حدیث نمبر :595

روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کے دن فرمایا ۱؎ انہوں نے ہمیں بیچ کی نمازیعنی نمازعصرسے روک دیا خدا ان کے گھراورقبریں آگ سے بھردے ۲؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ اس کا نام غزوۂ احزاب ہے۔چونکہ اس جہاد میں حضرت سلمان فارسی کے مشورے سے مدینہ منورہ کی حفاظت کے لئے اس کے آس پاس خندق کھودی گئی تھی اس لئے اس کا نام غزوۂ خندق ہوا۔مؤرخین کہتے ہیں کہ یہ غزوہ ۵ھ؁ میں ہوا،مگرامام بخاری کی تحقیق میں ۴ھ ؁میں،اس خندق کے کھودنے میں پندرہ یا بیس دن صرف ہوئے،اس وقت قریش،عطفان اوریہودغرض کہ ہرقسم کے کفارنے مل کرمسلمانوں پر چڑھائی کی تھی اس لئے اسے احزاب کہا جاتا ہے،یعنی ہرقسم کے کافروں کا حملہ۔مسلمانوں پراس وقت بہت تنگی تھی،بڑی محنت سے بھوکے پیاسے رہ کرخندق کھودی حتی کہ بعض دنوں میں زیادہ مشغولیت کی وجہ سے نمازیں قضا ہوگئیں۔

۲؎ یعنی انکے حملے کی وجہ سے ہمیں خندق کھودنا پڑی جس میں مشغولیت کی وجہ سے ہماری نمازیں خصوصًا نماز عصرقضاءہوگئی۔اس سے معلوم ہوا کہ”صلوۃ وسطی”جس کی قرآن شریف میں بہت تاکید ہے نماز عصر ہے،اکثر آئمہ کا یہی قول ہے،ہمارے امام اعظم بھی یہی فرماتے ہیں۔خیال رہے کہ غزوۂ احد میں حضورکو جسمانی ایذا بہت پہنچی لیکن وہاں کفارکو یہ بددعا نہ دی،یہاں نمازیں قضاءہونے پریہ بددعادی۔معلوم ہوا کہ حضورکو نمازیں جان سے پیاری تھیں،نیز اس بددعاسے اظہارغضب وملال مقصودہے حقیقتًا بددعا مقصود نہیں،اسی وجہ سے کفارخندق میں سے بعض لوگ بعدمیں ایمان لے آئے،اگربددعامقصود ہوتی تو ان میں سے کسی کو ایمان نصیب نہ ہوتا۔خیال رہے کہ اس غزوہ میں ایک بار صرف عصر کی نماز قضاء ہوئی تھی اور ایک بارچارنمازیں،لہذا بخاری وترمذی کی روایتوں میں تعارض نہیں۔