امت پر حضور ﷺ کے حقوق

میرے پیارے آقا ﷺ  کے پیارے دیوانو! تاریخ کا مطالعہ کریں تو اس بات کا اندازہ ہوگا کہ اللہ کے پیارے رسول ﷺ  نے ہم گنہگاروں کے لئے کتنی مشقتیں برداشت کیں ہیں۔ جب آپ نے فاران کی چوٹی سے کلمۂ حق کا اعلان فرمایا تو وہی عرب جو آج تک آپ کو امین و صادق کے نام سے یاد کرتے تھے اور کچھ لمحہ پہلے ہی انہوں نے آپ کی ہر بات کی تصدیق کرنے کا دعویٰ کیا تھا وہی اہل مکہ آپ کو گالیاں دینے لگے اور اس دن کے بعد جیسے انہوں نے آپ کو تکلیف پہنچانا اپنا شیوہ سمجھ لیا تھا۔ آپ کے راستوں میں کانٹے بچھائے جاتے، آپ حالتِ سجدہ میں ہوتے تو آپ کی پشت مبارک پر اوجھڑیاں رکھ دی جاتیں۔ طائف میں جب آپ نے دعوتِ حق پیش کیا تو آپ پر سنگ باری کی گئی جس سے آپ کے قدمہائے مبارک لہو لہان ہو گئے۔

مگر سرکار دوعالم ﷺ  نے ان سب مصیبتوں کو برداشت کرتے ہوئے اقوامِ عالم کو راہِ حق کی دعوت پیش کرتے رہے، انہیں ایک معبودِ برحق کی عبادت کی طرف بلاتے رہے، انہیں دینِ حنیف، دینِ ابراہیم، دینِ اسلام کی پیروی کرنے کی تاکید کرتے رہے۔ آج ہمیں جو ایمان کی دولت میسر آئی، خدا کی معرفت حاصل ہوئی، معبودِ برحق کی عبادت کا سلیقہ ملا، راہِ حق کا پتہ ملا، زندگی گزارنے کے قواعد و ضوابط ملے، قرآن ملا، قرآن کے احکام کو سمجھنے کا سلیقہ ملا، اللہ کے اوامر و نواہی کا پتہ چلا، حلال و حرام کی تمیز سمجھ میں آئی، ہمیں آج جو زندگی ملی، لذتِ بندگی ملی حتیّٰ کہ ہماری ہر ہر سانس پر سرکارِ دوعالم ﷺ  کا احسان ہے کیوں کہ آپ ہی کے صدقہ و طفیل دنیا و ما فیہا کی تخلیق ہوئی ہے۔

جب اس قدر ہم پر آپ کے احسانات ہیں تو ہم امت پر بھی آپ کے کچھ حقوق ہوں گے۔ ان حقوق کو حضرت علامہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے شفا شریف میں بہت ہی مفصل طور پر بیان فرمایا۔ ہم مختصراً تحریر کر رہے ہیں۔ امت پر حضور ﷺ  کے آٹھ حقوق ہیں۔

ایمان بالرسول: حضور رحمت عالم ﷺ  کی نبوت و رسالت اور جو کچھ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں ان تمام پر ایمان لانا اور دل سے انہیں سچا ماننا ہر امتی پر فرض عین ہے۔رسول پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص ہرگز مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ’’وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْ بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ فَاِنَّا اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا‘‘ جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لایا تو یقینا ہم نے کافروں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ (سورۂ فتح)

اس آیت میں اس بات کی مکمل طور پر وضاحت ہے کہ جو لوگ رسول کی رسالت پر ایمان نہیں لائیں گے وہ اگر چہ پوری زندگی خدا کی توحید کا اقرار کرتے رہیں مگر وہ کافر اور جہنمی ہی رہیں گے اس لئے کہ بغیر ایمان بالرسالت کے ایمان بالتوحید معتبر ہی نہیں۔

اتباعِ سنت: حضور رحمت عالم ﷺ  کی پیروی اور آپ کی سنتوں کو اپنانا ہر امتی کی ذمہ داری اور فریضہ ہے کیوں کہ سرکار رحمت عالم ا کی سنتوں پر عمل دارین میں فلاح و نجات کا سبب ہے۔ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا ’’قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَ اللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘‘ اے محبوب! تم فرمادو کہ لوگو! اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جائو اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (آلِ عمران:۳۱)

