انبیاء کی فضیلت: انبیائے کرام تمام مخلوق یہاں تک کہ رسل ملائکہ سے افضل ہیں۔ ولی کتنا ہی بڑے مرتبہ والا ہو کسی نبی کے برابر نہیں ہو سکتا۔ جو کسی غیر نبی کو نبی سے افضل یا برابر بتائے کافر ہے۔ نبی کی اطاعت فرض عین بلکہ اصلِ تمام فرائض ہے، کسی نبی کی ادنیٰ توہین یا تکذیب(جھٹلانا) کفر ہے۔

تعدادِ انبیا: انبیا کی کوئی تعداد مُعیّن کرنا جائز نہیں کہ خبریں (احادیث)اس باب میں مختلف ہیں اور تعداد مُعیّن پر ایمان رکھنے میں کسی نبی کو نبوت سے خارج ماننے یا غیر نبی کو نبی جاننے کا احتمال ہے اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں لہٰذا یہ اعتقاد چاہئے کہ اللہ کے ہر نبی پر ہمارا ایمان ہے۔ حضرتِ آدم علیہ السلام سے ہمارے حضور سید عالم ﷺ تک اللہ تعالیٰ نے بہت سے نبی بھیجے، بعض کا صریح ذکر قرآن مجید میں ہے اور بعض کا نہیں۔ جن کے اسمائے طیبہ بالتصریح قرآن مجید میں ہیں وہ یہ ہیں: حضرت آدم علیہ السلام، حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام، حضرت اسحاق علیہ السلام، حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت ہارون علیہ السلام، حضرت شعیب علیہ السلام، حضرت لوط علیہ السلام، حضرت ہود علیہ السلام، حضرت دائود علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت ایوب علیہ السلام، حضرت الیاس علیہ السلام، حضرت الیسع علیہ السلام، حضرت زکریا علیہ السلام، حضرت یحییٰ علیہ السلام ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت یونس علیہ السلام، حضرت ادریس علیہ السلام، حضرت ذوالکفل علیہ السلام، حضرت صالح علیہ السلام، حضور سید المرسلین محمد رسول اللہ ا۔ سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام ہوئے اور سب میں پہلے رسول جو کفار پر بھیجے گئے حضرت نوح علیہ السلام ہیں۔

درجاتِ انبیا: نبیوں کے مختلف درجات ہیں، بعض کو بعض پر فضیلت ہے اور سب میں افضل ہمارے آقا و مولیٰ سید المرسلین ﷺ ہیں۔ حضور کے بعد سب سے بڑا مرتبہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کا ہے پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کا۔ ان حضرات کو مرسلین اولو العزم کہتے ہیں اور یہ پانچوں حضرات باقی تمام انبیا و مرسلین انس و ملک و جن و جمیع مخلوقات الٰہی سے افضل ہیں۔ جس طرح حضورﷺ تمام رسولوں کے سردار اور سب سے افضل ہیں بلا تشبیہ حضور کے صدقے میں حضور کی امت تمام امتوں سے افضل ہے۔

انبیا اللہ عزوجل کے حضور عظیم وجاہت و عزت والے ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک معاذ اللہ چوڑے چمار کی مثل کہنا کھلی گستاخی اور کلمۂ کفر ہے۔

حیاتِ انبیا : انبیا علیہم السلام اپنی اپنی قبروں میں اسی طرح بحیاتِ حقیقی زندہ ہیں جیسے دنیا میں تھے۔ کھاتے پیتے ہیں، جہاں چاہیں آتے جاتے ہیں۔ وعدۂ الٰہیہ کے لئے ایک آن کو ان پر موت طاری ہوئی پھر بدستور زندہ ہو گئے۔ حدیث شریف میںہے ’’اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَأْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَائِ فَنَبِیُّ اللّٰہِ حَیٌّ یُرْزَقُ‘‘ بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام فرمادیا کہ وہ انبیا کے جسموں کو کھائے تو اللہ کے نبی زندہ ہیں روزی دئے جاتے ہیں۔ (مشکوٰۃ)

ان کی حیات شہدا سے بہت ارفع و اعلیٰ ہے۔ شہید کا ترکہ تقسیم ہوگا، اس کی بی بی بعد عدت نکاح کر سکتی ہے بخلاف انبیا علیہم السلام کے کہ وہاں یہ جائز نہیں۔

ضروری نوٹ: انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ و السلام سے جو لغزشیں واقع ہوئی ہیں ان کا ذکر تلاوتِ قرآن اور روایتِ حدیث کے سوا حرام اور سخت حرام ہے۔ اوروں کو ان سرکاروں میں لب کشائی کی کیا مجال، مولیٰ عزوجل ان کا مالک ہے جس محل پر جس طرح چاہے تعبیر فرمائے، وہ اس کے پیارے بندے ہیں، اپنے رب کے لئے جس قدر چاہیں تواضع فرمائیں، دوسرا ان کلمات کو سند نہیں بنا سکتا اور خود ان کا اطلاق کرے گا تو مردودِ بارگاہ ہوگا۔

