یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۵۷)

اے ایمان والو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنالیا ہے(ف۱۴۷) وہ جو تم سے پہلے کتاب دئیے گئے اور کافر (ف۱۴۸) ان میں کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر ایمان رکھتے ہو (ف۱۴۹)

(ف147)

شانِ نُزول : رفاعہ بن زید اور سوید بن حار ث دونوں اظہارِ اسلام کے بعد منافق ہو گئے ۔ بعض مسلمان ان سے مَحبت رکھتے تھے اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی اور بتایا کہ زبان سے اسلام کا اظہار کرنا اور دل میں کُفر چُھپائے رکھنا دین کو ہنسی اور کھیل بنانا ہے ۔

(ف148)

یعنی بُت پرست مشرک جو اہلِ کتاب سے بھی بدتر ہیں ۔ (خازن)

(ف149)

کیونکہ خدا کے دشمنوں سے دوستی کرنا ایمان دار کا کام نہیں ۔

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًاؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ(۵۸)

اور جب تم نماز کے لیے اذان دو تو اسے ہنسی کھیل بناتے ہیں(ف۱۵۰) یہ اس لیے کہ وہ نرے بے عقل لوگ ہیں (ف۱۵۱)

(ف150)

شانِ نُزول : کلبی کا قول ہے کہ جب رسول اللہ، صلی اللہ علیہ وسلم کا مؤذِّن نماز کے لئے اذان کہتا اور مسلمان اٹھتے تو یہود ہنستے اور تمسخُر کرتے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ سدی کا قول ہے کہ مدینہ طیّبہ میں جب مؤذِّن اذان میں” اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ” اور ” اَشْہَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ ” کہتا تو ایک نصرانی یہ کہا کرتا کہ جل جائے جھوٹا ، ایک شب اس کا خادم آ گ لایا وہ اور اس کے گھر کے لوگ سو رہے تھے آ گ سے ایک شرارہ اُڑا اور وہ نصرانی اور اس کے گھر کے لوگ اور تمام گھر جل گیا ۔

(ف151)

جو ایسے سفیہانہ اور جاہلانہ حرکات کرتے ہیں ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اذان نصِ قرآنی سے بھی ثابت ہے ۔

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُۙ-وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ(۵۹)

تم فرماؤ اے کتابیو تمہیں ہمارا کیا بُرا لگا یہی نہ کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اُترا اور اس پر جوجو پہلے اترا (ف۱۵۲) اور یہ کہ تم میں اکثر بے حکم (نافرمان)ہیں

(ف152)

شانِ نُزول : یہود کی ایک جماعت نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ انبیاء میں سے کس کس کو مانتے ہیں ، اس سوال سے ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر آپ حضرت عیسٰی علیہ السلام کو نہ مانیں تو وہ آپ پر ایمان لے آئیں لیکن حضور نے اس کے جواب میں فرمایا کہ میں اللہ پر ایمان رکھتا ہوں اور جو اس نے ہم پر نازل فرمایا اور جو حضرت ابراہیم و اسمٰعیل و اسحٰق و یعقوب و اسباط پر نازل فرمایا اور جو حضرت عیسٰی و موسٰی کو دیا گیا یعنی توریت و انجیل اور جو اور نبیوں کو ان کے ربّ کی طرف سے دیا گیا سب کو مانتا ہوں ، ہم انبیاء میں فرق نہیں کرتے کہ کسی کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں جب انہیں معلوم ہوا کہ آپ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی نبوّت کو بھی مانتے ہیں تو وہ آپ کی نبوّت کے منکِر ہو گئے اور کہنے لگے جو عیسٰی کو مانے ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِؕ-مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَؕ-اُولٰٓىٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ(۶۰)

تم فرماؤ کیا میں بتادوں جو اللہ کے یہاں اس سے بدتر درجہ میں ہیں (ف۱۵۳) وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان پر غضب فرمایا اور ان میں سے کردئیے بندر اور سؤر (ف۱۵۴) اور شیطان کے پوجاری ان کا ٹھکانا زیادہ بُرا ہے (ف۱۵۵) اور یہ سیدھی راہ سے زیادہ بہکے

(ف153)

کہ اس برحق دین والوں کو تو تم مَحض اپنے عناد و عداوت ہی سے بُرا کہتے ہو اور تم پر اللہ تعالٰی نے لعنت کی اور غضب فرمایا اور آیت میں جو مذکور ہے وہ تمہارا حال ہوا تو بدتر درجہ میں تو تم خود ہو ، کچھ دل میں سوچو ۔

(ف154)

صورتیں مسخ کر کے ۔

(ف155)

اور وہ جہنّم ہے ۔

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖؕ-وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ(۶۱)

اور جب تمہارے پاس آئیں (ف۱۵۶) تو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اور وہ آتے وقت بھی کافر تھے اور جاتے وقت بھی کافر اور اللہ خوب جانتا ہے جو چھپارہے ہیں

(ف156)

شانِ نُزول : یہ آیت یہود کی ایک جماعت کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے ایمان و اخلاص کا اظہار کیا اور کُفر و ضلال چُھپائے رکھا ۔ اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرما کر اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حال کی خبر دی ۔

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَؕ-لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۶۲)

اور اُن (ف۱۵۷) میں تم بہتوں کو دیکھو گے کہ گناہ اور زیادتی اور حرام خوری پر دوڑتے ہیں (ف۱۵۸) بے شک بہت ہی برے کام کرتے ہیں

(ف157)

