رسالت و نبوت

نبی کا لغوی معنی : ’’نبی‘‘ کا لفظ یا تو ’’نَبَاوَۃٌ‘‘ سے بنا ہے جس کا معنی ہوتا ہے بلندی مرتبہ اور یا یہ لفظ بنا ہے ’’نَبْأٌ‘‘ سے جس کا معنی ہوتا ہے خبر دینا، ظاہر کرنا یا یہ لفظ بنا ہے ’’نَبْاَۃٌ‘‘ سے جس کا معنی ہوتا ہے مخفی آواز۔

پہلے معنی کے لحاظ سے نبی کو ’’نبی‘‘ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ تمام مخلوق سے بلند مرتبہ رکھتا ہے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے اس لئے کہ وہ حق بات کو ظاہر کرتا ہے اور غیبی خبریں دیتا ہے اور تیسرے معنی کے لحاظ سے اس لئے کہ وہ وحی کو سنتا ہے جو آواز دوسروں پر مخفی ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک احتمال یہ بھی ہے کہ یہ لفظ اصل میں ’’نَبِیْئٌ‘‘ ہے تو اس وقت معنی ہوتا ہے راستہ۔ اس صورت میں نبی کو نبی کہنے کی وجہ یہ ہوگی کہ وہ اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان واسطہ ہوتا ہے جس طرح راستہ منزل مقصود تک پہنچنے کا ذریعہ ہوتا ہے اسی طرح انبیائے کرام علیہم السلام رب تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور منزل مراد کو پانے کا ذریعہ اور واسطہ ہوتے ہیں۔

رسول اورنبی: ’’رسول‘‘ کے معنی ہیں خدا کے یہاں سے بندوں کے پاس خدا کا پیغام لانے والا۔ ’’نبی‘‘ وہ آدمی ہے جس کے پاس وحی یعنی خدا کا پیغام آیا لوگوں کو خدا کا راستہ بتانے کے لئے۔

کیا عقیدہ رکھیں ؟: مسلمانوں کے لئے جس طرح ذات و صفاتِ الٰہی کا جاننا ضروری ہے اسی طرح یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نبی اور رسول کے بارے میں کیا عقائد رکھنے چاہئے تاکہ کفر و بدعقیدگی سے محفوظ رہیں۔

وحی نبوت انبیا کے لئے خاص ہے، جو اسے کسی غیر نبی کے لئے مانے کافر ہے۔ نبی کو خواب میں جو چیز بتائی جائے وہ بھی وحی ہے، اس کے جھوٹے ہونے کا احتمال نہیں۔ نبوت کسبی(کچھ کر کے حاصل کی جانے والی چیز) نہیں کہ آدمی عبادت و ریاضت کے ذریعہ سے حاصل کر سکے بلکہ محض عطائے الٰہی ہے کہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے دیتا ہے۔ ہاں دیتا اسی کو ہے جسے اس منصبِ عظیم کے قابل بناتا ہے، جو قبل حصولِ نبوت تمام اخلاقِ رذیلہ(بری عادتوں) سے پاک اور تمام اخلاقِ فاضلہ (عمدہ خصلتوں)سے مزین ہوکر جملہ مدارجِ ولایت طے کر چکا ہوتا ہے اور اپنے نسب و جسم و قول و فعل و حرکات و سکنات میں ہر ایسی بات سے ُمنزَّہ (پاک)ہوتا ہے جو باعثِ نفرت ہو۔ اسے عقلِ کامل عطا کی جاتی ہے جو اوروں کی عقل سے بدرجہا زائد ہے، کسی حکیم اور کسی فلسفی کی عقل اس کے لاکھویں حصہ تک نہیں پہنچ سکتی۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اَللّٰہُ یَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسٰلَتَہٗ‘‘ اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے۔ دوسرے مقام پر فرماتا ہے: وَاللّٰہ یَختص برحمتہ مَنْ یَّشَآئُ وَ اللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِo اوراللہ اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اوراللہ بڑا فضل والا ہے۔ (سورۂ بقرہ:۱۰۵)

جو اسے اس طرح مانے کہ آدمی اپنے کسب و ریاضت سے منصبِ نبوت تک پہنچ سکتا ہے، کافر ہے۔جو شخص نبی سے نبوت کا زوال (چَلاجانا)جائز جانے، کافر ہے۔