عصمتِ انبیا:

نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے اور یہ عصمت نبی اور ملک (فرشتہ) کا خاصہ ہے کہ نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں۔ اماموں کو انبیا کی طرح معصوم سمجھنا گمراہی اور بد دینی ہے۔ عصمتِ انبیا کے یہ معنی ہیں کہ ان کے لئے حفظِ الٰہی کا وعدہ ہو گیا ہے بخلاف ائمہ و اکابر اولیا کے کہ اللہ عزوجل انہیں محفوظ رکھتا ہے، ان سے گناہ نہیں ہوتا مگر ہو تو شرعاً محال بھی نہیں۔ انبیا علیہم السلام شرک و کفر اور ہر ایسے امر سے جو خلق (مخلوق)کے لئے باعثِ نفرت ہو جیسے کذب و خیانت و جہل وغیرہا صفاتِ ذمیمہ (برُی)سے نیز ایسے افعال سے جو وجاہت اور ُمروت کے خلاف ہیں قبل نبوت اور بعد نبوت بالاجماع معصوم ہیں اور کبائر سے بھی مطلقاً معصوم ہیں اور حق یہ ہے کہ تعمداً صغائر سے بھی قبل نبوت اور بعد نبوت معصوم ہیں۔ ان کے جسم کا برص و جزام وغیرہ ایسے امراض سے جن سے تنفر(نفرت) ہوتاہے پاک جاننا ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انبیا علیہم السلام پر بندوں کے لئے جتنے احکام نازل فرمائے انہوں نے وہ سب پہنچا دئے۔ جو یہ کہے کہ کسی حکم کو کسی نبی نے چھپا رکھا تقیہ یعنی خوف کی وجہ سے یا اور کسی وجہ سے نہ پہنچایا، کافر ہے۔