*مرحوم حاجی یعقوب گنگ، والدِ گرام حاجی عبد الحبیب*

از قلم مفتی علی اصغر عطاری

4 صفر المصفر 1441

4 اکتوبر 2019

*شیخ الحدیث والتفسیر حضرت فیض احمد اویسی صاحب علیہ الرحمہ* کے صاحبزادے مولانا فیاض اویسی صاحب کا مضمون نظر سے گزرا تو یاد آیا کہ میری بھی سفر حج کے دوران عبد الحبیب بھائی کے والد صاحب حاجی یعقوب گنگ کے ساتھ رفاقت رہی.

وہ بخاری مسجد کھارادر کے ٹرسٹی بھی تھے جہاں ہمارا دار الافتاء اہلسنت نورالعرفان قائم ہے دار الافتاء تو تقریبا 2003 میں قائم ہوا لیکن میں وہاں 2004 سے اب تک ہوں الحمد للہ.

اس جگہ دار الافتاء کے قیام میں مرحوم حاجی یعقوب گنگ کی کافی کوشش شامل تھی میرا حسن ظن ہے مرحوم حاجی صدیق جو مسجد کمیٹی کے صدر تھے اور مرحوم حابی یعقوب گنگ کے لئے علم دین کا یہ فیضان اور مرکز یقینا صدقہ جاریہ بنے گا اس دار الافتاء کے اصل بانی تو مرحوم مفتی فاروق صاحب علیہ الرحمہ تھے جنہوں نے اس جگہ پر فتوی نویسی کا آغاز کیا اور 2005 تک وہ یہاں بطور رئیس دار الافتاء کے موجود ریے لیکن انتظامی امور اور جگہ کی فراہمی ان دو افراد کے تعاون و محنت سے ممکن ہوئی

مرحوم حاجی یعقوب گنگ کے ساتھ مختلف مواقع پر ملاقاتیں رہیں وہ ایک طرف اپنی تجارتی فیلڈ یان مارکیٹ کے بہت بڑے تاجر تھے تو دوسری طرف دینی حوالے سے بہت متحرک اور دین کا درد رکھنے والے فرد تھے

ایک مرتبہ تو میں نے ان کو ایک خط لکھ کر بھیجا تھا کہ بخاری مسجد میں صفائی ستھرائی اور دیگر چیزوں میں بہتری لائی جائے. پرانی کمیٹی بات سن لیتی تھی اس پر عمل داری بھی کرتی تھی. جو کام خلاف شرع نظر آتا انہیں بتایا جاتا تو فورا اس کا خاتمہ ہوتا.

مجھے یاد آیا کہ بخاری مسجد کی سابقہ کمیٹی کے ایک اور رکن بھی دنیا میں نہیں رہے ان کا دار الافتاء کے ساتھ بہت ہی مثالی تعاون ہوا کرتا تھا مرحوم عبد اللہ عطاری جو مدینہ شریف میں مقیم معروف سنی شخصیت حنیف اللہ والے کے بھائی تھے اچانک دنیا سے چلے گئے بمشکل عمر پچاس پچپن سال ہوگی ان کی اس صفت سے پوری مسجد واقف تھی کہ کیسے ہی حالات ہوں عبد اللہ بھائی کی پہلی صف کبھی نہیں چھوٹتی تھی.

میں نے احکام تجارت کوئی 2009 یا 2010 میں شروع کیا ہوگا عبد الحبیب بھائی اس کے پہلے میزبان تھے تو مرحوم حاجی یعقوب گنگ بڑے شوق سے یہ پروگرام دیکھتے تھے مجھے ایک دفعہ کہا کہ آپ بہت صحیح جا رہے ہیں اور بزنس مینوں کی نبض پر ہاتھ رکھا ہے۔

دار الافتاء کے اخراجات اگرچہ مدنی مرکز سے براہ راست پورے کیے جاتے ہیں لیکن مرحوم واحد آدمی تھےجن کے آفس سے دار الافتاء کے اخراجات کی مد میں کوئی دس سے بارہ سال تک مسلسل ماہانہ ایک مناسب رقم موصول ہوتی رہی جو مدنی مرکز سے براہ راست ایک تعاون تھا۔

ان کی دینی کاموں میں دلچسپی اور مختلف اہل سنت کی تنظیمات و مدارس اور اداروں کے ساتھ خیر خواہی کی اطلاعات ملتی ہی رہتیں تھیں۔

*خود امیر اہل سنت نے ان کے جنازہ کے موقع پر فون کال کے ذریعے اپنے تاثرات میں بتایا کہ مرحوم نے کس کس انداز میں امیر اہل سنت کے ساتھ جانی و مالی تعاون کیا اور ابتدائے دعوت اسلامی سے معاون و مدد گار رہے*۔

