نمـاز جُـمعـہ

جمعہ کی نماز کے لئے وہی مستحب وقت ہے جو ظہر کی نماز کے لئے ہے ۔ ( بحر الرائق)

جمعہ کی اذان ہوتے ہی خریدوفروخت حرام ہوجاتی ہے اور دنیا کے تمام مشاغل جو ذکرِ الٰہی سے غفلت کا سبب ہو اس میں داخل ہیں ۔ اذان ہونے کے بعد سب کو ترک کرنا لازم ہے ۔ ( تفسیر خزائن العرفان ، ص ۹۹۷)

حدیث::- مسلم ، ابوداؤدو ترمذی و ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ جس نے اچھی طرح وضو کیا پھر جمعہ کو آیا اور خطبہ سنا اور چپ رہا ، اس کے لئے مغفرت ہوجائے گی ان گناہوں کی جو اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان ہیں ۔‘‘

حدیث::- صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں ’’ میں نے قصد کیاکہ ایک شخص کونماز (جمعہ) پڑھانے کا حکم دوں اور جو لوگ جمعہ سے پیچھے رہ گئے ان کے گھروں کو جلادوں ۔‘‘

حدیث::- ابوداؤد ، ترمذی ،نسائی ، ابن ماجہ وغیرہ نے حضرت ابوالجعد ضمری سے اور امام مالک نے حضرت صفوان بن سلیم سے اور امام احمد نے حضرت ابوقتادہ سے اور دیگر اجلۂ محدثین نے اس طرح روایت کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں :-

جو تین جمعہ سستی کی وجہ سے چھوڑے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر کرے دے گا ۔ ‘‘

’ جو تین جمعہ بلا عذر چھوڑے وہ منافق ہے ۔‘‘

جوتین جمعہ بلا عذر چھوڑے وہ منافقوں میں لکھ دیا گیا ۔‘‘

جو تین جمعہ پے در پے چھوڑے اس نے اسلام کو پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا ۔‘‘

جمعہ کی نماز کے متعلق اہم مسائل :-

مسئلہ: جمعہ فرض عین ہے اور جمعہ کی فرضیت کی تاکید ظہر سے زیادہ ہے ۔ جمعہ کے فرض ہونے کا انکار کرنے والا کافر ہے ۔ ( درمختار)

مسئلہ: جس ملک میں سلطنت اسلام ہے یا پہلے تھی اور جب سے غیر مسلم کا قبضہ ہوا ، بعض شعائر اسلام بلامزاحمت اب تک جاری ہیں جیسے تمام بلا د ہندوستان وبنگالہ ایسے ہی ہیں ، وہ سب اسلامی شہر ہیں ۔ ان میں جمعہ فرض ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۷۱۶)