اس آیت میں سرکار دوعالم ﷺ  کی اتباع و پیروی کو محبت خداوندی کی دلیل قرار دی گئی ہے، گویا اتباعِ رسول کے بغیر اگر کوئی شخص محبت خدا کا دعویٰ کرے تو وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے۔ اسی طرح دوسرے مقام فرمایا گیا ’’لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ‘‘ بے شک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے اس کے لئے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو۔ (سورۂ الاحزاب: ۲۱)

مذکورہ آیت میں سنتِ رسول ﷺ  پر عمل کرنے کو ان لوگوں کے لئے بہترین راہ بتائی گئی جو اللہ کی بارگاہ کا قرب چاہتے ہیں اور آخرت کے دن کامیابی چاہتے ہیں۔ چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ جو لوگ جس قدر سنتِ رسول کے پابند رہے وہ لوگ دنیا و آخرت میں اسی قدر کامیاب و کامران رہے۔

صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کون نہیں جانتا؟ آپ جیسا کامیاب و کامران انسان مل ہی نہیں سکتا۔ آپ کو یہ کامیابی و کامرانی فقط اتباعِ سنتِ رسول کی بنیاد پر میسر آئی۔ آپ اس قدر سنت رسول کی پیروی کیا کرتے کہ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ محبوب کی ادائوں کے سانچے میں ڈھلا ہوا ہوتا۔ آپ کی اتباعِ سنت کی ایک مثال جو بخاری شریف میں مذکور ہے ملاحظہ کریں اور اندازہ لگائیں کہ آپ کس قدر متبع سنت تھے۔

صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی وفات سے صرف چند گھنٹے پہلے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ﷺ  کے کفن مبارک میں کتنے کپڑے تھے اور آپ کی وفات کس دن ہوئی؟ اس سوال کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی یہ انتہائی تمنا تھی کہ زندگی کے ہر لمحات میں تو میں نے اپنے تمام معاملات میں حضور اکرم ﷺ  کی مبارک سنتوں کی مکمل طور پر اتباع کی ہے، مرنے کے بعد کفن اور وفات کے دن میں بھی مجھے آپ کی اتباعِ سنت نصیب ہو جائے۔

اطاعتِ رسول ﷺ  : نبی اکرم ﷺ  کا حکم ماننا آپ کی اطاعت ہے۔ اطاعتِ رسول ﷺ  بھی ہر امتی کے لئے لازم و ضروری ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ  جس بات کا حکم فرما دیں بال کے کروڑویں حصے کے برابر بھی اس کی خلاف ورزی کا تصور بھی نہ کریں کیوں کہ آپ کی اطاعت اور آپ کے احکام کے آگے سر تسلیم خم کر دینا ہر امتی پر فرض عین ہے۔ اطاعتِ رسول کا حکم فرماتے ہوئے قرآن مقدس میں اللہ عزوجل نے فرمایا ’’یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ‘‘ اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔ (سورۂ نسا:۵۸)

دوسرے مقام پر ارشاد ہوا ’’وَ مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ‘‘ جس نے رسول کاحکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔ (سورۂ نسا:۷۹)

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا ’’وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّہَدَآئِ وَ الصّٰلِحِیْنَ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا‘‘ اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیا اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں۔ (سورۂ نسا:۶۹)

قرآن مقدس کی مذکورہ بالا آیتوں میں اس بات کی مکمل طور پر وضاحت ہے کہ اطاعتِ رسول کے بغیر ایمان کا تصور کیا ہی نہیں کیا جا سکتا اور اطاعتِ رسول کرنے والوں ہی کے لئے ایسے ایسے بلند درجات ہیں کہ وہ حضرات انبیا و صدیقین اور شہدا و صالحین کے ساتھ رہیں گے۔ اس بات کی مزید وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے جیسا کہ سرکارِ دوعالم ﷺ  نے ارشاد فرمایا ’’لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ہَوَاہُ تَبْعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ‘‘ تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کا دل میرے لائے ہوئے فرامین کا فرمانبردار نہ ہو جائے۔ (بخاری شریف)

