سب وشتم کے متعلق البدائیہ والنہائیہ میں موجود روایت پر تحقیق!

وقال أبو زرعة الدمشقي: ثنا أحمد بن خالد الذهبي أبو سعيد ثنا محمد بن إسحاق عن عبد الله بن أبي نجيح عن أبيه قال: ” لما حج معاوية وأخذ بيد سعد بن أبي وقاص فقال يا أبا إسحاق إنا قوم قد أجفانا هذا الغزو عن الحج حتى كدنا أن ننسى بعض سننه فطف نطف بطوافك، قال: فما فرغ أدخله دار الندوة فأجلسه معه على سريره ثم ذكر علي بن أبي طالب فوقع فيه فقال: أدخلتني دارك وأجلستني على سريرك ثم وقعت في علي تشتمه؟ والله لأن يكون في إحدى خلاله الثلاث أحب إلي من أن يكون لي ما طلعت عليه الشمس، ولأن يكون لي ما قال له حين غز تبوكا ” ألا ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي “؟ أحب إلي مما طلعت عليه الشمس، ولأن يكون لي ما قال له يوم خيبر: ” لأعطين الراية رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله يفتح الله على يديه ليس بفرار ” أحب إلي مما طلعت عليه الشمس ولأن أكون صهره على ابنته ولي منها

جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا حضرت سعد بن ابی وقاص کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا اے ابو اسحاق مسلسل جنگوں نے ہمیں حج سے روکے رکھا قریب تھا کہ ہمیں اس کے بعض مناسک بھول جاتے ۔آپ طواف کیجیے ہم آپ کو دیکھ کر طواف کریں گے ۔جب حج سے فارغ ہوئے تو دار الندوہ میں لے گئے اور جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے تخت پر ساتھ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو بٹھایا پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا گیا تو ان کے خلاف باتیں شروع کر دی ۔حضرت سعد نے کہاتم نےمجھے اپنے گھرمیں داخل کیا اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا اور حضرت علی کی باتیں شروع کردی؟ انہیں برا بھلا کہا ؟واللہ حضرت علی کو ملنے والی تین فضیتلیں مجھے مل جاتی تو ساری دنیا سے بڑھ کر پیاری ہوتی ۔وہ جو انھیں غزوہ تبوک کے موقع کہا گیا علی کیا تم راضی نہیں کہ تم میرے مقام پر ایسے ہی ہو جیسے موسی علیہ السلام کے مقام پر ہارون علیہ السلام۔مجھے تمام دنیا سے بڑھ کر پیاراہوتا اگر مجھے کہا جاتا جو خیبرکے دن کہا گیا ۔میں ضرور جھنڈا اس شخص کو دوں گاجو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ۔اللہ اور اس کا رسو ل بھی اس سے محبت کرتا ہے ۔اللہ اسی کے ہاتھ پر بغیر شکست کے فتح دے گا اور مجھے ساری دنیا سے پیارا ہوتا کہ میں رسول اللہﷺ کی بیٹی کی وجہ سے ان کا داماد ہو اور ان کی بیٹی کا ولی ہوتا ۔

الكتاب: البداية والنهاية جلد 7 صفحہ 376

المؤلف: أبو الفداء إسماعيل بن عمر بن كثير القرشي البصري ثم الدمشقي (المتوفى: 774هـ)

*یہ روایت دومقام پر انقطاع اور ایک راوی پر تشیع کے الزام کی بنا پر ضعیف ہے ۔

*محمد بن اسحاق بن یسار مدنی

یہ ثقہ راوی ہیں لیکن ان کو شیعی کہاگیا اور تدلیس قبیح کے بھی مرتکب ہیں۔

اور یہ روایت عبد اللہ بن نجیح سے بطریق عن روایت کر رہے ہیں ۔

*یسار مکی النجیح خود ثقہ ہیں لیکن ان کی حضرت سعد بن بی وقاص رضی اللہ عنہ متصلا نہیں بلکہ مرسلا ہے ۔

تفصیل ملاحظہ کیجیے !

