أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰ لِكَ اَنۡ لَّمۡ يَكُنۡ رَّبُّكَ مُهۡلِكَ الۡقُرٰى بِظُلۡمٍ وَّاَهۡلُهَا غٰفِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

یہ (گواہی اس وجہ سے لی گئی) کہ آپ کا رب بستیوں کو ظلما ہلاک کرنے والا نہیں ہے درآں حالیکہ ان میں رہنے والے (شریعت سے) بیخبر ہوں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ (گواہی اس وجہ سے لی گئی) کہ آپ کا رب بستیوں کو ظلما ہلاک کرنے والا نہیں ہے درآں حالیکہ ان میں رہنے والے (شریعت سے) بیخبر ہوں۔ (الانعام : ١٣١) 

جن علاقوں میں اسلام کا پیغام نہیں پہنچا ‘ وہاں کے باشندوں کا حکم : 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو رسولوں کو بھیجا ہے ‘ اور انہوں نے لوگوں کو کفر اور شرک پر عذاب الہی سے ڈرایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے کتابیں اور صحائف نازل کیے ہیں ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ یہ ہے کہ جب تک کسی قوم کے پاس اللہ کی طرف سے ایمان لانے کی دعوت نہ پہنچے اللہ تعالیٰ اس قوم کو ملیامیٹ کرنے کے لیے عذاب نہیں بھیجتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 

(آیت) ” وان من امۃ الا خلا فیھا نذیر “ (فاطر : ٢٤) 

ترجمہ : اور ہر قوم میں ایک ڈرانے والا گزر چکا ہے۔ :

(آیت) ” ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا ان اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت “۔ (النحل : ٣٦) 

ترجمہ : اور بیشک ہم نے ہر قوم میں رسول بھیجا ‘ کہ اللہ کی عبادت کرو اور شیطان سے بچو۔ 

(آیت) ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “۔ (بنی اسرائیل : ١٥) 

ترجمہ : ہم اس وقت تک عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ ہم رسول نہ بھیج دیں۔

ان آیتوں سے یہ استدلال بھی کیا جاتا ہے کہ جن علاقوں میں بالفرض اسلام کا پیغام نہیں پہنچا ان کے لئے صرف اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے واحد ہونے کو مان لینا کافی ہے ان کی نجات ہوجائے گی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 131