علمِ غیب :

اللہ عزوجل نے انبیا علیہم السلام کو اپنے غیوب پر اطلاع دی۔ زمین و آسمان کا ہر ذرہ نبی کے پیشِ نظر ہے۔ مگر یہ علم غیب جو ان کو ہے اللہ کے دئے سے ہے لہٰذا ان کا علم عطائی ہوا اور علم عطائی اللہ عزوجل کے لئے محال ہے کہ اس کی کوئی صفت ،کوئی کمال کسی کا دیا ہوا نہیں ہو سکتا بلکہ ذاتی ہے۔ جو لوگ انبیا بلکہ سید الانبیا ﷺ سے مطلق علم غیب کی نفی کرتے ہیں وہ قرآنِ عظیم کی اس آیت کے مصداق ہیں ’’اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَ تَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ‘‘ یعنی قرآن عظیم کی بعض باتیں مانتے ہیں اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہیں کہ آیتِ نفی دیکھتے ہیں اور ان آیتوں سے جن میں انبیا علیہم السلام کو علومِ غیب عطا کیا جانا بیان کیا گیا ہے انکار کرتے ہیں حالاں کہ نفی و اثبات دونوں حق ہیں کہ نفی علم ذاتی کی ہے کہ یہ خاصۂ الوہیت ہے، اثبات عطائی کا ہے کہ یہ انبیا ہی کی شایانِ شان ہے اور منافی الوہیت ہے۔

یہ کہنا کہ ہر ذرہ کا علم نبی کے لئے مانا جائے تو خالق و مخلوق کی مساوات (برابری)لازم آئے گی باطل محض ہے کہ مساوات تو جب لازم آئے کہ اللہ عزوجل کے لئے بھی اتنا ہی علم ثابت کیا جائے اور یہ نہ کہے گا مگر کافر۔ انبیا علیہم السلام غیب کی خبریں دینے کے لئے آتے ہی ہیں کہ جنت و نار و حشر و نشر و عذاب و ثواب غیب نہیں تو اور کیا ہیں، ان کا منصب ہی یہ ہے کہ وہ باتیں ارشاد فرمائیں جن تک عقل و حواس کی رسائی نہیں اور اسی کا نام غیب ہے۔ اولیا کو بھی غیب عطائی ہوتا ہے مگر بواسطۂ انبیا کے۔