نبیٔ رحمت ﷺ : قرآن و سنت کے آئینے میں

ازـ: مفتی اختر حسین علیمی خلیل آبادی، ایم اے( علیمیہ جمداشاہی)

 

آج ایک سیہ کار وپر معاصی کا ناتواں قلم اس ذات پاک کی مدحت و ثناخوانی کی سعادت حاصل کررہا ہے جن کے وجود کے صدقے وجود کائنات ہے ،جن کے جلوئوں کی جھلک سے آفتاب کو نور وضیاکی بھیک ملی ،جن کے لئے کائنات سجائی گئی ،عروس ہستی کے کاکل و گیسو سنوارے گئے ،جو زینت عرش ،رونق فرش حسن کائنات اور زیبائش ارض و سموات ہیں ۔

جن کے لبہائے نازک گل قدس کی پتیوں کی بھی نزاکت سے فزوں تر ہیں ،جن کے عارض تاباں کی چمک دمک سے چاند کو چاندنی اور ستاروں کو جھلملاہٹ نصیب ہوئی جن کے دہن ناز سے وحیٔ الٰہی کے نغمے سنائی دیتے ،جن کی مسکراہٹ، کلیوں کو مژدۂ جانفزا سناتی،جن کی تبسم ریزی سے غنچوں کو چٹکنے کا شعور میسرہو،جن کی لب کشائی صحرا کو گلستاں بنا دے ،جن کے دندان پاک کی چمک تاریکیوں کوکافو ر کرکے رات میں دن کا اجالا کردے اور موتیوں کو چمکنے کا ہنر عطا کردے ۔

جن کی سانسوں کی مہک سے مشک و عنبرکو خوشبوئو ں کی خیرات ملی ،جن کے جسم اطہر کی عطر بیزی بھٹکے ہوئوں کے لئے رہبر و رہنما بنے ،جن کے قدم ناز کے نقوش سے منزل مقصود کا پتہ ملے ،جن کے تلوئوں کا دھوون آب حیات کہلائے،جن کی ابرو کا اتارن آبروئے فلک بن جائے ۔

باد نسیم جن کے لئے صلو اعلیہ وآلہ کا حسین ترانہ سناتی ہے،انسانیت جن کے دم قدم سے بارونق و پر نور ہے ،آدمیت جن کے صدقے ذیشان ہے جن کی رحمت ایسی کہ ماں کی ممتاشرمائے ،الفت و پیار اور محبت شفقت ایسی کہ شفقت پدری جس سے جائے ۔

جو رحمت کی جان اور مرکز ایمان ہیں ،وجہ تخلیق کون و مکان ہیں ، جو تفسیرِ روح البیان اور لعل رشد ہدایت کی کان ہیں ،جن کی حقیقت ومنزلت کے ذکر سے قوت انسانی عاجز و حیران ہے جن کی مدح و ثنا کرتے کرتے لوگ تھک ہار کربیٹھ گئے،مفسر عاجز ہوگئے محدث قلم توڑ کر ساکت و جامد ہوگئے ، شعراء نے دست بستہ ہوکر اپنی عاجزی کا اعتراف کرلیا اور بیک زبان ہوکر درماندگی کا اعتراف کرکے عرض گذار ہوئے ۔

لا یمکن الثناء کما کان حقہ

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

اور ایک عاشق زار نے یوں عرضی پیش کردی

تیرے تو وصف عیب تناہی سے ہیں بری

حیراں ہوں میرے شاہ میںکیا کیا کہوں تجھے

لیکن رضاؔ نے ختم سخن اس پہ کردیا

خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے

ہاں ہاں وہ وہی ہیں جنہیں عرش پر احمد فرش پر محمد اور قرآن میں رحمۃ للعالمین کہا گیا ہے جو ظالم و ستمگر کے لئے شمسیر برہنہ اور یتیموں اور بیوائوں اور مظلوموں کیلئے لالہ کے جگر کی ٹھنڈک ہیںجن کی رحمت کے سائے تلے کائنات کا ذرہ ذرہ پناہ گزیں ہے جو رحمت ہر عالم و عالمیان ہیں جن کی شفقت ورأفت پر قرآن ناطق اور تاریخ عالم کا ورق ورق گواہ ۔