صحابۂ کرام کس طرح اطاعتِ رسول کیا کرتے تھے اس کا اندازہ حضرتِ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس روایت سے ہو جائے گا۔ آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ  نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے ہے۔ آپ نے اس کے ہاتھ سے انگوٹھی نکال کر پھینکا دی اور فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی چاہتا ہے کہ آگ کے انگارہ کو اپنے ہاتھ میں ڈالے؟ حضور ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد لوگوں نے اس شخص سے کہا کہ تو اپنی انگوٹھی کو اٹھا لے (اور اس کو بیچ کر) اس سے نفع اٹھا تو اس نے جواب دیا کہ خدا کی قسم جب رسول اللہﷺ  نے اس انگوٹھی کو پھینک دیا تو اب میں اس انگوٹھی کو کبھی بھی نہیں اٹھا سکتا۔ (مشکوٰۃ شریف)

محبت رسول ﷺ : امتی کا یہ بھی فریضہ ہے کہ نبی اکرم نورِ مجسم کی محبت اس کے دل میں سارے جہاں سے بڑھ کو ہو اور دنیا کی محبوب چیزیں اپنے نبی کی محبت پر قربان کر دے۔ محبت رسول کے حوالے سے قرآنِ مقدس فرما رہا ہے ’’قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَ اَبْنَآؤُکُمْ وَ اِخْوَانُکُمْ وَ اَزْوَاجُکُمْ وَ عَشِیْرَتُکُمْ وَ اَمْوَالُنِ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَ مَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَأْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ وَ اللّٰہُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ‘‘ تم فرمائو اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسندیدہ مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔ (سورۂ توبہ:۲۴)

اس آیت میں اس بات کی صراحت ہے کہ محبت رسول اسی طرح فرض ہے جس طرح محبت خدا فرض ہے، حتی کہ دنیا کی کسی چیز کی محبت ایک مومن کے دل میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ اس کی مزید وضاحت اس حدیث سے ہو جاتی ہے۔ سرورِ کونین ا نے ارشاد فرمایا ’’لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ‘‘ تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ میری محبت اس کے دل میں اس کے باپ، اس کے بیٹے اور تمام لوگوں کی محبت سے زیادہ نہ ہو جائے۔ (بخاری شریف)

آیت اور حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مومن کے لئے ضروری ہے کہ دنیا کی ساری چیزوں سے بڑھ کر اپنے دل میں خدا اور اس کے رسول ﷺ  کی محبت کو جگہ دے کیوں کہ وہی اصل ایمان ہے۔ ؎

محمد کی محبت دین حق کی شرطِ اول ہے اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے

ہم اگر صحابۂ کرام کی زندگی کا مطالعہ کریں تو ان کے دل میں کس قدر جذبۂ محبت تھا اس کا ہمیں اندازہ ہو جائے گا۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غارِ ثور میں اپنی جان کی پروا کئے بغیر سانپ کے سوراخ پر اپنی ایڑی رکھ دی اور جب سانپ نے کاٹنا شروع کیا تو اس خیال سے کہ اگر پیر ہٹائوں تو نبی کریم ﷺ  کی نیند میں خلل واقع ہو جائے گا آپ نے اپنا پیر نہ ہٹایا، آپ نے نبیٔ کریم ﷺ  کی ایک آواز پر اپنے گھر کا پورا سامان لا کر آپ کے قدموں میں ڈال دیا اور خود ٹاٹ لپیٹ کر ببول کے کانٹوں کا بٹن بنا لیا۔

اسی طرح حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے محبت رسول میں نماز کی قربانی دے دی مگر عشقِ رسول قربان ہو یہ آپ نے گوارا نہ کیا۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎

مولیٰ علی نے واری تِری نیند پر نماز

وہ بھی نماز عصر جو اعلیٰ خطر کی ہے

ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں

اصل الاصول بندگی اس تاج ور کی ہے

تعظیم رسول ﷺ : تعظیم رسولﷺ  امتِ مسلمہ کا ایک ایسا فریضہ ہے کہ اس میں اگر ذرہ برابر کوتاہی ہو جائے تو ایمان سے ہاتھ دھل جائے گا۔ ہر امتی پر فرض ہے کہ سرورِ عالم ﷺ  اور آپ سے تعلق رکھنے والی ساری چیزوں کی تعظیم و تکریم کرے اور ہرگز ہرگز کبھی آپ کی شانِ اقدس میں کوئی ایسا لفظ اپنی زبان سے نہ نکالے جس میں آپ کی توہین ہو ورنہ اس کا ایمان رخصت ہو جائے گا اور اسے خبر تک نہ ہو گی۔

تعظیم رسول ﷺ  کا حکم دیتے ہوئے قرآن مقدس میں فرمایا گیا: اِنَّآ اَرْسَلْنَاکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاo لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ تُعَزِّرُوْہُ وَ تُوَقِّرُوْہُ وَ تُسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّ اَصِیْلاًo بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو! تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو۔ (سورۂ فتح:۹)

