جمعہ کی پہلی شرط :-شہر ہونا

مسئلہ: جمعہ قائم کرنے کے لئے شہر کا ہونا ضروری ہے ۔امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک شہر اس عمارات والی آبادی کو کہتے ہیں جس میں متعدد کوچے ہوں ۔ دوامی بازار ہوں ۔وہ ضلع یا برگنہ ہو کہ اسکے متعلق دیہات ہوں ۔ اس میں کوئی حاکم مقدماتِ رعایا فیصل کرنے پر مقرر ہو ۔ جس کے یہاں مقدمات پیش ہوتے ہوں اور اس کی شوکت وحشمت مظلوم کا انصاف ظالم سے لینے کے قابل ہو یعنی انصاف پر قدرت کافی ہے اگر چہ ناانصافی کرتاہو اور بدلہ نہ لیتا ہو ۔ ( بہار شریعت ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۷۰۳)

مسئلہ: صحیح تعریف شہر کی یہ ہے کہ وہ آبادی جس میں متعدد کوچے ہوں ، دوامی بازار ہوں ،نہ وہ جسے پیٹھ کہتے ہیں ( یعنی ہنگامی بازار نہ ہوں ) اور وہ پرگنہ ہو کہ اس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں اور اس میںکوئی حاکم رعایات کے مقدمات کا فیصلہ کرنے پر مقرر ہو ، جس کی حشمت و شوکت اس قابل ہوکہ مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے۔ جہاں یہ تعریف صادق ہو وہی شہر ہے اور وہیں جمعہ جائز ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۷۲)

مسئلہ: شہر کے اطراف کی جگہ جو شہر کی مصلحتوں کے لئے ہو اور شہر کے آس پاس ہو مثلاً قبرستان ، گھوڑ دوڑ کا میدان ، فوج کے رہنے کی جگہ یعنی کیمپ ، اسٹیشن وغیرہ اگرچہ شہر سے باہر ہوں پھر بھی ان کا شمار شہر میں ہوگا اور وہاں جمعہ جائز ہے ۔( غنیہ ، بہار شریعت)

مسئلہ: اگر شہر سے دور کوئی جگہ ہو کہ وہ جگہ شہر کی مصلحت کے لئے نہ ہو بلکہ الگ مستقل آبادی کی طرح آباد ہو اور وہاں شہر کی اذان کی آواز پہنچتی ہو اور وہاں رہنے والا بلا تکلف آسکتاہو اور جاسکتا ہو تو ان لوگوںپر جمعہ پڑھنا فرض ہے ۔ ( درمختار)

مسئلہ: جو لوگ شہر کے قریب گاؤں میں رہتے ہوں انہیں چاہئے کہ شہر آکر جمعہ پڑھ جائیں ۔ ( بہار شریعت، جلد ۴ ، ص ۹۴)

مسئلہ: دیہات میں جمعہ ناجائز ہے ۔ اگر پڑھیں گے گنہگار ہوںگے اور ظہر ذمہ سے ساقط نہ ہوگا ۔ دیہات میں نہ جمعہ فرض نہ وہاں اس کی ادا جائز ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۷۱ ، و ۷۱۰ )

مسئلہ: جن دیہات میں جمعہ نہیں ہوتاو ہاں جمعہ قائم نہ کرنا چاہئے اور جہاں پہلے سے جمعہ ہوتاہو ان دیہاتو ںمیں جمعہ بند بھی نہ کرنا چاہئے ۔ دیہات میں عوام جمعہ پڑھتے ہوں تو ان کو منع کرنے کی ضرورت نہیں کہ عوام جس طرح بھی اللہ و رسول کا نام لے لیں غنیمت ہے ۔ کیونکہ اگر ان کو منع کیا جائے گا تو وہ وقتی نماز بھی چھوڑ بیٹھتے ہیں ۔ امیر المؤمنین مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے ایک شخص کو بعد نماز عید نفل پڑھتے دیکھاحالانکہ بعد عید نفل پڑھنا مکروہ ہے ۔ کسی نے عرض کیا یا امیرالمؤمنین ! آپ منع نہیں کرتے ؟ حضرت مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایاکہ میں اس وعید میں داخل ہونے سے ڈرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’ ارأیت الذی ینہی عبدًا اذا صلی‘‘ ( پارہ ۳۰ ، سورہ العلق ، آیت ۹-۱۰ ) ترجمہ :-بھلا دیکھو تو جو منع کرتاہے بندے کو جب وہ نماز پڑھے ۔‘‘ یہ ارشاد مرتضوی در مختار میںمذکور ہے ۔‘‘(فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۷۱۰ تا ۷۱۴ اور ۷۱۹ )

مسئلہ: جس مقام کے شہر یا دیہات ہونے میں اختلاف یا شک ہو ایسی جگہ علمائے کرام نے حکم دیا ہے کہ چا ررکعت ظہر کی احتیاطی بھی پڑھیں یعنی نماز جمعہ کے بعد چار رکعت احتیاطی پڑھیں لیکن یہ حکم خواص کے لئے ہے ۔ عوام کے لئے نہیں جو تصحیح نیت پر قادر نہ ہوں ۔ (فتاوٰی رضویہ ،جلد ۳ ، ص ۶۸۸)

مسئلہ: ان شہروں میں کہ جہاں اختلاف شہر ہو وہاں جمعہ ضرور لازم ہے اور اس کا ترک کرنا معاذ اللہ ایک شعار عظیم اسلام سے منہ پھیرنا ہے اور وہاں چاررکعت احتیاطی کا خواص کے لئے حکم ہے اور عوام جو نافہم ہیں ان کے حق میں احتیاطی ظہر کے لئے درگزر کا حکم ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۷۵)