یہ حقیر سراپا تقصیر انہیں کے رحمت و شفقت کے چند گوشے کج مج اور ٹیڑھی میڑھی تحریر میں پیش کرکے اس مفلس مگر مخلص بڑھیا کی مانند جو خریداران یوسف میں شمولیت کی تمنا لئے خریداروں کی صف میں کھڑی تھی اپنے کوثناخوانان رحمت دوجہاں کی فہرست میں شامل کرنے کی آرزولئے کھڑاہے ۔

اوروں کی طرف پھینکے ہیں گل اور ثمر بھی

اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی

ہدایت کے لئے بے پناہ تڑپ اور بے چینی

سیدنا محمد عربی ﷺ کے قلب مبارک میں مخلوق خدا کی جو محبت و شفقت تھی اس کے ذکر کے لئے سیکڑوں دفتر بھی نا تمام ہوجائیں خودقرآن پاک میں بار بار آپ کی شفقت و رأفت کا تذکرہ کیا گیا ہے چونکہ آپ کی بعثت طیبہ کا اولین مقصد گم گشتہ راہوں کو صراط مستقیم پر گامزن کرنا اور صدیوں سے جنگ و جدال قتل و غارت گری سلب و نہب تباغض و تحاسد میں مبتلا عرب کے صحرا نشینوں اور خانہ بدوشوں کے مابین اخوت و مساوات الفت و محبت پیدا کرنا تھا اور اللہ کی مخلوق کو سیکڑوں در پر جبیں سائی سے روک کر ایک خدائے بزرگ و برتر کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوجانے کا شعور بخشا مگر جب آپ نے خدائی پیغام کی تبلیغ اور دعوت و اصلاح کاجذبۂ فراواں لئے میدان عمل میں قدم رکھا تو ہزار جتن اور تدبیر کے با وجود لوگ راہ راست پر آنے کو کسی طرح تیار نہ ہوئے ،محبت کا جواب عداوت، شفقت وپیار کا جواب ظلم و ستم تواضع و انکساری کا جواب غرورو تمکنت ،رعونت و انانیت اور آپ کی شیریں مقالی کا جواب سب و شتم سے دیا ۔

تو اس کیفیت سے رحمت دوجہاں کے قلب اطہر پر عجب صدمہ پہونچا مخلوق خدا کی ہدایت و رہنمائی کے لئے بے پایاں شفقت و رحمت کا جو سمندر موجزن تھا اس کی وجہ سے آپ بے پایاں غمگین اور حد درجہ کبیدہ خاطر ہوگئے آپ کی غمناک حالت اور اندوہناک کیفیت کو بیان کرنے کے لئے مجھ جیسے بے علم کے پاس نہ تو وہ الفاظ ہیں اور نہ ہی بیان مطالب کا وہ شعور ہے ،بس کلام ربانی ہمارے لئے ایک فیصلہ کن اور برہان قاطع ہے اس سے بڑھ کر دل پذیر شہادت کیا ہوسکتی ہے ؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے : فلعلک باخع علی نفسک علیٰ آثارھم ان لم یومنوا بھذا الحدیث اسفاo ( الکھف۶) تو کہیں تم اپنی جان پر کھیل جائو گے ان کے پیچھے اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائیں غم سے ( کنزالایمان )

اس آیت مقدسہ میں ذرا تدبر کیجئے تو فورا اس نتیجے پر پہونچ جائیں گے کہ رسول اعظم ﷺ کے دل میں خلق خدا کی دنیوی و اخروی فلاح و بہبود اور اصلاح کی چاہت اور محبت و شیفتگی جس درجہ تھی کائنات میں اس کی نظیر محال ہے ۔

