أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا جَآءَتۡهُمۡ اٰيَةٌ قَالُوۡا لَنۡ نُّـؤۡمِنَ حَتّٰى نُؤۡتٰى مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِىَ رُسُلُ اللّٰهِؔ‌ۘؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ حَيۡثُ يَجۡعَلُ رِسٰلَـتَهٗ‌ ؕ سَيُصِيۡبُ الَّذِيۡنَ اَجۡرَمُوۡا صَغَارٌ عِنۡدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيۡدٌۢ بِمَا كَانُوۡا يَمۡكُرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے حتی کہ ہمیں بھی اس کی مثل دیا جائے جیسا اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے ‘ اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ وہ کس جگہ اپنی رسالت کو رکھے گا ‘ عنقریب مجرموں کو اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب پہنچے گا کیوں کہ وہ فریب کاری کرتے تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے حتی کہ ہمیں بھی اس کی مثل دیا جائے جیسا اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے ‘ اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ وہ کس جگہ اپنی رسالت کو رکھے گا ‘ عنقریب مجرموں کو اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب پہنچے گا کیوں کہ وہ فریب کاری کرتے تھے۔ (الانعام : ١٢٤) 

حصول نبوت کا معیار : 

ولید بن مغیرہ نے کہا کہ اگر نبوت حق ہوتی تو آپ سے زیادہ میں نبوت کے لائق تھا ‘ کیونکہ میں آپ سے عمر میں بھی بڑا ہوں اور میرے پاس مال بھی زیادہ ہے اور ابوجہل نے کہا بخدا ہم اس وقت تک ان سے راضی نہیں ہوں گے اور ان کی پیروی نہیں کریں گے جب تک کہ ہمارے پاس اس طرح وحی نہ آئے جس طرح ان کے پاس آتی ہے ‘ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی : اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ وہ کس جگہ اپنی رسالت کو رکھے گا۔ 

ضحاک نے بیان کیا ہے کہ ہر کافر یہ چاہتا تھا کہ اس کو وحی اور رسالت کے ساتھ خاص کرلیا جائے ‘ جیسا کہ اس آیت میں ہے :

(آیت) ” بل یرید کل امری منھم ان یؤتی صحفا منشرۃ “۔ (المدثر : ٥٢) 

ترجمہ : بلکہ ان میں سے ہو شخص شخص یہ چاہتا ہے کہ کھلے ہوئے آسمانی صحیفے اس کو دے دیئے جائیں۔ 

امام فخرالدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ فرماتے ہیں ‘ حصول نبوت کے مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ نفس حقیقت کے لحاظ سے تمام انسان حصول نبوت میں مساوی ہیں اور بعض انسانوں کا رسالت کے ساتھ مخصوص ہونا ‘ یہ محض اللہ کا فضل اور احسان ہے اور بعض علماء نے یہ کہا کہ نفوس انسانیہ اپنی ذات کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں ‘ بعض روحیں پاکیزہ ہوتی ہیں ‘ تعلقات جسمانیہ سے منزہ اور انوار الہیہ سے منور ہوتی ہیں اور بعض روحیں خسیس اور ملدر ہوتی ہیں اور جسمانی تعلقات میں جکڑی ہوتی ہیں۔ پس اس قسم کی روحیں حصول وحی کی صلاحیت نہیں رکھتیں اور پہلی قسم کی روحیں حصول وحی کی صلاحیت رکھتی ہیں ‘ پھر ان میں بھی مراتب اور درجات ہیں۔ اس لیے نبیوں اور رسولوں کے درجات بھی متفاوت ہیں ‘ بعض کی عمر اور معجزات زیادہ ہوتے ہیں اور انکے پیروکار کم ہوتے ہیں۔ اور بعض کی عمر اور معجزات کم ہوتے ہیں اور ان کے پیروکار زیادہ ہوتے ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٥ ص ١٣٧۔ ١٣٦ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٥ ھ) 

حکماء کے نزدیک استحقاق نبوت کی صفات اور ان کا رد :