– محمد ابن إسحاق ابن يسار أبو بكر المطلبي مولاهم المدني نزيل العراق إمام المغازي صدوق يدلس ورمي بالتشيع والقدر

تقریب التهذیب رقم 5725

صدوق مدلس ،رمی بالتشیع اور قدر

محمد بن إسحاق بن يسار ممن أكثر من التدليس خصوصاً عن الضعفاء

المدلسين لابن عراقی رقم 51

محمد بن اسحاق بن یسار اکثر تدلیس کرنے والے راویوں میں سے ہے خاص طور پر ضعیف کی تدلیس کرتے تھے ۔

125) خت م مقرونا 4 محمد بن إسحاق بن يسار المطلبي المدني صاحب المغازي صدوق مشهور بالتدليس عن الضعفاء والمجهولين وعن شر منهم وصفه بذلك أحمد والدارقطني وغيرهما۔۔۔

تعريف اهل التقديس بمراتب الموصوفين بالتدليس لابن حجر عسقلانی رحمه الله رقم 125

صدوق ،اور ضعیف ، مجہول بلکہ ان سے بھی بدتر راویوں کی تدلیس میں مشہور تھے ان کے مدلس ہونے کی صراحت امام احمد اور دارقطنی وغیرہ رحمہما اللہ نے کی ۔

یاد رہے! حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ مقدمہ کتاب میں فرماتے ہیں :

الرابعة :من اتفق على أنه لا يحتج بشئ من حديثهم الا بما صرحوا فيه بالسماع لكثرة تدليسهم على الضعفاء والمجاهيل كبقية بن الوليد

صفحه 14

چوتھا وہ طبقہ جن پر اتفاق ہے کہ ان کی روایت بغیر سماع کی صراحت کے قبول نہ ہوگی ۔کیونکہ یہ ضعیف اور مجہول راویوں سے کثرتاً تدلیس کرتے ہیں ،جیسا کہ بقیہ بن ولید

اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے محمد بن اسحاق کو چوتھے طبقے کامدلس شمار کیا ہے ۔

یسار مکی جو کہ حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت لے رہے ہیں : حافظ ابن حجر لکھتے ہیں ۔

یسار مکی ابو نجیح :

* وأرسل عن عمر وسعد وقيس بن سعد بن عبادة ومخرمة بن نوفل

یسار مکی کی روایت حضرت عمر ،حضرت سعد، حضرت قیس بن سعد بن عبادہ اور مخرمہ بن نوفل سے مرسلا ہے (اتصالا نہیں)

تهذيب التهذيب جلد 11 صفحہ 377

فرحان رفیق قادری عفی عنہ

سب وشتم کے متعلق البدائیہ والنہائیہ میں موجود روایت پر تحقیق!

وقال أبو زرعة الدمشقي: ثنا أحمد بن خالد الذهبي أبو سعيد ثنا محمد بن إسحاق عن عبد الله بن أبي نجيح عن أبيه قال: ” لما حج معاوية وأخذ بيد سعد بن أبي وقاص فقال يا أبا إسحاق إنا قوم قد أجفانا هذا الغزو عن الحج حتى كدنا أن ننسى بعض سننه فطف نطف بطوافك، قال: فما فرغ أدخله دار الندوة فأجلسه معه على سريره ثم ذكر علي بن أبي طالب فوقع فيه فقال: أدخلتني دارك وأجلستني على سريرك ثم وقعت في علي تشتمه؟ والله لأن يكون في إحدى خلاله الثلاث أحب إلي من أن يكون لي ما طلعت عليه الشمس، ولأن يكون لي ما قال له حين غز تبوكا ” ألا ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي “؟ أحب إلي مما طلعت عليه الشمس، ولأن يكون لي ما قال له يوم خيبر: ” لأعطين الراية رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله يفتح الله على يديه ليس بفرار ” أحب إلي مما طلعت عليه الشمس ولأن أكون صهره على ابنته ولي منها

جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا حضرت سعد بن ابی وقاص کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا اے ابو اسحاق مسلسل جنگوں نے ہمیں حج سے روکے رکھا قریب تھا کہ ہمیں اس کے بعض مناسک بھول جاتے ۔آپ طواف کیجیے ہم آپ کو دیکھ کر طواف کریں گے ۔جب حج سے فارغ ہوئے تو دار الندوہ میں لے گئے اور جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے تخت پر ساتھ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو بٹھایا پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا گیا تو ان کے خلاف باتیں شروع کر دی ۔حضرت سعد نے کہاتم نےمجھے اپنے گھرمیں داخل کیا اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا اور حضرت علی کی باتیں شروع کردی؟ انہیں برا بھلا کہا ؟واللہ حضرت علی کو ملنے والی تین فضیتلیں مجھے مل جاتی تو ساری دنیا سے بڑھ کر پیاری ہوتی ۔وہ جو انھیں غزوہ تبوک کے موقع کہا گیا علی کیا تم راضی نہیں کہ تم میرے مقام پر ایسے ہی ہو جیسے موسی علیہ السلام کے مقام پر ہارون علیہ السلام۔مجھے تمام دنیا سے بڑھ کر پیاراہوتا اگر مجھے کہا جاتا جو خیبرکے دن کہا گیا ۔میں ضرور جھنڈا اس شخص کو دوں گاجو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ۔اللہ اور اس کا رسو ل بھی اس سے محبت کرتا ہے ۔اللہ اسی کے ہاتھ پر بغیر شکست کے فتح دے گا اور مجھے ساری دنیا سے پیارا ہوتا کہ میں رسول اللہﷺ کی بیٹی کی وجہ سے ان کا داماد ہو اور ان کی بیٹی کا ولی ہوتا ۔

