نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

اما بعد فاعوذباللّٰہ من الشیطن الرجیم

بہتر فرقے جہنمی اورایک جنتی کیوں؟

سلام بہت ہی پیارا مذہب ہے اس بات کا اقرار صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی کرتے ہیں اسلام نے ہمیں بہت کچھ دیا ہمیں اسلام نے اخوت بھائی چارے اوراتحاد کے ساتھ رہنے کا سبق دیا اور بار بار یہ بات واضح کی گئی کہ مسلمان قوم ایک متحد قوم ہے سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں کہیں فرمایا گیا:

القرآن : ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اورٹکڑے ٹکڑے نہ ہو۔

(سورہ آلِ عمران، آیت103)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ ایک ہوجاؤ ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو سے مُراد یہ ہے کہ سواداعظم کے ساتھ ہو جاؤ، متحد ہوجاؤ، حق مسلک اہلسنّت وجماعت میں آجاؤ جو اس وقت مسلمانوں کی سچّی اور حق جماعت ہے یہی اللہ تعالیٰ کی رسی ہے اس سے جو الگ ہوا وہ تفرقے میں پڑگیا وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔

اس وقت ملّت اسلامیہ ذہنی خلجان کی وجہ سے مختلف فرقوں میں بٹی ہوئی اوربٹتی جارہی ہے نئے نئے فتنوں میں اُمتِ مسلمہ جگھڑی ہوئی ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں شیطانی فتنوں سے آگاہ فرمایا۔

القرآن : ترجمہ: اے آدم کی اولاد ! خبردار شیطان تمہیں فتنے میں نہ ڈالے جس نے تمہارے ماں باپ کو بہشت سے نکالا بے شک ہم نے شیطان کو ان کا دوست کہا جو ایمان نہیںلائے ۔

(سورئہ اعراف ،آیت27)

شیطان ان میں سے نئی نئی جماعتیں تیار کرتا رہتاہے یہ بات اگر چہ بہت تلخ ہے مگر حقیقت ہے موجودہ نئے نئے فتنے دیوبندیت ، وہابیت، اہلحدیثیت، شیعت ، ذکری ، خارجی ، آغاخانی اسماعیلی، بوہرہ، ابنِ تیمیہ ، مودودی ، پرویزی ، نیچری ، چکڑالوی، توحیدی، قادیانی ، بہائی ، جماعت المسلمین ، طاہری، گوہر شاہی وغیرہ وغیرہ روز بروز وجود میں آرہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اُمتِ مسلمہ میں بگاڑ پیدا ہوا ہے سب کے سب فرقے قرآن اوراسلام کی بات کرتے ہیں حالانکہ اِ ن کے عقائد کفریات پر مبنی ہیں جن فرقوں کی بُنیاد کفر پر ہو وہ کبھی حق نہیں ہو سکتے کاش ہم عالمی حالات پر وہ بصیرت پیدا کریں جس کو ڈاکٹر اقبال اپنے شعر میں کہتے ہیں ۔

لباسِ خضر میں یہاں سینکڑوں رہزن بھی پھرتے ہیں

اگر جینے کی ہے خواہش توکچھ پہچان پیدا کر

عالمی حالات پر وہ بصیرت پیدا کریں جو ہم کو نیند سے جگادے اس وقت ہمیں بڑی ہوشیاری کی ضرورت ہے ، جوہرِ ایمان کو سنبھالنے کی ضرورت ہے ، صدیوں سے ہمارے اکابر جس صراطِ مستقیم پر چلتے رہے اس صراطِ مستقیم پر چلنے کی ضرورت ہے ، ہر ہاتھ جھٹک کر دامنِ مصطفیٰ ﷺ تھامنے کی ضرورت ہے۔

مصطفی برساں خویش راکہ دیں ہمہ اوست

اگر باونر سیدی تمام بولہبی است

اس کا حل یہی ہے کہ ہم حضور ﷺکی اس ہدایت پر عمل کریں۔

الحدیث: سرکارِ اعظم ﷺنے فرمایا سواداعظم کی پیروی کرو۔

(بحوالہ مشکوٰۃ ،کراچی ص30۔سنن ابنِ ماجہ ۔ کتاب الفتن باب سواد اعظم ص303)

جتنے فرقوں کا اس کتاب میں آگے ذکر کیا جائے گا سارے قرآن واسلام کی باتیں کرتے ہیں مگر اپنے کفر یہ عقائد سے توبہ نہیں کی اُنہی کفریہ عقائد رکھنے والوں کو اپنا پیشوا اورامام مانتے ہیں اُن کی برسیاں مناتے ہیں اُن کی شان میں کالم لکھتے ہیں ۔

