أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمَنۡ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنۡ يَّهۡدِيَهٗ يَشۡرَحۡ صَدۡرَهٗ لِلۡاِسۡلَامِ‌ۚ وَمَنۡ يُّرِدۡ اَنۡ يُّضِلَّهٗ يَجۡعَلۡ صَدۡرَهٗ ضَيِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِى السَّمَآءِ‌ؕ كَذٰلِكَ يَجۡعَلُ اللّٰهُ الرِّجۡسَ عَلَى الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

سو اللہ جس کو ہدایت دینا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے، اور جس میں گمراہی پیدا کرنا چاہے اس کا سینہ گھٹا ہوا تنگ کردیتا ہے گویا وہ مشقت سے آسمان پر چڑھ رہا ہے، اسی طرح اللہ ان لوگوں پر شیطان کو مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو اللہ جس کو ہدایت دینا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے، اور جس میں گمراہی پیدا کرنا چاہے اس کا سینہ گھٹا ہوا تنگ کردیتا ہے گویا وہ مشقت سے آسمان پر چڑھ رہا ہے، اسی طرح اللہ ان لوگوں پر شیطان کو مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔ (الانعام : ١٢٥) 

اسلام کے لیے شرح صدر کی علامت : 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت کے راستہ کی طرف ہدایت دینے کا ارادہ فرمائے گا ‘ اس کا سینہ دنیا میں اسلام کے لیے کھول دے گا ‘ حتی کہ وہ اسلام پر ثابت قدم رہے گا ‘ اور اسلام کو ترک نہیں کرے گا ‘ یہ حالت ایمان لانے کے بعد ہوگی ‘ جیسا کہ ان آیتوں میں ہے : 

(آیت) ” ومن یؤمن باللہ یھد قلبہ “۔ (التغابن : ١١) 

ترجمہ : اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے گا ‘ اللہ اس کے دل کو ہدایت فرمائے گا۔ 

(آیت) ” والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا “۔ (العنکبوت : ٦٩) 

ترجمہ : اور جن لوگوں نے ہماری راہ میں جہاد کیا ‘ ہم ضرور انہیں اپنی راہیں دکھائیں گے۔ 

اس کی تائید ان احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ 

حضرت معاویہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ فرماتا ہے ‘ اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٧١‘ ٣١١٦‘ ٣٦٤١‘ ٧٣١٢‘ ٧٤٦٠‘ صحیح مسلم ‘ الامارہ ‘ ١٠٣٧‘ سنن الترمذی ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٤٧) 

امام ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ ابو جعفر سے روایت کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ اللاسلام “۔ تو صحابہ نے پوچھا اس کا شرح صدر کیسے ہوگا ؟ آپ نے فرمایا جب اس کے دل میں نور نازل ہوگا تو اس کا سینہ کھل جائے گا ‘ صحابہ نے پوچھا کیا اس کو پہچاننے کی کوئی علامت ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس کا دل آخرت کی طرف راغب ہوگا اور دنیا سے وہ پہلو بچائے گا اور موت کے آنے سے پہلے وہ موت کے لیے تیار رہے گا۔ (جامع البیان ‘ جز ٨ ص ٣٦‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

خلاصہ یہ ہے کہ ان آیات میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ مشرکین جو دعوت اسلام کو مسترد کر رہے ہیں ‘ آپ ان سے رنجیدہ نہ ہوں ‘ جو شخص اللہ کے ارادہ اور اس کی تقدیر میں ایمان لانے کا اہل ہوگا ‘ اللہ اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دے گا ‘ جیسا کہ ان آیات میں ہے : 

(آیت) ” ا فمن شرح اللہ صدرہ اللاسلام فھو علی نور من ربہ “۔ (الزمر : ٢٢) 

ترجمہ : تو جس شخص کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا وہ اپنے رب کی طرف سے (عظیم) نور پر ہے۔ 

(آیت) ” ولکن اللہ حبب الیکم الایمان وزینہ فی قلوبکم وکرہ الیکم الکفر والفسوق والعصیان اولئک ھم الرشدون “۔ (الحجرات : ٧)

ترجمہ : لیکن اللہ نے تمہیں ایمان کی محبت عطا کی اور اس کو تمہارے دلوں میں مزین کردیا اور کفر اور فسق اور معصیت سے تمہیں متنفر کردیا ‘ یہی لوگ کامل ہدایت یافتہ ہیں۔ 

اور جس شخص نے شرک سے اپنی فطرت کو فاسد کردیا اور فسق اور معصیت سے اپنے دل کو میلا کردیا ‘ وہ اسلام کو قبول کرنے سے اپنے دل میں شدید تنگی اور گھٹن محسوس کرتا ہے اور کسی بھی نیکی کے لیے اس کے دل کے دروازے نہیں کھلتے۔ جیسے کوئی شخص اپنے میلان طبعی کے خلاف آسمان کی جانب چڑھ رہا ہو تو اس کو اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اسی طرح اس کے اوپر اللہ شیطان کو مسلط کر دے گا اور اسی طرح ان لوگوں پر بھی جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے سے انکار کرتے ہیں ‘ پھر شیطان اس کو گمراہ کردے گا اور سیدھے راستہ سے بھٹکا دے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 125