مذکورہ آیت میں غور کریں تو اس بات کا اندازہ ہو گا کہ تعظیم رسول کے لئے اللہ نے کسی وقت کا تعین نہ فرمایا لیکن تسبیح کے لئے صبح و شام کا تعین فرما دیا گو آیت کا خلاصہ یہ ہو گا کہ جہاں تک تم سے ممکن ہو اللہ کی حمد و ثنا کرو اور تسبیح و تہلیل کرو لیکن تعظیم رسول ہر وقت، ہر لمحہ، ہر آن ضروری ہے۔ دوسری آیت میں قرآن مقدس تعظیم رسول کا سلیقہ سکھاتے ہوئے فرماتا ہے ’’یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْآ اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لاَ تَجْہَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَ اَنْتُمْ لاَ تَشْعُرُوْنَ‘‘ اے ایمان والو! اپنی آوازیںاونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے نبی کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلاکر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ (سورۂ حجرات:۲)

اس آیت میں مسلمانوں کو نبی اکرم نورِ مجسم ﷺ کی آواز سے اپنی آواز کو بلند کرنے اور آپ کے سامنے بلند آواز سے گفتگو کرنے سے منع فرمایا گیا اور یہ کہا گیا کہ یہ ایسے اعمال ہیں کہ ان کی وجہ سے انسان کے اعمال بربادہو جاتے ہیں اور اسے خبر تک نہیں ہوتی۔

ایک آیت میں تو یہاں تک فرمایا گیا کہ تعظیم رسول میں کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔ چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے ’’فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَ عَزَّرُوْہُ وَ نَصَرُوْہُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیٓ اُنْزِلَ مَعَہٗ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ‘‘ تو وہ جو اس پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اترا وہی بامرادہوئے۔ (اعراف:۱۵۷)

مدح رسول ﷺ : سرکارِ دوعالمﷺ  کی مدح و ثنا، آپ کے محاسن کا ذکر کرنا اور آپ کے فضائل و کمالات علی الاعلان بیان کرنا بھی ہر امتی پر لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مقدس میں فرمایا ’’وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ‘‘ اور ہم نے تمہارے لئے تمہارا ذکر بلند کر دیا۔ (الم نشرح:۴)

قرآن مقدس میں متعدد مقامات پر سرکارِ دوعالم ﷺ  کی مدح و ثنا میں آیتیں موجود ہیں جس سے اس بات کا ثبوت بھی ملتا ہے کہ خود اللہ عزوجل نے بھی رسول اکرم نور مجسم ﷺ  کی مدح و ثنا فرمایا ہے۔

یوں تو قرآں ہے ہدایت کی کتاب پر کسی کا تذکرہ مقصود ہے

دورِ صحابہ میں حضرت حسان بن ثابت، حضرت عبداللہ بن رواحہ اور حضرت کعب بن زہیر وغیرہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سرکارِ دوعالم ا کی مدح و ثنا اشعار کی شکل میں کیا کرتے تھے اور خود نبی اکرم ﷺ  اسے سماعت فرماتے اور ان حضرات کو انعام و اکرام اور دعائوں سے نوازتے۔ آج ہم بھی اگر نعتِ رسول پڑھیں گے، آپ کی محاسن کا تذکرہ کریں گے تو یقینا اللہ کے پیارے رسول ا اپنے لمبے لمبے ہاتھوں سے ہمیں بھی انعام و اکرام سے نوازیں گے۔

درود شریف: نبی اکرم ﷺ  پر درود شریف پڑھنا اور صلوٰۃ و سلام کے گلدستے آپ کی بارگاہ میں پیش کرنا بھی مسلمانوں پر حضور ا کا حق بنتا ہے۔ درود شریف کے حوالے سے حکم فرماتے ہوئے اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا ’’اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا‘‘ بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے نبی پر اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔ (احزاب:۵۶)

اس آیت میں اللہ عزوجل نے اس بات کا ذکر فرمایا کہ اللہ بھی اپنے نبی پر درودبھیجتا ہے، اس کے فرشتے بھی نبی پر درود بھیجتے ہیں۔پھر ایمان والو کو یہ حکم فرما رہا ہے کہ تم بھی میرے نبی پر درود و سلام کا نذرانہ پیش کرو۔ پتہ چلا کہ درود شریف پڑھنا کوئی بدعت نہیں بلکہ یہ خود اللہ عزوجل کی سنت ہے۔ فضائل درودو سلام پر بے شمار کتابیں تصنیف کی گئیں ،ایک اہم کتاب دلائل الخیرات شریف بھی ہے ۔