اس وقت دنیا میں واحد مسلک اہلسنّت وجماعت سُنّی حنفی بریلوی ہے جو کسی بھی نیک ہستی کی شان میںبکواس نہیں کرتا حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر ہر نیک ہستی کا ادب واحترام کرتاہے ورنہ دیگر فرقوں نے توحد کردی آگے اُن کے کُفریہ عقائد پڑھیں آپ کا دل کانپ اُٹھے گا ، میرا بھی قلم آگے نہیں بڑ ھ رہا ، ہاتھ کانپ رہے ہیں مگر اس اُمت پر یہ واضح کرنا ہے کہ قرآن وحدیث کی باتوں کے پیچھے ، اسلام کی محبت کی باتوں کے پیچھے، تبلیغوں اورڈالر اورریال کی یلغار کے پیچھے کیا عزائم ہیں یہ لوگ شہد دکھا کر زہر کھلا رہے ہیں ، قوم کو فتنوں کے دلدل میں دھکیل رہے ہیں۔

اس اُمّت کے تہتر ٹکڑے برحق ہیں کیونکہ مخبرِ صادق شہنشاہِ اعظم ﷺنے جو ارشاد فرمایا ہے وہ کیسے نہیں ہوسکتا۔

اُمتِ مصطفی ﷺ تہتر مذہبوں میں بٹ جائے گی جن میں صرف ایک مذہب جنتی ہوگا ۔

حدیث شریف :حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سرکار اعظم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل بہتر (72)مذہبوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر مذہبوں میں بٹ جائے گی ان میں ایک مذہب والوں کے سوا باقی تمام مذاہب والے جہنمی ہوں گے صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺوہ ایک مذہب والے کون ہیں؟(یعنی ان کی پہچان کیا ہے ؟)

سرکارِ اعظم ﷺنے فرمایا وہ لوگ اسی مذہب پر قائم رہیں گے جس پر میں ہوں اورمیرے صحابہ کرام (علیہم الرضوان )ہیں ۔(بحوالہ :ترمذی ص 89،مشکوٰۃ شریف ص30)

فائدہ :اس حدیث شریف سے واضح طورپر معلوم ہوا کہ سرکارِاعظم ﷺکی یہ امت تہتر مذہبوں میں بٹے گی لیکن ان میں صرف ایک مذہب والے جنتی ہوں گے باقی سب جہنمی ہوں گے اور جنتی مذہب والوں کی پہچان یہ ہے کہ وہ سرکارِاعظم ﷺاور ان کے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے نقشِ قدم پر چلیں گے اور ان کے عقیدے پر قائم رہیں گے ۔

بہتر فرقے جہنمی اورصرف ایک جنتّی کیوں :

جنّتی فرقہ جو کہ فرقہ نہیں مسلک ہوگا جنّتی وہی ہوگا جو سرکارِاعظم ﷺ اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے نقشِ قدم پر چلیں گے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک جنتّی ہوگا اور بقیہ بہتر فرقے جہنمی ہوں گے تو کیا وہ کلمہ نہیں پڑھتے ہوں گے،کیا وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا معبود حقیقی نہیں مانتے ہوں گے کیا وہ اسلام کواپنا دین نہیں مانتے ہوں گے ،کیا وہ سرکارِ اعظم ﷺکو اپنا رسولِ برحق نہیں مانتے ہوں گے ؟

تو جواب یہی آئے گا کہ وہ بہتر جہنمی فرقے کلمہ بھی پڑھتے ہوں گے ۔اللہ کو معبود حقیقی بھی مانتے ہوں گے ،قرآن کو اللہ تعالیٰ کی کتاب بھی مانتے ہوں گے ،سرکارِاعظم ﷺکو رسول برحق بھی مانتے ہوں گے پھر جہنمی اسلئے ہوں گے کہ ان کے عقیدے میں فساد ہوگا ،ان کے چہرے بظاہر مسلمانوں جیسے ہوں گے لیکن ان کے عقائد باطل ہوں گے ان کے باطل عقائد میں کفر کی بدبو آرہی ہو گی انکے دل اندر سے ایمان سے خالی ہوں گے ۔

آئیے ہم آپکو ان بد مذہبوں جو بظاہر کلمہ پڑھتے ہیں تبلیغیں کرتے ہیں ،قرآن کی بات کرتے ہیں انہی کی مستند کتابوں سے حوالوں کیساتھ یہ ثابت کریں گے کہ اسلام کا نام لیکر قرآن ہاتھ میں لیکر پسِ پردہ ان کے کیا عزائم چھپے ہوئے ہیں ان بد مذہبوں کی وہ کتب کے حوالے پیش کئے جائیں گے جواب تک شائع ہورہی ہیں جس سے رجوع نہیں کیا گیا اور موجودہ ان کے پیروکار بھی ان کفر یہ عبارات سے بیزاری کا اعلان نہیں کرتے بلکہ تعویلیں نکالتے ہیں یاد رہے کہ کفر کی کوئی تعویل نہیں ہوتی کفر جوہے وہ کفر ہی رہتا ہے اب ان بد مذہبوں کے باطل عقائد کے نمونے ملاحظہ ہوں …

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