یعنی یہود ۔

(ف158)

گناہ ہر معصیت و نافرمانی کو شامل ہے ۔ بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ گناہ سے توریت کے مضامین کو چُھپانا اور اس میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو محاسن و اوصاف ہیں ان کا مخفی رکھنا اور عُدوان یعنی زیادتی سے توریت کے اندر اپنی طرف سے کچھ بڑھا دینا اور حرام خوری سے رشوتیں وغیرہ مراد ہیں ۔(خازن)

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَؕ-لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ(۶۳)

انہیں کیوں نہیں منع کرتے اُن کے پادری اور درویش گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے بے شک بہت ہی برے کام کررہے ہیں(ف۱۵۹)

(ف159)

کہ لوگوں کو گناہوں اور بُرے کاموں سے نہیں روکتے ۔

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ عُلَماء پر نصیحت اور بدی سے روکنا واجب ہے اور جو شخص بُری بات سے منع کرنے کو ترک کرے اور نہی منکَر سے باز رہے وہ بمنزلہ مرتکب گناہ کے ہے ۔

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌؕ-غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْاۘ-بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِۙ-یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُؕ-وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاؕ-وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِؕ-كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُۙ-وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًاؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۶۴)

اور یہودی بولے اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے (ف۱۶۰) اِنہیں کے ہاتھ باندھے جائیں (ف۱۶۱) اور ان پر اس کہنے سے لعنت ہے بلکہ اس کے ہاتھ کشادہ ہیں (ف۱۶۲) عطا فرماتا ہے جیسے چاہے (ف۱۶۳) اور اے محبوب یہ (ف۱۶۴ )جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا اس سے ان میں بہتوں کوشرارت اور کفر میں ترقی ہوگی (ف۱۶۵) اور ان میں ہم نے قیامت تک آپس میں دشمنی اور بَیر(بغض)ڈال دیا (ف۱۶۶) جب کبھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اُسے بجھا دیتا ہے (ف۱۶۷) اور زمین میں فساد کےلیے دوڑتے پھرتے ہیں اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا

(ف160)

یعنی معاذ اللہ وہ بخیل ہے ۔

شانِ نُزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہود بہت خوش حال اور نہایت دولت مند تھے جب انہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب و مخالفت کی تو ان کی روزی کم ہو گئی ، اس وقت فخاص یہودی نے کہا کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہے یعنی معاذ اللہ وہ رزق دینے اور خرچ کرنے میں بُخل کرتا ہے ، اس کے اس قول پرکسی یہودی نے منع نہ کیا بلکہ راضی رہے اسی لئے یہ سب کا مقولہ قرار دیا گیا اور یہ آیت ان کے حق میں نازل ہوئی ۔

(ف161)

تنگی اور داد و دہش سے ۔ اس ارشاد کا یہ اثر ہوا کہ یہود دنیا میں سب سے زیادہ بخیل ہو گئے یا یہ معنٰی ہیں کہ ان کے ہاتھ جہنّم میں باندھے جائیں اور اس طرح انہیں آتشِ دوزخ میں ڈالا جائے ، ان کی اس بے ہودہ گوئی اور گستاخی کی سزا میں ۔

(ف162)

وہ جوّاد کریم ہے ۔

(ف163)

اپنی حکمت کے موافق اس میں کسی کو مجالِ اعتراض نہیں ۔

(ف164)

قرآن شریف ۔

(ف165)

یعنی جتنا قرآنِ پاک اُترتا جائے گا اتنا حسد و عناد بڑھتا جائے گا اور وہ اس کے ساتھ کُفر و سرکشی میں بڑھتے رہیں گے ۔

(ف166)

وہ ہمیشہ باہم مختلف رہیں گے اور ان کے دل کبھی نہ ملیں گے ۔

(ف167)

اور ان کی مدد نہیں فرماتا وہ ذلیل ہوتے ہیں ۔

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ(۶۵)

اور اگر کتاب والے ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ضرور ہم ان کے گناہ اتار دیتے اور ضرور انہیں چین کے باغوں میں لے جاتے

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْؕ-مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌؕ-وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠(۶۶)

اور اگر قائم رکھتے توریت اور انجیل(ف۱۶۸)اور جو کچھ ان کی طرف ان کے ر ب کی طرف سے اترا(ف۱۶۹) تو انہیں رزق ملتا اوپر سے اور اُن کے پاؤں کے نیچے سے (ف۱۷۰) ان میں کوئی گروہ اعتدال پر ہے (ف۱۷۱) اور ان میں اکثر بہت ہی برے کام کررہے ہیں(ف۱۷۲)

(ف168)

اس طرح کہ سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتے اور آپ کا اِتّباع کرتے کہ توریت و انجیل میں اس کا حکم دیا گیا ہے ۔

(ف169)

یعنی تمام کتابیں جو اللہ تعالٰی نے اپنے رسولوں پر نازل فرمائیں سب میں سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اور آپ پر ایمان لانے کا حکم ہے ۔

(ف170)

یعنی رزق کی کثرت ہوتی اور ہر طرف سے پہنچتا ۔

فائدہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ دین کی پابندی اور اللہ تعالٰی کی اطاعت و فرمانبرداری سے رزق میں وُسعت ہوتی ہے ۔

(ف171)

حد سے تجاوز نہیں کرتا ۔ یہ یہودیوں میں سے وہ لوگ ہیں جو سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ۔

(ف172)

جو کُفرپر جمے ہوئے ہیں ۔