fb_img_157039101865020970876509143312.jpg

امام حافظ ابوبکر خلال علیہ الرحمہ متوفی 311ھ اپنی مشہور زمانہ کتاب “السنَّة”میں لکھتے ہیں کہ

حضرت امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا کہ آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس کا یہ خیال ہے کہ رسول اللهﷺ کے اصحاب کے فروگزاشت (غلطیوں) میں اس کے لئے کلام کرنا مباح ہے؟

آپ نے فرمایا: یہ گھٹیا اور بے کار بات ہے ، ایسے لوگوں سے اجتناب کریں ، اور ان کے ساتھ نہ بیٹھیں ، اور ان کا معاملہ(گمراہی)لوگوں کے سامنے بیان کردیں۔

(انظر السنة لابی بکر الخلال ، جلد 1 ، ص 403۔۔۔ رجاله ثقات )

وہ تفضیلی تفسیقی حضرات سبق حاصل کریں جو کہتے ہیں ہم سیدنا معاویہ و دیگر صحابہ کی بابت وہی بیان کرتے ہیں ، جو کتابوں میں لکھا ہے امام فرماتے ہیں یہ گھٹیا اور بے کار بات ہے ۔

اہل سنت کو چاہیئے کہ ایسے فتنہ پرور مولویوں اور پیروں کے بیانات سُننے اُن کی محافل میں بیٹھنے سے بچیں بلکہ ان کا بغضِ صحابہ دوسرے لوگوں تک بھی پہنچائیں تاکہ عوام ان کی گمراہانہ تعلیمات سے بچ سکیں۔

✍️ارسلان احمد اصمعی قادری

6/10/2019ء