حدیث نمبر :600

روایت ہے حضرت مالک سے انہیں خبرپہنچی کہ حضرت علی ابن ابن طالب اورعبداﷲ ابن عباس فرماتے تھے کہ درمیانی نمازفجرکی نمازہے ۱؎ (مؤطا)اور ترمذی نے حضرت ابن عباس اور ابن عمر سے تعلیقًا روایت کیا۔

شرح

۱؎ ان بزرگوں کے نزدیک وسطی بمعنی افضل ہے جیسے”وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا”یعنی چونکہ یہ نمازبہت وجہوں سے باقی نمازوں سے افضل ہے،لہذانماز وسطیٰ یہی ہے۔خیال رہے کہ علی مرتضی خود ہی حضور سے روایت کرچکے ہیں کہ نماز وسطیٰ عصر ہے،یہاں فجر کو وسطی فرمانا دوسرے معنی سے ہے،لہذا آپ کے اس قول پرکوئی اعتراض نہیں ہوسکتا کہ حضرت شیرخدانے پہلے یہ فرمایا ہوپھرگزشتہ حدیث مرفوع سن کر اس سے رجوع کرلیا ہو۔