أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الۡحَـرۡثِ وَالۡاَنۡعَامِ نَصِيۡبًا فَقَالُوۡا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعۡمِهِمۡ وَهٰذَا لِشُرَكَآئِنَا‌ ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمۡ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ‌ ۚ وَمَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ يَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمۡ‌ ؕ سَآءَ مَا يَحۡكُمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ اللہ کے لیے مقرر کرلیا اور بزعم خویش یہ کہا کہ یہ اللہ کے لیے ہے اور یہ ہمارے شرکاء کے لیے ہے ‘ سو جو حصہ ان کے شرکاء کے لیے ہے وہ اللہ کی طرف نہیں پہنچتا، اور جو حصہ اللہ کے لیے ہے وہ ان کے شرکاء کی طرف پہنچ جاتا ہے، یہ لوگ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور انہوں نے اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ اللہ کے لیے مقرر کرلیا اور بزعم خویش یہ کہا کہ یہ اللہ کے لیے ہے اور یہ ہمارے شرکاء کے لیے ہے ‘ سو جو حصہ ان کے شرکاء کے لیے ہے وہ اللہ کی طرف نہیں پہنچتا، اور جو حصہ اللہ کے لیے ہے وہ ان کے شرکاء کی طرف پہنچ جاتا ہے، یہ لوگ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں۔ (الانعام : ١٣٦) 

اللہ تعالیٰ اور بتوں کے لیے پھلوں اور مویشیوں کی تقسیم کے محامل : 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کفار کی اس لیے مذمت کی تھی کہ وہ قیامت کا اور مرنے کے بعد زندہ کیے جانے کا انکار کرتے ہیں اور ان کے دیگر جاہلانہ اقوال کی مذمت کی تھی اور ان کی عقل اور سوچ کا ضعف اور فساد بیان فرمایا تھا۔ انکی ان ہی جہالات میں سے ایک یہ جہالت تھی کہ وہ اپنی زعی پیداوار اور مویشیوں میں سے کچھ حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص کردیتے اور کچھ حصہ اپنے بتوں کے لیے اور اپنے زعم فاسد کے مطابق کہتے ‘ کہ یہ حصہ اللہ کا ہے اور یہ بتوں کا ہے ! اور یہ ان کا محض جھوٹ تھا اور یہ جھوٹ اس لیے تھا کہ انہوں نے اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کے دو حصے کیے۔ ایک اللہ کا اور ایک بتوں کا ‘ حالانکہ سب کچھ اللہ ہی کا پیدا کیا ہوا ہے اور سب اسی کی ملکیت ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا سو جو حصہ ان کے شرکاء کے لیے ہے وہ اللہ کی طرف نہیں پہنچتا اور جو حصہ اللہ کے لیے ہے وہ ان کے شرکاء کی طرف پہنچ جاتا ہے۔ اس کی تفسیر میں حسب ذیل اقوال ہیں : 

(١) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا جن پھلوں کو انہوں نے اللہ کا حصہ قرار دیا تھا ‘ اگر ان میں سے کچھ پھل شیطان کے حصہ میں گرجاتے تو ان کو چھوڑ دیتے اور اگر شیطان کے حصہ کے پھلوں میں سے کچھ پھل اللہ کے حصہ میں گرجاتے تو ان کو چن کر ان کی حفاظت کرتے اور ان کو شیطان کے حصہ کے پھلوں میں سے کچھ پھل اللہ کے حصہ میں گرجاتے تو ان کو چن کر انکی حفاظت کرتے اور ان کو شیطان کے حصہ میں ڈال دیتے۔ اسی طرح اللہ کے حصہ کی کھیتی میں پانی دیتے ہوئے اگر کچھ پانی کھیت سے نکل جاتا تو اس کو نکلنے دیتے اور شیطان کے حصہ کی کھیتی میں سے پانی نکلنے لگتا تو اس کو روک لیتے۔ 

(٢) حسن نے کہا اگر بتوں کے لیے رکھے ہوئے حصہ میں سے کوئی چیز خراب ہوجاتی تو اس کے بدلہ میں اللہ کے حصہ میں اتنی چیز اٹھا کر بتوں کے حصہ میں رکھ دیتے اور اگر اللہ رکھے ہوئے حصہ میں سے کوئی چیز خراب ہوجاتی تو اس کے بدلہ میں بتوں کے حصہ میں سے کوئی چیز نہ اٹھاتے۔ 

(٣) قتادہ نے کہا اگر قحط آجاتا تو اللہ کے حصہ میں رکھی ہوئی چیزوں کو کھانے پینے کے کام میں لاتے ‘ لیکن بتوں کے حصہ میں رکھی ہوئی چیزوں کو اسی طرح محفوظ رکھتے۔ (جامع البیان ‘ جز ٨ ص ٥٦۔ ٥٣‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

اس تقسیم کی مذمت : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے یہ لوگ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں ؟ اس فیصلہ کے برے ہونے کی حسب ذیل وجوہ ہیں : 

(١) پھلوں اور غلہ کی حفاظت میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حصہ پر بتوں اور شیطان کے حصہ کو ترجیح دی۔ 

(٢) انہوں نے از خود کچھ حصہ بتوں کے لیے مخصوص کیا ‘ اور کچھ اللہ کے لیے ‘ حالانکہ سب اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا تھا ‘ یہ ان کی جہالت ہے۔ 

(٣) حصوں کی یہ تقسیم انہوں نے بغیر کسی عقلی اور شرعی دلیل کے کی اور یہ ان کی جہالت ہے۔ 

(٤) پھلوں اور مویشیوں کی پیدائش میں بتوں کا کوئی دخل نہیں ہے نہ وہ ان پھلوں اور مویشیوں سے کوئی نفع حاصل کرسکتے ہیں تو پھر بتوں کے لیے پھلوں اور مویشیوں میں سے حصہ رکھنا اور اس کی حفاظت کرنا محض ان کی جہالت ہے۔ 

ان وجوہ سے ظاہر ہوگیا کہ مشرکین کا یہ بہت برا فیصلہ تھا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 136