امیر اہل سنت نے حج کے طریقے و مسائل پر کتاب رفیق الحرمین بھی ان کے گھر میں عارضی مکتب قائم کر کے لکھی کیوں کہ کتاب لکھنے کےلیے یکسوئی اور تنہائی کی ضرورت تھی اور لوگوں کے ملاقات کی کثرت اورمعروف جگہوں پر تنہائی کے میسر نا آنے پر ایک غیر معلوم جگہ بیٹھ کر کام کرنا ضروری تھا۔

لھذا مسلسل 7 ماہ تک امیر اہل سنت کا قیام ان کے گھر پر رہا اس دوران بس کبھی کبھار آپ عصر کی نماز شہید مسجد پڑھنے آتے تھے تا کہ جو لوگ ملاقات کے لئے آئے ہوتے ان سے ملاقات ہو سکے.

انہوں کلفٹن کراچی میں واقع اپنے بنگلہ کا ایک پورا فلور حوالے کیا ہوا تھا اور جہاں دعوت اسلامی کے مختلف تنظیمی مشورے ہوتے رہے بطور خاص چل مدینہ کا قافلہ بننے پر جو افراد کا تعین ہوتا وہ کئی سال تک ان کے گھر ہی پر ہوتا رہا

*کوئی بھی شخص جب دنیا سے جاتا ہے تو اس کے ساتھ گزرے لمحات اور باتیں یاد آنا ایک فطری امر ہے* _لیکن اگر کسی شخص نے دنیا میں دینی خدمات انجام دیں ہوں_ ، *کار خیر میں حصہ لیا ہو تو پھر ان کے انتقال پر دل میں محبت اور احترام کی مزید یاد تازہ ہو جاتی ہے* ۔

مرحوم ایک بزنس مین تھے

کوئی باقاعدہ دینی تعلیم یافتہ نہیں تھے انہوں نے بھی دنیا میں بہت بھولیں کی ہوں گی لیکن *بندہ چلا جاتا ہے اس کے اچھے کام یاد رکھے جاتے*

👈🌹اللہ تعالی نے بہت سارے لوگوں کو نوازا ہے

لیکن ہر شخص کو یہ توفیق نہیں ملتی کہ دین کے کاموں میں حصہ لے اپنا وقت اور مال دین کی راہ میں خرچ کرے

*بعض اوقات کچھ لوگ صرف مال خرچ کرنا چاہتے ہیں لیکن خود ان کے اندر دین کے کاموں کے لئے وقت دینے کا جذبہ نہیں ہوتا.*

👈🌹 ایسے لوگ اگر وقت بھی نکالیں اور خود دلچسپی لیں خود اپنے اولاد کو نیک راستے پر لگائیں تو موثر و دہرا فائدہ ہوتا ہے۔

👈🌹مرحوم کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ انہوں نے عام سیٹھوں کی طرح دینی کاموں میں صرف چندہ نہیں دیا بلکہ خود بھی عملی طور ہر شامل ہوئے. *لھذا دینی ماحول کی لذت پائی اولاد کو نیک راستے پر لگایا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حرمین طیبین کی وہ محبت پائی کہ ان کی اولاد کے لئے بھی گتنی میں شمار کرنا مشکل ہو کہ ہمارے والد کتنی بار مدینہ شریف گئےہوں گے اور انہوں نے کتنے حج و عمرے کیے ہوں گے*

نیچے درج مضمون میں قبلہ فیض احمد اویسی صاحب کے صاحب زادے کا مضمون مدینہ شریف ہی کے سفر اور یادوں پر مشتمل ہے.

دعا ہے کہ اللہ تعالی مرحوم کی قبر پر انوار و تجلیات کی بارش فرمائے اور ان کے دنیا میں کیے گئے نیک کاموں پر اپنے فضل سے بہتر جذبہ عطا فرمائے. اس کے علاوہ بخاری مسجد کے جن مرحوم کمیٹی اراکین کا تذکرہ ہوا ان کے حق میں بھی یہ دعائیں قبول فرمائے ایک اور ٹرسٹی ممبر حاجی رحمت بھی دنیا میں نہیں رہے اللہ پاک ان کی بھی مغفرت فرمائے