دلائل الخیرات شریف کا پورا نام ’’دلائل الخیرات و شوارق الانوار فی ذکر الصلٰوۃ علی النبی المختار علیہ الصلوٰۃ و السلام‘‘ ہے، اس کی تالیف کا سبب ایک نہایت ہی ایمان افروز واقعہ ہے۔

حضرت شیخ جزولی رحمۃ اللہ علیہ علیہ اپنے مریدین کے ہمراہ سفر کرتے ہوئے شہر فاس کے ایک گائوں میں پہنچے، دورانِ سفر ہی نمازِ ظہر کا وقت ہو گیا۔ پانی کی تلاش میں وقت تنگ ہوتا جا رہا تھا بالآخر ایک کنواں ملا لیکن مشکل یہ پیش آگئی کہ پانی نکالنے کے لئے ڈول، رسی کچھ نہ تھا۔ آپ پریشان کھڑے سوچ رہے تھے کہ پانی حاصل کرنے کی کیا تدبیر کی جائے کہ اچانک ایک آٹھ نو سال کی بچی کی آواز سنائی دی ’’آپ کون ہیں اور اس قدر کیوں پریشان ہیں؟‘‘ فرمایا میں شیخ جزولی ہوں، سخت پریشان ہوں نماز کا وقت تنگ ہو رہا ہے، سب کو وضو کرنا ہے، بیٹی! ہماری مدد کرو اور ڈول اور رسی لا دو تاکہ ہم پانی نکال کر وضو کر لیں۔ بچی دوڑی ہوئی قریب آئی، بولی آپ تو بہت بڑے شیخ اور اللہ کے ولی ہیں، میں نے آپ کی نیکیوں کا بہت چرچا سنا ہے۔ حیرت ہے کہ ایک معمولی ضرورت آپ پوری نہیں کر پا رہے ہیں۔ بچی کنویں کے قریب گئی ور اس میں تھوک دیا۔ آناً فاناً کنواں چشمہ بن گیا، پانی اوپر تک آکر بہنے لگا۔ حضرت شیخ پسینہ میں شرابور ہو گئے، غلام انگشت بدنداں رہ گئے، جیسے تیسے سب نے اپنے آپ کو سنبھالا۔ شیخ نے بچی کو اللہ کا واسطہ دیتے ہوئے کہاتھوڑی دیر یہاں ٹھہرو ہم نماز پڑھ لیں پھر تم سے کچھ بات کرنی ہے۔ سب نے وضو کیا، نماز پڑھی، خوب پانی سے سیراب ہوئے۔

فارغ ہو کر حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ بچی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے بیٹی! اللہ تمہیں جزائے خیردے کہ تم نے نماز قضا ہونے کے گناہ سے ہمیں بچا کر ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ میں تمہیں اللہ اور رسول کا واسطہ دیتا ہوں کہ تم مجھے یہ بتادو کہ اس عمر میں تمہیں یہ بلند مرتبہ و مقام کس عمل سے حاصل ہوا؟ بچی شرمندہ ہو کر بولی: ایسا نہ کہئے میرے پاس تو کوئی مرتبہ ہے نہ مقام، میں تو بکریاں چرانے والی ایک دیہاتی لڑکی ہوں، ہاں یہ صدقہ اس آقا ا پر بکثرت درود شریف پڑھنے کا ہے جس کے دامن رحمت میں صرف انسانوں ہی کو نہیں وحشی جانوروں کو بھی پناہ نصیب ہوتی ہے۔ میں سارا دن بکریاں چراتے ہوئے اپنے اسی آقا ا پر درود شریف پڑھتی رہتی ہوں۔ انہوں نے بھی ایک موقع پر کنویں میں لعابِ مبارک ڈال کراس سے اپنے غلاموں کو سیراب کیا تھا میں نے انہیں کی سنت پر عمل کیا اور ان ہی کے دریائے رحمت سے آپ سب سیراب ہوئے ہیں۔

