کس کے نزدیک کون منحوس؟

صفرالمظفر کا مہینہ آتے ہی یہ بحث شروع ہو جاتی ہے کہ یہ مہینہ منحوس ہے یا نہیں؟

ہماری بدقسمتی ایک یہ بھی ہے کہ ہم اپنی مرضی کی ہر چیز کو اسلام کا لیبل لگا کر ” میڈ ان اسلام” بنانا چاہتے ہیں….

نحوست کا تصور سمجھنے سے پہلے یہ بات ذہن نشین کیجئے…

کیا دنیا کا کوئی قانون ایک مجرم کی سزا کسی دوسرے بے گناہ کو دیتا ہے؟

جواب ہوگا…….. ہرگز نہیں

کائنات میں سب سے بڑا منصف تو اللہ تعالی ہے

تو اللہ تعالی ایک گناہ گار کی سزا کسی دوسرے کو کیوں دے گا؟

چور کسی کے گھر کی دیوار پھلانگے چوری کی غرض سے، اور ٹانگ ٹوٹ جائے، تو کیا چور یہ کہے گا کہ یہ گھر بڑا منحوس ہے …

اب فیصلہ ہم نے کرنا ہے چور کا عمل منحوس ہے یا جس گھر میں چوری کرنے گیا؟

پولیس جواری کو گرفتار کرلے تو وہ کہے آج میرے ساتھ ہی ہونا ہی تھا آج منگل کا دن ہے ..

دیکھنا یہ ہے جوا کھیلنا منحوس تھا یا منگل کا دن؟

زانی گناہ میں مبتلا ہوں اوپر سے اس کا باپ آجائے تو وہ زانی کہے یہ جگہ بڑی منحوس ہے..

دیکھنا یہ ہے کہ اس کا گناہ نحوست ہے یا جگہ؟

اسی طرح کفار کا انبیاء (علیہم السلام) کو بدشگون اور منحوس کہنا…

اب آتے ہیں قرآن کریم کے چند مقامات کی طرف

سورہ یاسین میں ہے….

قَالُوۡۤا اِنَّا تَطَیَّرۡنَا بِکُمۡ ۚ لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَہُوۡا لَنَرۡجُمَنَّکُمۡ وَ لَیَمَسَّنَّکُمۡ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۸﴾

(کافر لوگ) انبیاء سے بولے ہم تمہیں منحوس سمجھتے ہیں بیشک اگر تم (تبلیغ سے ) باز نہ آئے تو ضرور ہم تمہیں سنگسار کریں گے بیشک ہمارے ہاتھوں تم پر دکھ کی مار پڑے گی،

قَالُوۡا طَآئِرُکُمۡ مَّعَکُمۡ ؕ اَئِنۡ ذُکِّرۡتُمۡ ؕ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴿۱۹﴾

انہوں (رسولوں ) نے فرمایا تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہے(یعنی گناہ) کیا اس پر غصہ ہوتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی، بلکہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو.-

بستی والوں نے رسولوں کے وعظ اور تقریر کے جواب میں کہا ہم تو تم کو منحوس سمجھتے ہیں ، مجاہد نے کہا کہ ان کے قول کا مطلب یہ تھا کہ جب بھی تم جیسا کوئی شخص کسی بستی میں گیا تو اس کی وجہ سے اس بستی والوں پر عذاب آیا…

حالانکہ وجہ نیک بندے کا اس بستی میں آنا نہیں تھا، بلکہ نحوست ان کے اپنے گناہوں کی تھی….

کفار اسی طرح نبیوں اور رسولوں کے متعلق تبصرے کیا کرتے تھے،

چناچہ فرعون کی قوم نے بھی حضرت موسی (علیہ السلام) کے متعلق اسی طرح تبصرہ کیا تھا، قرآن مجید میں ہے

فَاِذَا جَآءَتۡہُمُ الۡحَسَنَۃُ قَالُوۡا لَنَا ہٰذِہٖ ۚ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ سَیِّئَۃٌ یَّطَّیَّرُوۡا بِمُوۡسٰی وَ مَنۡ مَّعَہٗ ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُہُمۡ عِنۡدَ اللَّهِ… (الاعراف : ١٣١)

تو جب انہیں بھلائی ملتی کہتے یہ ہمارے لیے ہے اور جب برائی پہنچتی تو موسیٰ اور اس کے ساتھ والوں سے بدشگونی لیتے سن لو ان کے نصیبہ کی شامت تو اللہ کے یہاں ہے….

اسی طرح حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے کہا ہم تم کو اور تمہارے اصحاب کو منحوس سمجھتے ہیں،

اس کے متعلق اللہ تعالی کا ارشاد ہے :-

قَالُوا اطَّیَّرۡنَا بِکَ وَ بِمَنۡ مَّعَکَ ؕ قَالَ طٰٓئِرُکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تُفۡتَنُوۡنَ.. (النمل : ٤٧)

صالح علیہ السلام نے کہا تمہاری نحوست تمہارے گناہوں کے سبب،،، اللہ کے نزدیک ہے، بلکہ تم لوگ فتنہ میں مبتلا ہو۔

اسی طرح منافقین، ہمارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق بھی اسی طرح کہا کرتے تھے ، قرآن مجید میں ہے :-

وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ حَسَنَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا ہٰذِہٖ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ۚ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ سَیِّئَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا ہٰذِہٖ مِنۡ عِنۡدِکَ ؕ قُلۡ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ والمحصنت : سورۃ النسآء : آیت 78

اور اگر انہیں کوئی بھلائی ملتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اگر کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہہ اٹھتے ہیں کہ (اے محمد ) یہ تیری طرف سے ہے انہیں کہہ دو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ نحوست بندے کے اپنے اعمال کی ہوتی ہے..

مگر انسان کبھی اسے دن پر، کبھی کسی مہینے پر اور کبھی کسی شخصیت پر ڈال دیتا ہے…

اور کچھ نہ ہو تو مولوی تو کہیں گیا ہی نہیں، بڑے آرام سے کہہ دیں گے ملک کا بیڑہ مولویوں نے غرق کر دیا ہے…

کسی کو منحوس کہنے سے پہلے…..

کدی اپنی منجھی تھلّے وی ڈانگ پھر لیا کرو.….

تحریر :۔. محمد یعقوب نقشبندی اٹلی