جب محمد عربی ﷺ عرب کی اخلاقی پستی اور معاشرتی بگاڑ کو دیکھتے تو قرآنی پیغام سنا سنا کر راہ راست پر لانے کی انتھک کوشش کرتے کیونکہ ایک نبی کے لئے اس سے بڑھ کر رنج و غم کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ انسان کی زندگی فسق و فجور بدعت و ضلالت اور کفر و شرک کی گندگی میں پڑی رہے اور ایک انسان دوسرے انسان کوخدا کادرجہ دے کر حقیقی خدا سے منھ موڑلے ۔

اور چونکہ خلق خداکی ہدایت و اصلاح کا جوش ان کے دل میں سرایت کئے ہوتا ہے اس لئے ان کے نزدیک اس سے زیادہ مسرت و شادمانی اور فرحت و انبساط کی اور کیا بات ہوسکتی ہے کہ بھٹکی ہوئی قوم اور تعفن زدہ ماحول عشق و ایمان سے معطر ہوجائے اور ہر چہار جانب اللہ اکبر کی صدائیں گونجنے لگیں قلوب و اذہان میں ایمان و یقین کا اجالا پھیل جائے ۔

مگر جب رحمت عالمﷺ اپنی جان توڑ کوشش اور جہد مسلسل کا خاطر خواہ ثمرہ نہ دیکھتے تو دل مضطرب و پریشان ہوجاتا اور غم ِاُمت میں نڈھال ہوجاتا حزن و ملا ل اضطراب و بے چینی اور دکھ درد پورے وجود پر چھا جاتا ، اور شدت غم سے آنکھوں کی نیند، دل کا سکون چھن جاتا ۔

چنانچہ آپ کے رب نے نہایت دلنواز اور پر محبت انداز میں آپ کی اس حالت کو دیکھ کر آپ کی تسلی فرمائی اور یہ کلام محبت نازل فرمایا ۔طٰہٓ ما انزلنا علیک القرآن لتشقیٰ الا تذ کرۃ لمن یخشیٰ ( طہ ۳)

اے محبوب ہم نے تم پر یہ قرآن اس لئے نہ اتاراکہ تم مشقت میں پڑو ہا ں اس کو نصیحت جو ڈر رکھتا ہو ۔

اس آیت کریمہ کا شان نزول بیان کرتے ہوئے حضرت صدر الافاضل علامہ سیدمحمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ نے تحریر فرمایا ہے کہ ــ’’ سید عالمﷺ لوگوں کے کفر اور ان کے ایمان سے محروم رہنے پر بہت زیادہ متاسف و متحسر رہتے تھے اور خاطر مبارک پر اس سبب سے رنج و ملال رہاکرتا تھا اس آیت میں فرمایا گیاکہ آپ رنج و ملال کی کوفت نہ اٹھائیں قرآن پاک آپ کی مشقت کے لئے نازل نہیں کیا گیا ہے۔( حاشیہ بر آیت مذکورہ )

بلا شبہہ خلق خدا کے ساتھ الفت و محبت کایہ عالم چشم فلک نے کبھی نہ دیکھا ہوگااور غمگساری و ہمدردی شفقت و رأفت کا یہ منظر تاریخ عالم نے کسی بھی داعی و مبلغ کے متعلق نہ پیش کیا ہوگا،حضرت علامہ پیر کرم شاہ قدس سرہ رقم طراز ہیں ۔

’’ ادھر جورو جفا کا یہ حال ہے کہ کسی معقول بات پر غور نہیں کرتے بلکہ الٹامذاق اڑاتے ہیں ادھر رأفت و رحمت کی یہ کیفیت ہے کہ ہر قیمت پر انہیں ہلاکت کے گرداب میں گرنے سے بچانے کا خیال بے چین رکھتا ہے ،مسجد حرام کے صحن میںبازار مکہ کی ہنگامہ پرور فضائوں میں ،ان کی نشستگاہوں میں ،اور ان کے خلوت کدوں میںجاجاکر انہیں سمجھایا جارہا ہے ،وہ بار بار جھڑکتے ہیں ،ناراض ہوتے ہیں ،پھرتے ہیں۔