………

*قبلہ حضرت فیض احمد اویسی صاحب کے صاحبزادے کا مضمون ملاحظہ ہو*

👇

وہ میرے سفرکے امیرتھے

غالبا سن 2017ء ؁ فقیر (کراچی ) باب المدینہ سے پی آئی اے کی فلائٹ سے مدینہ منورہ حاضری کے لیے جارہا تھا امیگریشن کے بعد انتظارگاہ کی طرف جاتے ہوئے ایک نورانی شکل والے بابا دیکھائی دیئے فقیرکے ذہن حضورنبی کریم روف ورحیم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان یادآیا جس خلاصہ کچھ اس طرح ہے ۔کہ سفرپہ جاتے ہوئے ایک امیرمقررکرلیا جائے تو سفرآسان ہوتا ہے فقیرنے سوچا مبارک سفرہے بابا جی کا چہرہ سنت رسول (داڑھی شریف ) سے سجا ہے اور چہرہ بھی نورانی ہے کیوں نہ آج کے سفر کا انہیں امیربنالیا جائے فقیران کے نزدیک ہوا پوچھا بزرگو ں کہا جارہے ہیں بڑے ادب واحترام اور خوشی سے جھوم کر کہنے لگے مدینہ شریف اب یقین ہوگیا کہ ان کا چہرے کی طرح دل بھی نورانی ہے فقیر نے عرض کیا پھرآپ ہمارے سفرکے امیرہیں کہنے لگے آپ ماشاء اللہ صحت جوان ہیں امیرآپ ہیں فقیرنے کہا آپ عمرمیں علم اور عمل میںبڑے ہیں سفرمبارک ہے امیرکے لیے میرا انتخاب صحیح ہے خوش طبعی کرتے ہوئے کہنے لگے کہ میں ضعیف ہوں آپ کا سامان نہیں اُٹھا سکوںگا ۔ فقیرنے عرض کیا آپ کے اوراپنے سامان اُٹھانے کی ذمہ داری میرے سپرد کردیں وہ ائیرپورٹ میں چائے پینے کے لیے ہوٹل میں جانے لگے تو کہاچلیں آپ کو چائے پلاؤں فقیرنے کہا آپ چلیں تشریف رکھیں میں چائے لاتا ہوں کہنے لگے میراکارڈ ہے اسی کے ذریعے پیمنٹ ہوتی ہے فقیرانتظارگاہ میں چلاگیا تھوڑی دیربعد وہ تشریف لائے تو اعلان ہوا مدینہ منورہ جانے والے مسافرجہازمیں تشریف لے جائیں ۔ ہم جہاز میںجانے لگے تو میں نے عرض کیا آپ امیر ہیںآگے چلیں جہازمیں ہماری سیٹیں قدرے دورتھیں مگردل قریب تھے مدینہ منورہ پہنچے تو امگریشن کی طرف جاتے ہوئے فقیر نے انہیں آگے رہنے کا عرـض کیا کہ آپ امیرہیں پھر حصول سامان کے بعد فقیرباہرآگیا احباب لینے آئے ہوئے تھے میں نے عرض کیا حاجی صاحب آپ میرے ساتھ چلیں کہنے لگے جزاک اللہ خیرمجھے لینے کے لیے بچے آئے ہونگے ۔میں اپنے رہائش گاہ چلاگیا دودن بعد حرم نبوی شریف غالباً باب بلال کے اندرملے فقیرنے عرض کیاحاجی صاحب آپ میرے امیر سفرہیں تو مسکرادیئے مصافحہ کرنے کے بعد چل دیئے چندبعد حاجی محمدحنیف اللہ والہ کے ساتھ مدینہ منورہ میںکہیں ملے تو انہوں نے میرا تعارف کرایا کہ حضرت فیض ملت علیہ الرحمہ کے بیٹے ہیں اوران کا بھی تعارف کرایا کہ یہ حاجی عبدالحبیب قادری عطاری کے والدمحترم حضرت حاجی محمدیعقوب قادری ہیں فقیر نے کہایہ تومیرے سفرمدینہ طیبہ کے امیرہیں آج جب ہمیں ایک دوسرے کا تعارف ہوا خوشی مزیدہوئی پھر حضرت قطب مدینہ کے آستانہ پر بارہا مرتبہ ملے جب ملتے تو فقیرانہیں امیرسفرکہہ کریاد کرتا بہت خوش ہوتے بہت ہی شفیق انسان تھے کم گو تھے محبت مدینہ طیبہ سے سرشارتھے اکثران سے مدینہ منورہ میں ملاقات ہوتی تھی دو دن قبل ان کی بیماری کی اطلاع ملی تو فقیرنے بہت دعا کی آج 30محرم الحرام 1441ھ پیرشریف کو ان کے انتقال کی خبرسنکرصدمہ ہوا انا للّہ وانا الیہ راجعون ۔ اللہ تعالی ان کی بے حساب مغفرت فرمائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے ۔پسماندگان کو صبرجمیل عطاء فرمائے آمین ثم آمین

مدینے کا بھکاری الفقیرالقادری محمدفیاض احمداویسی رضوی جامعہ اویسیہ رضویہ سیرانی مسجدبہاولپور