حدیث نمبر :593

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتی لوگ تمہاری مغرب کی نمازکے نام پرغلبہ نہ پاجائیں۔راوی نے فرمایا کہ دیہاتی اسے عشاء کہتے تھے ۱؎

شرح

۱؎ عشی سے مشتق،بمعنی وقت رات،اسی لئے رات کے کھانے کوعَشاءکہاجاتا ہے،یعنی رات کی پہلی نمازیا رات کے کھانے کے وقت کی نماز،چونکہ اس میں دنیوی کام کی طرف نسبت ہے اس لئے اس کوناپسند فرمایا۔

حدیث نمبر :594

اورفرمایا کہ دیہاتی لوگ تمہاری نمازِعشاء کے نام پر غالب نہ آجائیں کیونکہ وہ اللہ کی کتاب میں عشاء ہے ۱؎ اور دیہاتی اونٹ کا دودھ دوھنے کی وجہ سے دیر لگاتے ہیں۲؎ (مسلم)

شرح

۱؎ کہ قرآن شریف میں ہے “مِنۡۢ بَعْدِ صَلٰوۃِ الْعِشَآء”۔اس سے معلوم ہوا کہ رب کے دیئے ہوئے نام بدلنابہت براہے۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جوعیسائیوں کی پیروی میں اپنے کومحمڈن کہتے ہیں،اﷲ تعالٰی نے ہمارے دین کا نام”اسلام”رکھا اورہمارا نام”مسلمین”فرماتاہے:”ہُوَ سَمّٰىکُمُ الْمُسْلِمِیۡنَ”اور فرماتاہے:”اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللہِ الۡاِسْلٰم”۔

۲؎ یعنی وہ لوگ نمازعشاءکو عتمہ اس لئے کہتے ہیں کہ عَتَمْ کے معنے ہیں رات کی تیز تاریکی،اورنمازنورہے نورکو تاریکی کہنا براہے،نیزوہ لوگ اس وقت اپنی اونٹنیاں دوھتے تھے،تو اس کے معنی ہوئے اونٹ دوھنے کے وقت کی نماز،اس میں بھی عبادت کو عادت کی طرف نسبت ہے لہذا ممنوع۔