لیکن اخلاص و محبت کا یہ چشمہ رواں ہی رہتا ہے جب رات کی خاموشی چھا جاتی ہے ساری آنکھیں محو خواب ہوتی ہیں تو یہ اٹھتا ہے سر نیاز بارگاہ نیاز میں جھکاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے روروکر ان کی ہدایت کے لئے دردو سوز میں ڈوبی ہوئی التجائیں کرتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اگر ان میں سے ایک بھی ہدایت کی روشنی سے محروم رہا تو اس کی جان پر بن آئے گی ۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کی بے چینی اور اضطراب کو دیکھتا ہے جس میں کوئی ذاتی منفعت نہیں وہ ان آہوں کے سوز سے واقف ہے وہ ان آنسوئوں کوجانتا ہے جو اس کے محبوب کی چشم مازاغ کی پلکوں پر جھلملاتے ہیں اور پھر اس کے حضور اس کی رحمت کی بھیک مانگنے کے لئے گر پڑتے ہیں یہ بے خوابیاں ،یہ بے تابیاں کن کے لئے ہیں ؟ جو جان کے دشمن اور خون کے پیاسے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کوتسلی دیتا ہے کہ اتنا غم مت کیجئے ۔( ضیاء النبی ج۵ص ۱۵۵)

وہ کرم کی گھٹا گیسوئے مشک سا

لکۂ ابر رحمت پہ لا کھوں سلام

مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام

شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام

خلق خدا پر رحمت و شفقت : رسول کریم ﷺ کی رحمت و کرم نوازی کادائرہ صرف مومنوں تک ہی محدود نہ تھا بلکہ آپ کی آفاقی رحمت اور عالمگیر شفقت و محبت خدائے بر تر کی تمام مخلوق کے لئے یکساں تھی وہاں مومن و کافر مخلص و منافق اپنے اور بیگانے کے بیچ کوئی خط امتیاز نہ تھا انسان تو انسان حیوانات پر بھی وہ ابرِ رحمت ساون بھادوں کی طرح برستا تھا ارشاد باری تعالیٰ ہے : وما ارسلناک الا رحمۃ للعلمین ( الا نبیا ء ۱۰۷)اور ہم نے نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے ( کنزالایمان )

آیت کریمہ کی تفسیر میں حضرت صدر الافاضل علیہ الرحمہ رقمطراز ہیں ’’کوئی ہو جن یا انس مومن ہو یا کافر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمانے فرمایا کہ حضورﷺ کا رحمت ہونا عام ہے ایمان والے کے لئے بھی اور اس کے لئے بھی جو ایمان نہ لایا مومن کے لئے تو آپ دنیا و آخرت دونوں میں رحمت ہیںاور جو ایمان نہ لایا اس کے لئے آپ دنیا میں رحمت ہیںکہ آپ کی بدولت تاخیرعذاب ہوئی اور خسف و مسخ اور استیصال کے عذاب اٹھا دئے گئے ۔

آگے چل کرعلامہ نے تفسیر روح البیان کے حوالہ سے بڑا پر لطف نکتہ بیان کیا ہے لکھتے ہیں کہ ہم نے آپ کو نہیں بھیجامگر رحمت مطلقہ تامہ کاملہ عامہ شاملہ جامعہ محیطہ بر جمیع مقیدات رحمت غیبیہ و شہادت علمیہ و عینیہ و وجودیہ و شہودیہ و سابقہ و لاحقہ و غیر ذلک تمام جہانوںکے لئے عالم ارواح ہوں یا عالم اجسام ذوی العقول ہوں یا غیر ذوی العقول ۔اور جو تمام عالم کے لئے رحمت ہو لازم ہے کہ وہ تمام جہاں سے افضل ہو ( حاشیہ بر آیت مذکورہ )

