أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَذٰلِكَ نُوَلِّىۡ بَعۡضَ الظّٰلِمِيۡنَ بَعۡضًاۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ۞

ترجمہ:

اور ہم اسی طرح بعض ظالموں پر بعض کو مسلط کردیتے ہیں، کیونکہ وہ (معصیت کے) کام کرتے تھے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم اسی طرح بعض ظالموں پر بعض کو مسلط کردیتے ہیں، کیونکہ وہ (معصیت کے) کام کرتے تھے۔ (الانعام : ١٢٩) 

ظالم حکومت کا سبب عوام کا ظلم ہے : 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا تھا کہ بعض جن اور انسان ایک دوسرے سے استفادہ کرتے ہیں اور ان کا یہ باہمی استفادہ اللہ تعالیٰ کے سابق علم اور قضاء وقدر کے موافق تھا ‘ اور وہ جس چیز کا ارادہ کرتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ ان میں وہی چیز پیدا کردیتا تھا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بعض ظالموں کو بعض کا ولی ‘ کارساز اور مددگار بنا دیتا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

(آیت) ” والمؤمنون والمؤمنات بعضھم اولیآء بعض “۔ (التوبہ : ٧١) 

ترجمہ : مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ 

(آیت) ” والذین کفروا بعضھم اولیآء بعض “۔ (الانفال : ٧٣) 

ترجمہ : بعض کافر بعض کے مددگار ہیں۔ 

اور جس طرح بعض انسان اور جن ایک دوسرے کے کام آتے تھے ‘ اسی طرح کافر کفر اور معصیت میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ 

ابن زید نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض ظالموں کو بعض پر مسلط کر دے گا اور اس آیت میں ہر قسم کے ظالم داخل ہیں۔ وہ شخص جو معصیت کرکے اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے اور جو حاکم اور افسر اپنے ماتحت لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور جو تاجر جعلی اشیاء اور ملاوٹ والی چیزیں فروخت کرکے صارفین پر ظلم کرتا ہے ‘ اسی طرح جو چور اور ڈاکو مسافروں اور شہریوں پر ظلم کرتے ہیں اور سیاسی عہدہ دار اور وزراء عوام کے ٹیکسوں سے اللے تللے کرتے ہیں اور ٹیکس پر ٹیکس لگا کر عوام کی رگوں سے خون نچوڑتے رہتے ہیں ان سب ظالموں پر اللہ تعالیٰ کوئی ان سے بڑا ظالم مسلط کردیتا ہے۔ 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حسن بیان کرتے ہیں کہ بنوا اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : آپ ہمارے لیے اپنے رب سے سوال کیجئے کہ وہ ہمیں یہ بتائے کہ اس کے راضی ہونے کی علامت کیا ہے اور اس کے ناراض ہونے کی علامت کیا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ ! انہیں یہ بتاؤ کہ جب میں ان کے اچھے لوگوں کو ان پر حاکم بناؤں تو میں ان سے راضی ہوں اور جب میں ان کے برے لوگوں کو ان پر حاکم بناؤں تو میں ان سے ناراض ہوں۔ 

(شعب الایمان ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٧٣٨٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٠ ھ) 

کعب احبار بیان کرتے ہیں کہ ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں کے مطابق بادشاہ مقرر کردیتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ ان کی بہتری کا ارادہ کرے تو نیک بادشاہ کرتا ہے اور جب ان کی ہلاکت کا ارادہ کرے تو عیش پرست بادشاہ مقرر کرتا ہے۔ (شعب الایمان ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٧٣٨٩)

ابراہیم بن حمش بیان کرتے ہیں کہ میرے والد یہ کہتے تھے ‘ اے اللہ تو نے ہمارے اعمال کے مطابق ہم پر حکام مسلط کردیئے ‘ جو ہم کو پہچانتے ہیں نہ ہم پر رحم کرتے ہیں (شعب الایمان ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٠ ٧٣٩)

یونس بن اسحاق اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جیسے تم ہوگے ویسے تم پر حاکم بنائے جائیں گے۔ یہ حدیث ضعیف ہے۔ (شعب الایمان ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١ ٧٣٩)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے ظلم پر مدد کی وہ تادم مرگ اللہ کی ناراضگی میں رہے گا۔ (سنن ابودؤاد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ٣٥٩٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ٢٣٢٠) 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو سزا دینے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس پر بدترین لوگوں کو حاکم بنا دیتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفوا عن کثیر “۔ (الشوری : ٣٠) 

ترجمہ : اور جو مصیبت تمہیں پہنچی ہے تو وہ تمہاری ہی شامت اعمال کا نتیجہ ہے اور تمہاری بہت سی خطاؤں کو وہ معاف کردیتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 129