رسولوں کو بھیجنے کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ جو لوگ عبادات میں سخت ریاضات کریں اور خلوت میں مجاہدے کریں اور دنیا سے منقطع ہو کر اللہ کی عبادت کریں اور جن کے جوہر ذات میں گناہوں کی کدورتوں اور ظلمتوں سے تجرد اور تنزہ ہو اور ان کی فطرت باوقار اور روشن ہو اور وہ غایت درجہ کی ذکی ہوں ‘ ان کو اللہ تعالیٰ رسول بنا لیتا ہے ‘ بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کرلیتا ہے۔ لہذا نبوت اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی عطا ہے جو اس کی مشیت کے ساتھ متعلق ہے ‘ اور اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کو کس جگہ رکھے گا ؟ (الانعام : ١٢٤) اور یہی اہل حق کا مذہب ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ قادر مختار ہے۔ وہ جو چاہتا ہے اور جو پسند کرتا ہے وہی کرتا ہے۔ اس کے برخلاف فلاسفہ نے یہ کہا کہ نبی وہ شخص ہے جس میں تین خواص مجتمع ہوجائیں : 

(١) اس کو ماضی ‘ حال اور مستقبل کے تمام مغیبات پر اطلاع ہو۔ 

(٢) اس کا مجردات عالیہ اور نفوس سماویہ کے ساتھ ارتباط اور تعلق ہو ‘ اور اس کے کانوں میں کلام منظم سنائی دے جس کو یاد کیا جائے اور جس کی تلاوت کی جائے اور یہی وحی ہے۔ 

(٣) اس پر فرشتہ اور کتاب کا نزول ہو جس میں نظام معاش ‘ نجات ‘ آخرت اور بندوں کی اصلاح اور فلاح کے احکام کا بیان ہو۔ 

ان کے نزدیک جو شخص اوصاف ثلاثہ کا حامل ہو اس کا نبی ہونا واجب ہے ‘ لیکن سورة الانعام : ١٢٤‘ کی روشنی میں ان کا یہ قول باطل ہے۔ نیز اللہ پر کوئی چیز واجب نہیں ہے اور ان میں سے بعض اوصاف غیر نبی میں بھی پائے جاتے ہیں۔ مثلا اولیاء اللہ کو بھی بعض مغیبات کا علم ہوتا ہے ‘ اور تمام اوصاف بعض انبیاء میں نہیں پائے جاتے ‘ مثلا ہر نبی پر کتاب کا نزول نہیں ہوتا۔ rnّ (شرح مقاصد ‘ ج ٥‘ ص ٢٥۔ ١٩‘ ملخصا ‘ مطبوعہ ایران ‘ ١٤٠٩ ھ ‘ شرح مواقف ‘ ج ٨‘ ص ٢٢٢‘ ملخصا ‘ مطبوعہ ایران) 

اہل حق کے نزدیک ثبوت نبوت کا منشاء : 

علامہ محمد السفارینی الحنبلی المتوفی ١١٨٨ ھ لکھتے ہیں : 

رسولوں کو بھیجنا ‘ کتابوں کو نازل کرنا اور شریعتوں کو مقرر کرنا ‘ اللہ تعالیٰ کا احسان اور فضل ہے ‘ یہ اس پر واجب نہیں ہے۔ 

حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک اللہ تعالیٰ نے جس قدر نبی اور رسول بھیجے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف اور کرم ہے۔ تاکہ وہ اللہ سبحانہ کے امر اور نہی اور وعد اور وعید کو بیان کریں اور اللہ کی طرف سے اس کے بندوں کو یہ بتائیں کہ وہ اپنے معاش اور معاد میں کن احکام کے محتاج ہیں۔ بندے تین اصولوں کی معرفت میں رسولوں کے محتاج ہیں : 

(١) اللہ تعالیٰ کی توحید ‘ اس کی صفات ‘ تقدیر ‘ ملائکہ اور اللہ کے اولیاء اور اعداء کے انجام کا بیان۔ 

