حدیث نمبر :597

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت میں راوی کہ فجرکی نماز حاضری کا وقت ہے فرمایا اس میں رات اوردن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں ۱؎ (ترمذی)

شرح

۱؎ اس کی شرح پہلے گزر چکی۔حدیث کامقصدیہ ہے کہ قرآن کریم میں”قرآن الفجر”سے مرادنماز فجر ہے، “مشہود”سے مراد دن رات کے فرشتوں کی حاضری کا وقت،یعنی چونکہ فجرکے وقت دوقسم کے فرشتے جمع ہوتے ہیں،لہذا اس کی زیادہ پابندی کرو۔معلوم ہوا کہ جس نماز میں اﷲ کے مقبول ہوں وہ نماز زیادہ قبول ہے۔جولوگ کہتے ہیں کہ بزرگوں کے مزارکے پاس نماززیادہ افضل ہے اسی لئے بزرگوں کے آستانوں پر مسجدیں بناتے ہیں،ان کا ماخذ یہ آیت ہے۔