أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ اِنِّىۡ عَامِلٌ‌ۚ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَۙ مَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ‌ؕ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے اے میری قوم : تم اپنی جگہ عمل کرتے رہو میں (اپنی جگہ) عمل کرنے والا ہوں، سو تم عنقریب جان لو گے کہ آخرت میں کس کا انجام اچھا ہے، بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے اے میری قوم : تم اپنی جگہ عمل کرتے رہو میں (اپنی جگہ) عمل کرنے والا ہوں، سو تم عنقریب جان لو گے کہ آخرت میں کس کا انجام اچھا ہے، بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے۔ (الانعام : ١٣٥) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ تم اپنے طریق کار پر قائم رہو میں اپنے طریق کار پر قائم ہوں۔ اگر اس پر یہ اعتراض کیا جائے کہ کفار کو کفر کے طریقہ پر قائم رہنے کا حکم کس طرح درست ہوسکتا ہے۔ ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حکم مکلف کرنے کے لیے نہیں ہے ‘ بلکہ تہدید اور سرزنش کے طور پر ہے ‘ جیسا کہ اس آیت میں ہے : 

(آیت) ” فمن شآء فلیؤمن ومن شآء فلیکفر “۔ (الکہف : ٢٩) 

ترجمہ : سو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔ 

اور اس تہدید پر اس آیت کا یہ آخری جملہ دلالت کرتا ہے سو عنقریب تم جان لو گے کہ آخرت میں کس کا انجام اچھا ہے :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 135