ۔

(ف122)

اس آیت میں انجیل کے لئے لفظ ھُدًی دو جگہ ارشاد ہوا پہلی جگہ ضلالت و جہالت سے بچانے کے لئے رہنمائی مراد ہے دوسر جگہ ھُدًی سے سیدِ انبیاء حبیبِ کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی بشارت مراد ہے جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوّت کی طرف لوگوں کی راہ یابی کا سبب ہے ۔

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِؕ-وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۴۷)

اور چاہیے کہ انجیل والے حکم کریں اس پر جو اللہ نے اس میں اُتارا (ف۱۲۳) اور جو اللہ کے اُتارے پر حکم نہ کریں تو وہی لوگ فاسق ہیں

(ف123)

یعنی سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کی نبوّت کی تصدیق کرنے کا حکم ۔

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِـعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّؕ-لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًاؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِؕ-اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ(۴۸)

اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی (ف۱۲۴) اور ان پر محافظ و گواہ تو ان میں فیصلہ کرو اللہ کے اُتارے سے(ف۱۲۵) اور اے سننے والے ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اپنے پاس آیا ہوا حق چھوڑ کر ہم نے تم سب کے لیے ایک ایک شریعت اور راستہ رکھا(ف۱۲۶) اور اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی اُمت کردیتا مگر منظور یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں دیا اس میں تمہیں آزمائے (۱۲۷) تو بھلائیوں کی طرف سبقت چاہو تم سب کا پھرنا اللہ ہی کی طرف ہے تو وہ تمہیں بتادے گا جس بات میں تم جھگڑتے تھے

(ف124)

جو اس سے قبل حضراتِ انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوئیں ۔

(ف125)

یعنی جب اہلِ کتاب اپنے مقدمات آپ کی طرف رجوع کریں تو آپ قرآنِ پاک سے فیصلہ فرمائیں ۔

(ف126)

یعنی فروع و اعمال ہر ایک کے خاص ہیں اور اصل دین سب کا ایک ۔ حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایمان حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے یہی ہے کہ ” لَآ اِلٰہَ اِ لَّااللّٰہُ ” کی شہادت اور جو اللہ کی طرف سے آیا اس کا اقرار کرنا اور شریعت و طریق ہر اُمّت کا خاص ہے ۔

(ف127)

اور امتحان میں ڈالے تاکہ ظاہر ہو جائے کہ ہر زمانہ کے مناسب جو اَحکام دیئے کیا تم ان پر اس یقین و اعتقاد کے ساتھ عمل کرتے ہو کہ ان کا اختلاف مشیّتِ الٰہیہ کے اقتضاء سے حکمتِ بالغہ اور دنیوی و اُخروی مصالحِ نافعہ پر مبنی ہے یا حق کو چھوڑ کر ہوائے نفس کا اِتّباع کرتے ہو ۔ (تفسیر ابوالسعود)

وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِـعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَؕ-فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْؕ-وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ(۴۹)

اور یہ کہ اے مسلمان اللہ کے اُتارے پر حکم کر اور ان کی خواہشوں پر نہ چل اور ان سے بچتا رہ کہ کہیں تجھے لغزِش(بہکا) نہ دے دیں کسی حکم میں جو تیری طرف اُترا پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۱۲۸) تو جان لو کہ اللہ اُن کے بعض گناہوں کی (ف۱۲۹) سزا ان کو پہنچایا چاہتا ہے (ف۱۳۰) اور بے شک بہت آدمی بے حکم ہیں

(ف128)

اللہ کے نازل فرمائے ہوئے حکم سے ۔

(ف129)

جن میں یہ اعراض بھی ہے ۔

(ف130)

میں قتل و گرفتاری و جِلا وطنی کے ساتھ اور تمام گناہوں کی سزا آخرت میں دے گا ۔

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَؕ-وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠(۵۰)

تو کیا جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں(ف۱۳۱) اور اللہ سے بہتر کس کا حکم یقین والوں کے لیے

(ف131)

جو سراسر گمراہی اور ظلم اور مخالفِ احکامِ الٰہی ہوتا تھا ۔

شانِ نُزول : بنی نُضَیر اور بنی قُرَیظہ یہود کے دو قبیلے تھے ان میں باہم ایک دوسرے کا قتل ہوتا رہتا تھا جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیّبہ میں رونق افروز ہوئے تو یہ لوگ اپنا مقدّمہ حضور کی خدمت میں لائےاور بنی قُرَیظہ نےکہا کہ بنی نُضَیر ہمارے بھائی ہیں ، ہم وہ ایک جد کی اولاد ہیں ، ایک دین رکھتے ہیں ، ایک کتاب (توریت) مانتے ہیں لیکن اگربنی نُضَیر ہم میں سے کسی کو قتل کریں تو اس کے خون بہا میں ہم ستّر وَسۡق کھجوریں دیتے ہیں اور اگر ہم میں سے کوئی ان کے کسی آدمی کو قتل کرے تو ہم سے اس کے خون بہا میں ایک سو چالیس وَسۡق لیتے ہیں ، آپ اس کا فیصلہ فرما دیں حضور نے فرمایا میں حکم دیتا ہوں کہ قُرَیظِی اور نُضَیرِی کا خون برابر ہے کسی کو دوسرے پر فضیلت نہیں ، اس پر بنی نُضَیر بہت برہم ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کے فیصلہ سے راضی نہیں ، آپ ہمارے دشمن ہیں ، ہمیں ذلیل کرنا چاہتے ہیں ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ کیا جاہلیّت کی گمراہی و ظلم کا حکم چاہتے ہیں ۔