حضرت شیخ جزولی رحمۃ اللہ علیہ نے اسی واقعہ سے متأثر ہوکر اپنے مجرب درود شریف کتابی شکل میں جمع کرنے کا فیصلہ کیا اور دلائل الخیرات شریف ک صورت میں ہمیں یہ خزانہ بخشا۔ آپ نے اس بچی کا بتایا ہوا درود شریف بھی اسی کتاب کے ساتویں جز میں شامل کیا ہے، اسے صلوٰۃ البیر کہا جاتا ہے۔ مختصر لیکن بے حد مؤثر و مفید ہے ’’اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلٰوۃً دَائِمَۃً مَّقْبُوْلَۃً تُؤَدِّیْ بِہَا عَنَّا حَقَّہُ الْعَظِیْمَ‘‘ اے اللہ ہمارے آقا حضرت محمد ا اور آپ کی آل پر ایسا درود بھیج جو ہمیشہ باقی رہے اور مقبول ہو کہ ادا فرما دے تو اس کے سبب ہماری طرف سے اس کے حق عظیم کو۔

ہم ذیل میں کچھ اور الفاظ ِ درود نقل کرتے ہیں تاکہ غلامان رسول علیہ الصلوۃ والسلام اپنے آقا پر درود و سلام نچھاور کرکے دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہوسکیں۔

چند الفاظِ درود مع فضائل

درودِ رضویہ اور اس کے فضائل و فوائد:

صَلَّی اللّہُ عَلَی النَّبِیِّ الاُمِّیِّ وَاٰلِہٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَصَلٰوۃً وَّسَلاَماً عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ

اس کے چالیس فائدے ہیں جو صحیح اور معتبر حدیثوں سے ثابت ہیں۔یہاں مشتے نمونہ چند ذکر کئے جاتے ہیں۔جو شخص رسول اللہ ﷺ  سے محبت رکھے گا، جو ان کی عظمت تمام جہان سے زیادہ دل میں رکھے گا ،جو ان کی شان گھٹانے والوں سے، ان کے ذکر پاک مٹانے والوں سے دور رہے گا دل سے بیزا ہوگا ۔ایسا کوئی مسلمان اس درود شریف کو پڑھے گا ۔اللہ تعالیٰ تین ہزار نعمتیں اس پر اتار تا رہے گا ۔

٭ اس پر دوہزار بار اپنا سلام بھیجے گا ۔

٭ پانچ ہزار نیکیاں اس کے نامۂ اعمال میں لکھ دے گا ۔

٭ اس کے پانچ ہزار گناہ معاف فرمائے گا۔

٭ قیامت میں رسول اللہ ااس سے مصافحہ کریں گے۔

٭ اس کے ماتھے پریہ لکھ دے گا کہ یہ منافق نہیں۔

٭ اس کے ماتھے پر تحریر فرما دے گا کہ یہ دوزخ سے آزاد ہے۔

٭ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن شہیدوں کے ساتھ رکھے گا۔

٭ اس کے مال میں ترقی دے گا۔

٭ اس کی اولاد اور اولاد کی اولاد کی اولاد میں برکت دے گا ۔

٭ دشمنوں پر غلبہ دے گا۔

٭ دلوں میں اس کی محبت رکھے گا۔

٭ کسی دن خواب میں برکت زیارت اقدس سے مشرف ہوگا۔

٭ ایمان پر خاتمہ ہوگا۔

٭ قیامت میں رسول اللہ ا کی شفاعت اس کے لئے واجب ہوگی۔

٭ اللہ عزوجل اس سے ایسا راضی ہوگا کہ کبھی اس سے ناراض نہ ہوگا ۔

اس درود شریف کی تمام سنیوں کے لئے اجازت فرمائی ہے۔بشرطیکہ بدمذہبوں سے بچیں۔

درود رضویہ پڑھنے کا طریقہ: اس درود مقبول کو اکثر حضرات درودجمعہ بھی کہتے ہیں۔بعد نماز جمعہ مدینہ منورہ کی جانب منہ کرکے دست بستہ کھڑے ہوکر سو بار پڑھے ،بہتر ہے دو چار دس بیس حضرات مل کر پڑھیں۔یہ ایک درود دس کے برابر ہے اور ہر درود کا ثواب دس گنا ہے گویا جو اس درود کو ایک بار پڑھے ۔سو درود کا ثواب پائے اسی طرح دس افراد مل کر ایک ایک بار پڑھیں تو ہر ایک فرد ایک ہزار کا ثواب پائے ایک ہزار گناہ مٹیں ،ایک ہزار نیکیاں ملیں، ایک ہزار بار اس پر رحمت ہو۔ یہ تو صرف ایک بار پڑھنے کا ثمرہ ہے اسی طرح ہرایک نے سوسو بار پڑھاتو کتنا اجر ملے گا۔