پھر ان کے یہ افعال جن کو لغزش سے تعبیر کیا جائے ہزارہا حکم و مصالح پر مبنی، ہزارہا فوائد و برکات کے مثمر ہوتے ہیں۔ ایک لغزشِ آدم علیہ السلام کو دیکھئے اگر وہ نہ ہوتی جنت سے نہ اترتے، دنیا آباد نہ ہوتی، نہ کتابیں اترتیں، نہ رسول آتے، نہ جہاد ہوتے، لاکھوں کروڑوں مثوبات کے دروازے بند رہتے، ان سب کا فتحِ باب ایک لغزشِ آدم کا نتیجۂ مباکہ و ثمرۂ طیبہ ہے۔ بالجملہ انبیا علیہم الصلوٰۃ و السلام کی لغزشیں مَن و تو کِس شمار میں ہیں صدیقین کی حسنات سے افضل و اعلیٰ ہیں۔ حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّاٰتُ الْمُقَرَّبِیْنَ۔

عقائد مخصوصہ بخاتم الانبیا ﷺ: سب سے پہلے مرتبۂ نبوت حضورﷺ کو ملا، روزِ میثاق تمام انبیا سے حضور پر ایمان لانے اور حضور کی نصرت کرنے کا عہد لیا گیا اور اسی شرط پر یہ منصب اعظم ان کو دیا گیا۔ حضور نبی الانبیا ہیں اور تمام انبیائے کرام حضورﷺکے امتی ہیں، سب نے اپنے اپنے عہد کریم میں حضورﷺ کی نیابت میں کام کیا۔ اللہ عزوجل نے حضورﷺ کو اپنی ذات کا مظہر بنایا اور حضور کے نور سے تمام عالم کو منور فرمایا۔اور انبیا کی بعثت خاص کسی ایک قوم کی طرف ہوئی، حضور اقدس ﷺ تمام مخلوق انسان و جن بلکہ ملائکہ حیوانات، جمادات سب کی طرف مبعوث ہوئے۔ جس طرح انسان کے ذمہ حضورﷺ کی اطاعت فرض ہے یوں ہی ہر مخلوق پر حضورﷺ کی فرمانبرداری ضروری ہے۔حضور اقدسﷺ ملائکہ و انس و جن و حور و غلمان و حیوانات و جمادات و نباتات غرض تمام عالم کے لئے رحمت ہیں اور مسلمانوں پر تو نہایت ہی مہربان۔ فرمانِ خداوندی ہے ’’وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ‘‘ اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہاں کے لئے۔ (سورۂ انبیا:۱۰۷)

دوسرے مقام پر ’’لَقَدْ جَآئَکُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُوْفٌ رَّحِیْمٌ‘‘ بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقّت میں پڑنا گراں ہے، تمہارے بھلائی کے نہایت چاہنے والے، مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔ (سورۂ توبہ:۱۲۸)

حضور کا کمال: حضورﷺ افضل جمیع مخلوق الٰہی ہیں کہ اوروں کو فرداً فرداً جو کمالات عطا ہوئے حضور میں وہ سب جمع کر دئے گئے اور ان کے علاوہ حضور کو وہ کمالات ملے جن میں کسی کا حصہ نہیں بلکہ اوروں کو جو کچھ ملا حضور کے طفیل میں بلکہ حضور کے دستِ اقدس سے ملا بلکہ کمال اس لئے کمال ہوا کہ حضور کی صفت ہے اور حضور اپنے رب کے کرم سے اپنے نفس ذات میں کامل و اکمل ہیں۔ حضور کا کمال کسی وصف سے نہیں بلکہ اس وصف کا کمال ہے کہ کامل کی صفت بن کر خود کمال و کامل و مکمل ہو گیا کہ جس میں پایا جائے اس کو کامل بنا دے۔ محال ہے کہ کوئی حضور کا مثل ہو، جو کسی صفتِ خاصہ میں کسی کو حضور کا مثل بتائے گمراہ یا کافر ہے۔

حضورﷺ کو اللہ عزوجل نے مرتبۂ محبوبیت کبریٰ سے سرفراز فرمایا کہ تمام خلق جو جویائے رضائے مولیٰ ہے اور اللہ عزوجل طالب رضائے مصطفیﷺ۔ حضورﷺ کے خصائص سے معراج ہے کہ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک اور وہاں سے ساتویں آسمان اور کرسی و عرش تک بلکہ بالائے عرش رات کے ایک خفیف حصہ میں مع جسم تشریف لے گئے اور وہ قرب حاصل ہوا کہ کسی بشر و مَلک کو کبھی نہ حاصل ہوا، نہ ہوگا اور جمالِ الٰہی بچشم سر دیکھا اور کلام الٰہی بلا واسطہ سنا اور تمام ملکوت السماوات و الارض کو بالتفصیل ذرّہ ذرّہ ملاحظہ فرمایا۔

