أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا‌ ۚ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ قَدِ اسۡتَكۡثَرۡتُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ‌ۚ وَقَالَ اَوۡلِيٰٓـئُهُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ رَبَّنَا اسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٍ وَّبَلَغۡنَاۤ اَجَلَـنَا الَّذِىۡۤ اَجَّلۡتَ لَـنَا‌‌ ؕ قَالَ النَّارُ مَثۡوٰٮكُمۡ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور جس دن وہ (اللہ) ان سب کو جمع کرے گا (اور فرمائے گا) اے جنات کی جماعت تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کردیا۔ اور انسانوں میں سے ان کے دوست کہیں گے ‘ اے ہمارے رب ! ہمارے بعض لوگوں نے بعض سے (ناجائز) فائدے اٹھائے اور ہم اپنی اس میعاد کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کی تھی ‘ اللہ فرمائے گا (دوزخ کی) آگ تمہارا ٹھکانا ہے تم ہمیشہ اس میں رہنے والے ہو مگر جسے اللہ چاہے بیشک آپ کا رب بہت حکمت والا خوب جاننے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جس دن وہ (اللہ) ان سب کو جمع کرے گا (اور فرمائے گا) اے جنات کی جماعت تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کردیا۔ اور انسانوں میں سے ان کے دوست کہیں گے ‘ اے ہمارے رب ! ہمارے بعض لوگوں نے بعض سے (ناجائز) فائدے اٹھائے اور ہم اپنی اس میعاد کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کی تھی ‘ اللہ فرمائے گا (دوزخ کی) آگ تمہارا ٹھکانا ہے تم ہمیشہ اس میں رہنے والے ہو مگر جسے اللہ چاہے بیشک آپ کا رب بہت حکمت والا خوب جاننے والا ہے۔ (الانعام : ١٢٨) 

جہنم کے خلود سے استثناء کی توجیہات : 

یعنی جب ہم قیامت کے دن تمام انسانوں اور جنات کو جمع کریں گے اور کہیں گے اے جنات کی جماعت ! تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کردیا ‘ اور جن انسانوں نے جنات کے وسوسے غور سے سنے تھے ‘ اور ان سے محبت رکھی تھی ‘ اور ان کی اطاعت کی تھی ‘ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کے جواب میں کہیں گے ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے سے نفع اٹھایا ‘ انسانوں نے شیطانوں سے نفع اٹھایا کیونکہ شیطانوں نے ان کو ان کی شہوت پوری کرنے کے ناجائز ذرائع بتائے اور جب انسانوں نے ناجائز ذرائع اور گناہ کے راستوں پر چل کر اپنی شہوت کو پورا کرلیا ‘ تو شیاطین جو ان کو گمراہ کرنا چاہتے تھے ‘ ان کا مقصد پورا ہوگیا۔ اس طرح ہر ایک فریق نے دوسرے فریق سے فائدہ اٹھالیا۔ پھر وہ کہیں گے کہ ہم نے وہ میعاد کو پورا کرکے میدان حشر میں پہنچ گئے۔ اس کلام سے مقصود یہ ہے کہ حشر کا دن بہت ہولناک دن ہوگا ‘ اور اس دن سب اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیں گے اور اپنی تقصیرات پر حسرت اور ندامت کا اظہار کریں گے ‘ اور اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے تو مالک اور احکم الحاکمین ہے ‘ ہمارے متعلق جو چاہے فیصلہ فرما۔ 

پھر اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمائے گا ‘ تم دونوں کا ٹھکانا ددوزخ کی آگ ہے جس میں ہمیشہ رہنے والے ہو۔ اس کے بعد فرمایا مگر جسے اللہ چاہے ‘ اس استثناء کی دو توجیہیں ہیں۔ 

(١) وہ ہمیشہ دوزخ کی آگ میں رہیں گے مگر اس سے دو وقت مستثنی ہیں۔ ایک قبر سے حشر تک کا زمانہ او دوسرا میدان حشر میں ان کے محاسبہ تک کا وقت۔ اس کے بعد ان کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا ‘ اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ 

(٢) جب دوزخی دوزخ کی آگ کی شدت سے فریاد کریں گے ‘ تو ان کو دوزخ کی آگ سے نکال کر زمھریر (سخت ٹھنڈا اور برفانی طبقہ) میں ڈال دیا جائے گا اور جب زمھریر کی ٹھنڈک سے گھبرا کر فریاد کریں گے ‘ تو انکو پھر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ الغرض ! وہ ہرحال میں ایک عذاب سے دوسرے عذاب کی طرف منتقل ہوں گے۔ 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حکم لگائے کہ وہ اپنی کسی مخلوق کو جنت میں نہیں داخل کرے گا ‘ یا دوزخ میں نہیں داخل کرے گا۔ (جامع البیان ‘ جز ٨ ص ٤٦‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 128