جن حضرات تک یہ چیز پہنچے انہیں چاہییٔ کہ اپنے دوست واحباب رشتہ داروں اور نماز جمعہ پڑھنے والے ہمراہیوں کو بھی اس طرف توجہ دلائیںتاکہ درود پڑھنے والوں کی بھی جماعت کثیر ہوجایا کرے کیونکہ جتنے زیادہ افراد شامل ہوںگے ان کادس گنا ثواب ہر ایک کو ملے گا۔اور جو توجہ دلائے گا اس کو ان سب کا دس گنا ہوکر اس تنہا کو ثواب ملے گا اور پڑھنے والوں کے ثواب سے کچھ کم نہ ہوگا ۔

اس کو یوں سمجھئے کہ دس افراد نے شامل ہوکر ایک ایک بار پڑھا تو ہر ایک کو ایک ہزار کا ثواب ملا ۔اور جس نے دوسروں کو توجہ دلائی اس کو ان سب کا دس گنا ہوکر دس ہزار کا ثواب ملے گا۔مولیٰ تعالیٰ توفیق بخشے۔آمین

جب درود ختم کرے تو دعا کے لئے جس طرح ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں اٹھا کر دعائے شجرہ منظوم ،امام یا کوئی ایک فرد پڑھے اور سب آمین کہیں۔اس کے بعد فاتحہ پڑھ کر حضورسید عالم ا وصحابۂ کرام ودیگر بزرگان دین کی روح کوثواب بخشیں اس کے بعد مناجات منظوم پڑھیں اور اپنے لئے دعا کریں ۔ساتھ میں تمام سنی مسلمانوں کے لئے بھی ایمان پر خاتمہ اور بخشش کی دعا کریں۔

مدینہ منورہ کا رخ یہاں سے مغرب اور شمال کے درمیان پڑتا ہے ۔اس لئے قبلہ سے داہنے ہاتھ ترچھے ہوکر کھڑے ہوں تو آپ کا رُخ مدینہ منورہ کی جانب ہوجائے گا ۔

درود شفاء شریف: ’’اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِناَ مُحَمَّدٍ طِبِّ القُلُوْبِ وَدَوَآئِھاَ وَعاَفِیَۃِ الْاَبْدَانِ وَشِفَآئِھَا وَنُوْرِ الْاَبْصَارِ وَ ضِیَآئِھَا وَعَلیٰٓ اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلِّمْ‘‘

ترجمہ:’’یا اللہ درود بھیج ہمارے سردار حضرت محمد ا پر جو دلوں کے طبیب اور ان کی دوا ہیں اور جسم کی عافیت اور ان کی شفاہیں اور آنکھوں کا نور ان کی چمک ہیںاور آپ کی آل واصحاب پر درود وسلام بھیج۔‘‘ (جواہر البحار ؍ج ‘۳؍ص‘۴۰)

اس درود کو پڑھنے سے جسمانی وروحانی بیماریوں سے شفاء حاصل ہو تی ہے۔

صلوٰۃ حل المشکلات: ’’اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلیٰ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ قَدْ ضَاقَتْ حِیْلَتِیْ اَدْرِکْنِیْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ‘‘’’یا اللہ ہمارے سردار حضرت محمدا پر درود وسلام اور برکتیں بھیج ،یا رسول اللہا دستگیری کیجئے میرا حیلہ اور کوشش تنگ آچکے ہیں۔‘‘

مفتیٔ دمشق حامد آفندی رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ سخت مشکلات میں گرفتار ہوگئے،وہاں کا وزیر ان کا سخت دشمن ہوگیا ،وہ رات کو نہایت درجہ کرب وبلا میں تھے کہ آنکھ لگ گئی،نبیٔ اکرم ا تشریف لائے ،تسلی دی اور یہ درود شریف سکھایا کہ جب تو اس کو پڑھے گا،اللہ کریم تیری مشکل حل فرمادے گا ،آنکھ کھل گئی ،یہ درود شریف پڑھا تو مشکل حل ہوگئی۔

اکابرین ملت نے اکثر مشکلات میں اس کو پڑھا ہے ،فتاویٰ شامی کے مؤلف علامہ سید ابن عابدین رحمۃ اللہ علیہ کے ثبت میں اس کی باضابطہ سند موجود ہے۔(افضل الصلوت ؍ص۱۵۴)

