أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَهٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسۡتَقِيۡمًا‌ ؕ قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّذَّكَّرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور یہ آپ کے رب کا (پسندیدہ) سیدھا راستہ ہے، ہم نے نصیحت قبول کرنے والوں کے لیے تفصیل سے آیتوں کو بیان کردیا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یہ آپ کے رب کا (پسندیدہ) سیدھا راستہ ہے، ہم نے نصیحت قبول کرنے والوں کے لیے تفصیل سے آیتوں کو بیان کردیا ہے۔ (الانعام : ١٢٦) 

اس آیت کا معنی ہے ‘ یہ اسلام جس کے لیے اللہ تعالیٰ مومنوں کا سینہ کھول دیتا ہے ‘ یہی آپ کے رب کا وہ طریقہ ہے جس کو اس نے لوگوں کے لیے پسند کرلیا ہے اور یہی طریق مستقیم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا بیان کیا ہوا راستہ مستقیم ہی ہوتا ہے ‘ جیسا کہ اس حدیث میں قرآن مجید کے متعلق ہے : 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے اور یہ ذکر حکیم ہے اور یہ صراط مستقیم ہے۔ (سنن الترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٢٩١٥‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ) 

ہم نے نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے تفصیل سے آیتوں کو بیان کردیا ہے ‘ اور جو لوگ اسلام پر صحیح عمل کرتے ہیں ‘ ان کے لیے جنت ہے جو سلامتی کا گھر ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 126