الكتاب: البداية والنهاية جلد 7 صفحہ 376

المؤلف: أبو الفداء إسماعيل بن عمر بن كثير القرشي البصري ثم الدمشقي (المتوفى: 774هـ)

*یہ روایت دومقام پر انقطاع اور ایک راوی پر تشیع کے الزام کی بنا پر ضعیف ہے ۔

*محمد بن اسحاق بن یسار مدنی

یہ ثقہ راوی ہیں لیکن ان کو شیعی کہاگیا اور تدلیس قبیح کے بھی مرتکب ہیں۔

اور یہ روایت عبد اللہ بن نجیح سے بطریق عن روایت کر رہے ہیں ۔

*یسار مکی النجیح خود ثقہ ہیں لیکن ان کی حضرت سعد بن بی وقاص رضی اللہ عنہ متصلا نہیں بلکہ مرسلا ہے ۔

تفصیل ملاحظہ کیجیے !

– محمد ابن إسحاق ابن يسار أبو بكر المطلبي مولاهم المدني نزيل العراق إمام المغازي صدوق يدلس ورمي بالتشيع والقدر

تقریب التهذیب رقم 5725

صدوق مدلس ،رمی بالتشیع اور قدر

محمد بن إسحاق بن يسار ممن أكثر من التدليس خصوصاً عن الضعفاء

المدلسين لابن عراقی رقم 51

محمد بن اسحاق بن یسار اکثر تدلیس کرنے والے راویوں میں سے ہے خاص طور پر ضعیف کی تدلیس کرتے تھے ۔

125) خت م مقرونا 4 محمد بن إسحاق بن يسار المطلبي المدني صاحب المغازي صدوق مشهور بالتدليس عن الضعفاء والمجهولين وعن شر منهم وصفه بذلك أحمد والدارقطني وغيرهما۔۔۔

تعريف اهل التقديس بمراتب الموصوفين بالتدليس لابن حجر عسقلانی رحمه الله رقم 125

صدوق ،اور ضعیف ، مجہول بلکہ ان سے بھی بدتر راویوں کی تدلیس میں مشہور تھے ان کے مدلس ہونے کی صراحت امام احمد اور دارقطنی وغیرہ رحمہما اللہ نے کی ۔

یاد رہے! حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ مقدمہ کتاب میں فرماتے ہیں :

الرابعة :من اتفق على أنه لا يحتج بشئ من حديثهم الا بما صرحوا فيه بالسماع لكثرة تدليسهم على الضعفاء والمجاهيل كبقية بن الوليد

صفحه 14

چوتھا وہ طبقہ جن پر اتفاق ہے کہ ان کی روایت بغیر سماع کی صراحت کے قبول نہ ہوگی ۔کیونکہ یہ ضعیف اور مجہول راویوں سے کثرتاً تدلیس کرتے ہیں ،جیسا کہ بقیہ بن ولید

اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے محمد بن اسحاق کو چوتھے طبقے کامدلس شمار کیا ہے ۔

یسار مکی جو کہ حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت لے رہے ہیں : حافظ ابن حجر لکھتے ہیں ۔

یسار مکی ابو نجیح :

* وأرسل عن عمر وسعد وقيس بن سعد بن عبادة ومخرمة بن نوفل

یسار مکی کی روایت حضرت عمر ،حضرت سعد، حضرت قیس بن سعد بن عبادہ اور مخرمہ بن نوفل سے مرسلا ہے (اتصالا نہیں)

تهذيب التهذيب جلد 11 صفحہ 377

فرحان رفیق قادری عفی عنہ