حدیث نمبر :590

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگرلوگ جان لیں کہ اذان اورپہلی صف میں کیا ثواب ہے ۱؎ پھربغیر قرعہ ڈالے اسے نہ پاسکیں تو قرعہ ہی ڈالیں ۲؎ اوراگر جانتے کہ دوپہری کی نمازمیں کیاثواب ہے تو اس کی طر ف دوڑکر آتے۳؎ اوراگرجانتے کہ عشاءاورفجر میں کیا ثواب ہے تو ان میں گھسٹتے ہوئے بھی پہنچتے ۴؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ اگرچہ ہم نے ان دونوں کے فضائل بہت بیان کردیئے،لیکن اس کے باوجودکما حقہ بیان نہیں ہوسکے،وہ تو دیکھ کرہی معلوم ہوں گے پتہ لگا کہ فی سبیل اﷲ اذان وتکبیرکہنا اورنمازکی صف اول میں،خصوصًا امام کے پیچھے کھڑا ہونا بہت بہتر ہے جس کی بزرگی بیان نہیں ہوسکتی۔

۲؎ یعنی ہرشخص چاہے کہ یہ دونوں کام میں کروں تو ان میں جھگڑا پیدا ہو جس کا فیصلہ قرعہ سے ہو۔معلوم ہوا کہ نیکیوں میں جھگڑنابھی عبادت ہے اورقرعہ سے جھگڑاچکانامحبوب۔

۳؎ یعنی ظہروجمعہ کی نماز اگرچہ دیرمیں ہو مگر اس کے لئے جلدی پہنچنا کہ پہلی صفوں میں جگہ ملے بہت بہتر ہے،مدینہ پاک میں نمازظہرکے لئے لوگ گیارہ بجے سے پہنچ جاتے ہیں خصوصًا جمعہ کے دن۔

۴؎ یعنی اگرپاؤںمیں چلنے کی طاقت نہ ہوتی توچوتڑوں کے بل پہنچتے۔اس سے معلوم ہوا کہ معذور پراگرچہ مسجد کی حاضری واجب نہیں لیکن اگرپہنچ جائے تو ثواب پائے گا۔عشاءکو عتمہ فرمانا ممانعت سے پہلے ہے۔