یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ ﳕ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ(۵۱)

اے ایمان والو یہود و نصارٰی کو دوست نہ بناؤ(ف۱۳۲) وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں (ف۱۳۳) اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے (ف۱۳۴) بے شک اللہ بے انصافوں کو راہ نہیں دیتا (ف۱۳۵)

(ف132)

مسئلہ : اس آیت میں یہود و نصارٰی کے ساتھ دوستی و موالات یعنی ان کی مدد کرنا ، ان سے مدد چاہنا ، ان کے ساتھ مَحبت کے روابط رکھنا ممنوع فرمایا گیا یہ حکم عام ہے اگرچہ آیت کا نُزول کسی خاص واقعہ میں ہوا ہو ۔

شانِ نُزول : یہ آیت حضرت عبادہ بن صامت صحابی اور عبداللہ بن اُ بَی بن سلول کے حق میں نازل ہوئی جو منافقین کا سردار تھا ۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہود میں میرے بہت کثیر التعداد دوست ہیں جو بڑی شوکت و قوت والے ہیں ، اب میں ان کی دوستی سے بیزار ہوں اور اللہ و رسول کے سوا میرے دل میں اور کسی کی مَحبت کی گنجائش نہیں ، اس پر عبداللہ بن اُ بَی نے کہا کہ میں تو یہود کی دوستی سے بیزاری نہیں کر سکتا ، مجھے پیش آنے والے حوادث کا اندیشہ ہے اور مجھے ان کے ساتھ رسم و رواہ رکھنی ضرور ہے ، حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ یہ یہود کی دوستی کا دم بھرنا تیرا ہی کام ہے ، عبادہ کا یہ کام نہیں اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔ (خازن)

(ف133)

اس سے معلوم ہوا کہ کافِر کوئی بھی ہوں ان میں باہم کتنے ہی اختلاف ہوں ، مسلمانوں کے مقابلہ میں وہ سب ایک ہیں ” اَلْکُفْرُ مِلَّۃ وَّاحِدَۃ” ۔ (مدارک)

(ف134)

اس میں بہت شدّت و تاکید ہے کہ مسلمانوں پر یہود ونصارٰی اور ہر مخالفِ دینِ اسلام سے علیحدگی اور جدا رہنا واجب ہے ۔ (مدارک و خازن)

(ف135)

جو کافِروں سے دوستی کر کے اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ، حضرت ابو موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ کا کاتب نصرانی تھا ، حضرت امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ نصرانی سے کیا واسطہ ؟ تم نے یہ آیت نہیں سنی ” یٰآَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ ، الایۃ ” انہوں نے عرض کیا اس کا دین اس کے ساتھ مجھے تو اس کی کتابت سے غرض ہے ، امیر المومنین نے فرمایا کہ اللہ نے انہیں ذلیل کیا تم انہیں عزّت نہ دو ، اللہ نے انہیں دور کیا تم انہیں قریب نہ کرو حضرت ابو موسٰی نے عرض کیا کہ بغیر اس کے حکومتِ بصرہ کا کام چلانا دشوار ہے یعنی اس ضرورت سے مجبوری اس کو رکھا ہے کہ اس قابلیّت کا دوسرا آدمی مسلمانوں میں نہیں ملتا ، اس پر حضرت امیر المومنین نے فرمایا نصرانی مر گیا والسلام یعنی فرض کرو کہ وہ مر گیا اس وقت جو انتظام کرو گے وہی اب کرو اور اس سے ہرگز کام نہ لو یہ آخری بات ہے ۔ (خازن)

فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآىٕرَةٌؕ-فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ(۵۲)

اب تم انہیں دیکھو گے جن کے دلوں میں آزار (بیماری)ہے (ف۱۳۶) کہ یہود و نصارٰی کی طرف دوڑتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم ڈرتے ہیں کہ ہم پر کوئی گردش آجائے(ف۱۳۷) تو نزدیک ہے کہ اللہ فتح لائے (ف۱۳۸) یا اپنی طرف سے کوئی حکم (ف۱۳۹) پھر اس پر جو اپنے دلوں میں چھپایا تھا (ف۱۴۰) پچتاتے رہ جائیں اور (ف۱۴۱)

(ف136)

یعنی نفاق ۔

(ف137)

جیسا کہ عبداللہ بن اُ بَی منافق نے کہا ۔

(ف138)

اور اپنے رسول محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کو مظفّر و منصور کرے اور ان کے دین کو تمام ادیان پر غالب کرے اور مسلمانوں کو ان کے دشمن یہود و نصارٰی وغیرہ کُفّار پر غلبہ دے چنانچہ یہ خبر صادق ہوئی اور بکرمہٖ تعالٰی مکّہ مکرّمہ اور یہود کے بِلاد فتح ہوئے ۔ (خازن وغیرہ)

(ف139)

جیسے کہ سرزمینِ حِجاز کو یہود سے پاک کرنا اور وہاں ان کا نام و نشان باقی نہ رکھنا یا منافقین کے راز افشاء کر کے انہیں رسوا کرنا ۔ (خازن و جلالین)

(ف140)