پڑھنے کا طریقہ: اس کے پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد تازہ وضو کرکے دورکعت نماز نفل پڑھے،پہلی رکعت میں الحمد شریف کے بعد سورئہ قل یٰایھا الکافرون اور دوسری رکعت میں بعد الحمد سورئہ اخلاص پڑھے ،فارغ ہوکر قبلہ رو ایسی جگہ بیٹھے جہاں سوجانا ہو اور صدق دل سے توبہ کرتے ہوئے ایک ہزار بار اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْعَظِیْمْپڑھے،اس کے بعد دوزانو مؤدبانہ بیٹھ کر یہ تصور باندھ لے کہ رسول کریم اکے حضور میں حاضر ہوں اور عرض کررہا ہوں ،سوبار ، دوسوبار،تین سوبار غرضیکہ پڑھتا جائے جب نیند کا غلبہ ہوتواسی جگہ دائیں کروٹ پر قبلہ کی طرف منھ کرکے سوجائے۔ جب پچھلی رات جاگے تو پھر اسی جگہ مؤدبانہ بیٹھ کر صبح کی نماز تک درود شریف پڑھتا رہے ،پڑھتے وقت اپنی حاجت یا حل مشکلات کا تصور رکھے ،ان شاللہ تعالیٰ ایک رات میں یا تین راتوں میں مراد بر آئے گی،آخری رات جمعہ کی ہوتو بہتر ہے۔

زیارتِ روضۂ رسولﷺ : جس طرح مذکورہ تمام باتیں ایک امتی پر رسول ﷺ  کے حقوق ہیں اسی طرح سرکارِکونینﷺ  کے روضہ کی زیارت کرنا اورآپ کی بارگاہ میں حاضری دینا بھی ایک مسلمان پر رسولﷺ  کاحق ہے۔ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ’’وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذْ ظَّلَمُوْآ اَنْفُسَہُمْ جَآئُوْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰہَ وَ اسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا‘‘ اور اگرجب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائیں تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا اورمہربان پائیں۔ (سورۂ نسا:۶۴)

نبی اکرم ﷺ  نے بھی اپنے روضے کی زیارت کرنے والوں کے فضائل بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’مَنْ زَارَقَبْرِیْ وَجَبَتْ لَہٗ شَفَاعَتِیْ‘‘ جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو گئی۔ (بیہقی)

دوسرے مقام پر فرمایا ’’مَنْ زَارَنِیْ بَعْدَ مَمَاتِیْ فَکَاَنَّمَا زَارَنِیْ فِیْ حَیَاتِیْ وَ مَنْ مَّاتَ بِاَحَدِ الْحَرَمَیْنِ بُعِثَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ‘‘ جس نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی اس نے گویا میری حیات میں میری زیارت کی اور جو حرمین شریفین میں سے ایک میں مرگیا وہ قیامت کے دن امن والوں کی جماعت میں اٹھایا جائے گا۔(دارقطنی)

ایک اورمقام پر فرماتے ہیں ’’مَنْ حَجَّ الْبَیْتَ وَ لَمْ یَزُرْنِیْ فَقَدْ جَفَانِیْ‘‘ جس نے بیت اللہ کا حج کیا اور میری زیارت نہ کی اس نے مجھ پر ظلم کیا۔ (کامل ابن عدی)

میرے پیارے آقا ﷺ  کے پیارے دیوانو! وہ نبی جو ہماری خاطر رات رات بھر رویا کرتے تھے اور ہماری بخشش کے لئے گریہ و زاری کیا کرتے تھے، وہ نبی جنہوں نے اپنی پاکیزہ حیات کے لمحات امت کی خیر خواہی میںگزار دی، وہ نبی جنہوں نے ہم گنہ گاروں کے لئے کتنے مصائب و آلام برداشت کئے ہم پر بھی ان کے مذکورہ بالا آٹھ حقوق ہیں۔ ہمیں اس بات کی بھر پور کوشش کرنی چاہئے کہ کسی صورت میں ان آٹھوں حقوق میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہونے پائے۔ اللہ عزوجل ہم تمام کو مومن کامل اور عاشقِ صادق رہ کرزندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے اور حقوق اللہ، حقوق الرسول اورحقوق العباد کی ادائیگی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آخری دم اپنے پیارے حبیب ﷺ  کے دیار میں دو گز زمین عطا فرمائے۔

آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ و التسلیم