(٢) احکام شرعیہ کی تفصیل کیا چیز حلال ہے اور کیا چیز حرام ہے اور اللہ تعالیٰ کو کیا پسند اور کیا ناپسند ہے ؟ 

(٣) قیامت ‘ جنت ‘ دوزخ ‘ حساب و کتاب اور ثواب اور عذاب۔ 

نبی کی صفات لازمہ :

نبی کے لیے ضروری ہے کہ وہ جس قوم کی طرف مبعوث ہو ‘ وہ اس میں سب سے اشرف اور مکرم ہو اور وہ آزاد ہو کیونکہ غلامی ایک نقص ہے جو مقام نبوت کے لائق نہیں ہے اور مرد ہو ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

(آیت) ” وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیھم “۔ (یوسف : ١٠٩) 

ترجمہ : اور ہم نے آپ سے پہلے مردوں کے سوا کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا۔ 

اس آیت کی بناء پر جمہور اہل سنت کے نزدیک عورت کا نبی ہونا جائز نہیں ہے۔ امام ابو الحسن اشعری اور علامہ قرطبی مالکی کا اس میں اختلاف ہے۔ یہ حضرات حضرت مریم ‘ آسیہ ‘ سارہ ‘ ھاجرہ ‘ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی نبوت کے قائل ہیں۔ نیز نبی کے لیے ضروری ہے کہ ہو قوی ہو ‘ فہیم اور عالم ہو اور اس کے اخلاق عمدہ ہوں ‘ تاکہ لوگ سہولت کے ساتھ اس سے استفادہ کرسکیں۔ انبیاء (علیہم السلام) بخل ‘ بزدلی ‘ لغو ‘ اور بےفائدہ کاموں اور تمام رذائل سے مجتنب ہوتے ہیں۔ اسی طرح وہ دنیا کی حرص سے بھی منزہ ہوتے ہیں اور اپنی قوم میں ان کا نسب سب سے عمدہ اور اشرف ہوتا ہے۔ 

خلاصہ یہ ہے کہ عقل ‘ ذکاوت اور شجاعت کے لحاظ سے وہ نوع انسان کے کامل ترین فرد ہوتے ہیں اور وہ ہر ایسی صفت و کیفیت سے منزہ ہوتے ہیں جس سے طبیعت سلیمہ متنفر ہو۔ مثلا ان کے آباان کے آباء میں کوئی رذالت نہیں ہوتی ‘ نہ ان کی ماؤں کی طرف بدکاری کی نسبت ہوتی ہے اور نہ ان پر کوئی ایسی بیماری آتی ہے جس سے لوگ متنفر ہوں ‘ مثلا برص اور جذام وغیرہ۔ اور نہ وہ عامیانہ کام کرتے ہیں ‘ مثلا بازاروں میں چلتے پھرتے اور کھاتے نہیں اور نہ کوئی ایسا کسب کرتے ہیں جو لوگوں میں معیوب سمجھا جاتا ہو۔ 

بدن کو گناہوں کی کدورت سے پاک کرنے اور عمدہ اخلاق کے ساتھ متصف ہونے اور سخت عبادت اور ریاضت کرنے سے نبوت و رسالت حاصل نہیں ہوتی۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہے ‘ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے ‘ نبوت عطا فرماتا ہے۔ لیکن استقرار تام اور تتبع سے اور قرآن اور حدیث کے دلائل سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کو بھی نبوت عطا فرمائی ‘ وہ مذکورالصدر صفات کا حامل تھا۔ لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ جس شخص میں یہ صفات ہوں وہ نبی ہو ‘ اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ وہ کس جگہ اپنی نبوت کو رکھے گا۔ پہلے نبی حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور آخری نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوسکتا ‘ اولوالعزم پانچ ہیں حضرت نوح ‘ حضرت ابراہیم ‘ حضرت موسیٰ ‘ حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ کل نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں۔ ان میں سے تین سو تیرہ رسول ہیں۔ 

(لوامع الانوار البھیہ ‘ ج ٢‘ ص ٢٦٩۔ ٢٥٦‘ ملخصا مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 124