یعنی نفاق یا منافقین کا یہ خیال کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کُفّار کے مقابلہ میں کامیاب نہ ہوں گے ۔

(ف141)

منافقین کا پردہ کُھلنے پر ۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْۙ-اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْؕ-حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ(۵۳)

اورایمان والے کہتے ہیں کیا یہی ہیں جنہوں نے اللہ کی قسم کھائی تھی اپنے حَلْف(عہد)میں پوری کوشش سے کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں ان کا کیا دھرا سب اکارت (ضائع)گیا تو رہ گئے نقصان میں (ف۱۴۲)

(ف142)

کہ دنیا میں ذلیل و رسوا ہوئے اور آخرت میں عذابِ دائمی کے سزاوار ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤۙ-اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ٘-یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآىٕمٍؕ-ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۵۴)

اے ایمان والو تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا (ف۱۴۳) تو عنقریب اللہ ایسے لوگ لائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کا پیارا مسلمانوں پر نرم اور کافروں پر سخت اللہ کی راہ میں لڑیں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہ کریں گے (ف۱۴۴) یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے

(ف143)

کُفّار کے ساتھ دوستی و موالات بے دینی و اِرتداد کی مستدعی ہے ، اس کی ممانعت کے بعد مرتدین کا ذکر فرمایا اور مرتد ہونے سے قبل لوگوں کے مرتد ہونے کی خبر دی چنانچہ یہ خبر صادق ہوئی اور بہت لوگ مرتد ہوئے ۔

(ف144)

یہ صفت جن کی ہے وہ کون ہیں اس میں کئی قول ہیں ۔ حضرت علی مرتضٰی و حسن و قتادہ نے کہا کہ یہ لوگ حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے اصحاب ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرتد ہونے اور زکوٰۃ سے منکِر ہونے والوں پر جہاد کیا ۔ عیاض بن غنم اشعری سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو موسٰی اشعری کی نسبت فرمایا کہ یہ ان کی قوم ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ لوگ اہلِ یمن ہیں جن کی تعریف بخاری و مسلم کی حدیثوں میں آئی ہے ۔ سدی کا قول ہے کہ یہ لوگ انصار ہیں جنہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی اور ان اقوال میں کچھ منافات نہیں کیونکہ ان سب حضرات کا ان صفات کے ساتھ متصف ہونا صحیح ہے ۔

اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ(۵۵)

تمہارے دوست نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے (ف۱۴۵) کہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں(ف۱۴۶)

(ف145)

جن کے ساتھ موالات حرام ہے ان کا ذکر فرمانے کے بعد ان کا بیان فرمایا جن کے ساتھ موالات واجب ہے ۔ شانِ نُزول : حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ آیت حضرت عبداللہ بن سلام کے حق میں نازل ہوئی انہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یارسولَ اللہ ہماری قوم قُرَیظہ اور نُضَیر نے ہمیں چھوڑ دیا اور قَسمیں کھا لیں کہ وہ ہمارے ساتھ مجالست (ہم نشینی) نہ کریں گے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی تو عبداللہ بن سلام نے کہا ہم راضی ہیں اللہ تعالٰی کے ربّ ہونے پر ، اس کے رسول کے نبی ہونے پر ، مؤمنین کے دوست ہونے پر اور حکم آیت کا تمام مؤمنین کے لئے عام ہے سب ایک دوسرے کے دوست اورمُحِب ہیں ۔

وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠(۵۶)

اور جو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کو اپنا دوست بنائے تو بے شک اللہ ہی کا گروہ غالب ہے

(ف146)

جملہ ” وَھُمْ رٰکِعُوْنَ” دو وجہ رکھتا ہے ایک یہ کہ پہلے جملوں پر معطوف ہو دوسری یہ کہ حال واقع ہو ، پہلی وجہ اظہر و اقوٰی ہے اور حضرت مُتَرجِم قُدِّس سِرّہٗ کا ترجمہ بھی اسی کے مساعد ہے ۔ (جمل عن السمین) دوسر ی وجہ پر دو احتمال ہیں ایک یہ کہ ” یُقِیْمُوْنَ وَیُؤْ تُوْنَ” دونوں فعلوں کے فاعل سے حال واقع ہو اس صورت میں معنٰی یہ ہوں گے کہ وہ بخشوع و تواضُع نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں ۔ (تفسیر ابوالسعود) دوسرا احتمال یہ ہے کہ صرف” یُؤْتُوْنَ” کے فاعل سے حال واقع ہو ، اس صورت میں معنٰی یہ ہوں گے کہ نماز قائم کرتے ہیں اور متواضع ہو کر زکوٰۃ دیتے ہیں ۔ (جمل) بعض کا قول ہے کہ یہ آیت حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کی شان میں ہے کہ آپ نے نماز میں سائل کو انگُشتری صدقہ دی تھی وہ انگُشتری انگُشتِ مبارک میں ڈھیلی تھی بے عملِ کثیر کے نکل گئی لیکن امام فخر الدین رازی نے تفسیرِ کبیر میں اس کا بہت شدّ و مد سے ردّ کیا ہے اور اس کے بُطلان پر بہت وجوہ قائم کئے ہیں ۔