تبھی تو بریلی کے عاشق مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء نے عرض کیا ہے

سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمار انبی

سب سے بالاو والاہمارا نبی

اپنے مولیٰ کا پیارا ہمارا نبی

دونوں عالم کا دولھا ہمارا نبی

حضرت علامہ یوسف بن اسمٰعیل نبہانی قدس سرہ رقم طراز ہیں ’’ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق کاایک نمونہ وہ بھی ہے جو آپ منافقین سے روا رکھتے تھے ،جو پیٹھ پیچھے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو دکھ دیتے اور سامنے بیٹھے ہوتے تو خوشامد کرتے اور یہ ایسی حرکت ہے جس سے اگر عنایت الٰہی شامل نہ ہوتو انسانی طبائع نفرت کرتی ہیں اور جب بھی حضور نبیٔ کریم علیہ التحیۃ و الثناء سے ان کے خلاف سختی کی اجازت مانگی جاتی ،آپ ان پر رحمت کا ایک دروازہ کھول دیتے ۔( انوار محمدیہ مترجم ص ۲۹۱)

اور علامہ سید محمدبن علوی مالکی دامت برکاتہم القدسیہ تحریر فرماتے ہیں ۔ یہ آپ کی آفاقی رحمت ہی تھی کہ منافقین کوفقط ان کے ظاہری اسلام کے لحاظ سے امان دی ،انہیں قتل کیا اور نہ ہی انہیں قیدی بنایا۔ ( انسان کامل مترجم ص ۲۱۱)

کرم سب پر ہے کوئی ہو کہیں ہو

تم ایسے رحمۃ للعلمین ہو

فتح مکہ اور حضور کی رحمت کا بے مثال نمونہ

مکۃ المکرمہ وہ مقدس شہر ہے جو نبیٔ رحمت کی جائے پیدائش اور آپ کا آبائی وطن ہے وطن عزیز کی محبت سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے اور اسے کون خیر باد کہنے کو تیار ہوگامگر جب سیدنا محمد عربی انے اہل مکہ کے سامنے دعوت حق پیش کی اور انہیں ایک خدائے بزرگ و برتر کی بندگی میں آنے کاپیغام سنایاتو یکا یک پورا مکہ آپ کا دشمن ہوگیا اور ظلم و ستم جورو جفا کے ہر حربے اپناکر تاریخ انسانیت میں ایک ریکارڈ قائم کردیا جس کے نتیجے میں سرکار دوعالم ا کو اپنا پیارا وطن چھوڑنا پڑا اور اپنے آبائی وطن کو خیرباد کہہ کر ہجرت کرنی پڑی ۔

مگر زیادہ عرصہ نہ بیتا کہ آپ پھر اسی شہر میں فاتحانہ شان و شوکت کے ساتھ داخل ہوئے یہ ایسی فتح عظیم تھی کہ جس کی بدولت رب تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوب پاک کو اور اپنے دین اور اسلامی لشکر کوعزت و احترام عطافرمایااور اپنے شہر کو ،اپنے گھر کوکفار و مشرکین سے چھٹکارا دلایااس فتح عظیم سے آسمانوں میں خوشی و مسرت کی لہر دوڑ گئی زمین کا سینہ پھول اٹھا اور مکہ کے درو دیوار چمک اٹھے ،روئے زمین کا چہرہ جگمگا گیا ۔

محسن انسانیت ﷺ مکے میں فتح و نصرت کا پرچم لئے فاتحانہ شان سے داخل ہوتے ہیں اور ان کے سامنے بیس سال تک لڑنے والے جابر و ظالم دشمن، مجبور و بے بس کھڑے ہیں ۔ان میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے حضور کا مکہ میں جینا دوبھرکردیا تھا ،ظلم و بر بریت اور وحشت وسفاکی کا ایسا ننگا ناچ دکھایا تھا کہ تاریخ انسانی شرم سے پانی پانی ہوگئی تھی غرضیکہ وہ ایسے لوگ تھے جو قانوناً ،اخلاقاً سیاستاً ہر اعتبار سے مجرم و لائق سزا تھے ۔

