أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ مَا تُوۡعَدُوۡنَ لَاٰتٍ‌ ۙوَّمَاۤ اَنۡـتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک جس (روز قیامت) کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ ضرور آنے والا ہے اور تم (اللہ کو) عاجز کرنے والے نہیں ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جس (روز قیامت) کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ ضرور آنے والا ہے اور تم (اللہ کو) عاجز کرنے والے نہیں ہو۔ (الانعام : ١٣٤) 

جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ‘ اس کی تفسیر یہ ہے کہ ان سے قیامت کا وعدہ کیا گیا تھا اور وہ اس کا انکار کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ آنے والی ہے اور تم اللہ کو اس کے لانے سے عاجز کرنے والے نہیں ہو۔ اس میں اور بھی کئی احتمال ہیں کہ مسلمانوں سے جو ثواب کا وعدہ فرمایا ہے اور کفار اور منافقین کو جو عذاب کی وعید سنائی ہے ‘ وہ بھی آنے والی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 134