حضور کی شفاعت: قیامت کے دن مرتبۂ شفاعتِ کبریٰ حضور ﷺ کے خصائص سے ہے کہ جب تک حضور فتحِ بابِ شفاعت نہ فرمائیں گے کسی کو مجالِ شفاعت نہ ہو گی بلکہ حقیقۃً جتنے شفاعت کرنے والے ہیں حضور کے دربار میں شفاعت لائیں گے اور اللہ عزوجل کے حضور مخلوقات میں صرف حضور شفیع ہیں اور یہ شفاعت کبریٰ مومن، کافر، مطیع، عاصی سب کے لئے ہے کہ وہ انتظار حساب جو سخت جانگزا ہوگا جس کے لئے لوگ تمنائیں کریں کہ کاش جہنم میں پھینک دئے جاتے اور اس انتظار سے نجات پاتے، اس بلا سے چھٹکارا کفار کو بھی حضور کی بدولت ملے گا جس پر اولین و آخرین، موافقین و مخالفین، مومنین و کافرین سب حضورﷺ کی حمد کریں گے۔ اسی کا نام مقامِ محمود ہے۔ یہ بات ذہن نشیں ہو کہ منصب شفاعت حضورﷺ کو دیا جا چکا، آپ خود ہی ارشاد فرماتے ہیں ’’اُعْطِیْتُ الشَّفَاعَۃَ‘‘ مجھے مرتبۂ شفاعت عطا کیا جا چکا ہے۔

حضور کا اختیار: حضور اقدس ﷺ اللہ عزوجل کے نائب مطلق ہیں، تمام جہان حضور کے تحت تصرف کر دیا گیا، جو چاہیں کریں، جسے جو چاہیں دیں، جس سے جو چاہیں واپس لیں۔ تمام جہان میں ان کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں، تمام جہان ان کا محکوم ہے اور وہ اپنے رب کے سوا کسی کے محکوم نہیں۔ تمام آدمیوں کے مالک ہیں، جو انہیں اپنا مالک نہ جانے حلاوتِ سنت سے محروم ہے۔ تمام زمین ان کی ملکیت ہے، تمام جنت ان کی جاگیر ہے، ملکوت السماوات و الارض حضور کے زیر فرمان، جنت و نار کی کنجیاں دستِ اقدس میں دے دی گئیں، رزق و خیر اور ہر قسم کی عطائیں حضور ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں، دنیا و آخرت حضور کی عطا کا ایک حصہ ہے، احکامِ تشریعیہ حضور کے قبضہ میں کر دئے گئے کہ جس پر جو چاہیں حرام فرما دیں اور جس کے لئے جو چاہیں حلال کر دیں اور جو فرض چاہیں معاف فرمادیں۔(بہارِ شریعت، حصہ اول)

ختم نبوت: اللہ عزوجل نے قرآنِ مقدس میں ارشاد فرمایا: مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَط وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًاo محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ (احزاب:۴۰)

اس آیت میں اللہ عزوجل نے اپنے محبوب مکرمﷺ کا اسم گرامی لے کر فرمایا کہ محمد (فداہ ابی و امی) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں یعنی انبیا کے سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں۔ جب مولا کریم جو ’’بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْم‘‘ ہے اس نے فرمایا کہ محمد مصطفی نبیوں کو ختم کرنے والے آخری نبی ہیں تو حضور کے بعد جس نے کسی کو نبی مانا اس نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تکذیب کی اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے کسی ارشاد کو جھٹلاتا ہے وہ مسلمان نہیں رہ سکتا۔اسی لئے ساری امتِ محمدیہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضورﷺ خاتم النبیین ہیں یعنی اللہ عزوجل نے سلسلۂ نبوت حضورﷺ پر ختم کر دیا کہ حضور کے زمانے میں یا بعد کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا۔ جو شخص حضورﷺ کے زمانے میں یا حضورﷺ کے بعد کسی کونبوت ملنا مانے یا جائز جانے کافر ہے۔بہرِ حال حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کا یہ وصف ’’ختم نبوت‘‘ باتفاقِ امت دین کے بنیادی عقائد میں سے ایک عقیدہ ہے۔لہٰذا جو کوئی اس کا منکر ہوگا وہ واجب القتل ہوگا۔اس کی نظیر خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قائم فرمائی کہ آپ نے مسیلمہ کذاب اور اس کے ماننے والے مرتدین کا قتل عام کرایا تاکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ناموسِ رسالت محفوظ ہوجائے۔