سیدنامحمد عربی ﷺ کی جگہ اگر کوئی دوسرا ہوتا تو ماضی کے ایک ایک واقعہ کا انتقام لیتا ،قتل کا عام حکم جاری کرکے اپنے جذبۂ انتقام کی پیاس بجھاتا ،مکی زندگی کی زہرہ گدازیاں یاد کرکے ایک ایک ظلم کا بدلہ لیتا ایذا دہندہ اور گستاخ لبوں کو کیفر کردار تک پہونچاتا ،استہزاو تمسخر کرنے والوں کو مذاق کا مزہ چکھاتا راہوں میں کانٹے بچھانے والوں کے سینے میں تیرو نشتر چبھوتا ۔ تمام دشمنوں کو ہلاکت و بربادی کے الائو میں جھونک دیتا ایک ایک مخالف کی تکابوٹی کرکے دل کی بھڑاس نکالتا ۔

مگر نبیٔ رحمت کی رحمت و رأفت کا نظارہ تو کیجئے سارا حرم محترم لوگوں سے بھرا ہواتھا کہیں تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں تھی کفار مکہ کو ایک ایک کرکے اپنی کارستانیاں یا دآرہی تھیںانہیں یقین تھا کہ ان کا قتل عام کردیا جائے گا اسی اثناء میںمحسن انسانیت رحمت کونین اکی صدا بلند ہوتی ہے اور انہیں مخاطب کر کے فرماتے ہیں : ماتقولون انی فاعل بکم‘‘ مجھے بتائو میں تمھارے ساتھ کیا سلوک کروں گا ؟

انہوں نے جواب دیا ۔

’’خَیْراً اَخٌ کریمٌ وَ ابنُ اخٍٍٍ کریمٍ‘‘ ہمیں حضور سے خیرکی امید ہے آپ کریم بھائی ہیں اور کریم بھائی کے بیٹے ہیں ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ میں تمھارے بارے میں وہی بات کہوں گا جو میرے بھائی یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کوکہی تھی ’’لا تثریب علیکم الیوم یغفر اللہ لکم وھو ارحم الراحمین‘‘ ( اے مکہ کے جفاکارو) آج تم پر کوئی سختی نہیں کی جائے گی اللہ تمہیں معاف فرمائے گا وہ سب رحم کرنے والوں سے بڑا رحم کرنے والا ہے ۔

اس آیت کریمہ کی تلاوت کے بعد ان سب کو مژدۂ آزادی سنایا ۔اذھبوا و انتم الطلقاء ۔ چلے جائو تم سب آزاد ہو ۔

( ضیاء النبی ج۵ص ۳۱۵)

برسوں کے جانی دشمنوں کو عفو و درگذر کی سوغات پیش کردینا اور ان کی جملہ سفاکیوں اور خطرناک زیادتیوں ،خطائوں ،اذیت رسانیوں اور اور ہولناک سازشوں پر قلم عفوپھیر کران کو شفقت و پیار سے گلے لگالینا یہ سب سیدنا محمد عربی محسن انسانیت علیہ التحیۃوالثناء کی وہ صفات ہیں جن کی نظیر تاریخ انسانیت پیش کرنے سے قاصر ہے بلا شبہ رحمۃ للعلمین کا زریں تاج آپ ہی کے سر زیب دیتا ہے اور عزیز علیہ ماعنتم آپ ہی کے گلے کا ہار ہے اور بالمومنین رئوف رحیم آپ ہی کی شایا ن شان ہے ۔

انا فی عطش و سخاک اتم اے گیسوئے پاک اے ابر کرم

برسن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند ادھر بھی گرا جانا