أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَرَبُّكَ الۡغَنِىُّ ذُو الرَّحۡمَةِ ‌ؕ اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفۡ مِنۡۢ بَعۡدِكُمۡ مَّا يَشَآءُ كَمَاۤ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنۡ ذُرِّيَّةِ قَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور آپ کا رب ہی مستغنی رحمت والا ہے، اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جانے اور تمہارے جگہ جن لوگوں کو چاہے لے آئے، جس طرح تم کو ایک اور قوم سے پیدا کیا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ کا رب ہی مستغنی رحمت والا ہے، اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جانے اور تمہارے جگہ جن لوگوں کو چاہے لے آئے، جس طرح تم کو ایک اور قوم سے پیدا کیا ہے۔ (الانعام : ١٣٣) 

اللہ تعالیٰ کے مستغنی ہونے کا معنی : 

اس آیت کا معنی یہ ہے اے محمد ( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) آپ کے رب نے اپنے بندوں کو بعض کام کرنے کا حکم دیا ہے اور بعض کام کرنے کا حکم دیا ہے اور بعض کاموں سے منع کیا ہے ‘ اس کا یہ حکم دینا اپنے کسی فائدہ ‘ کسی غرض یا کسی عوض کے لیے نہیں ہے ‘ بلکہ ان کو اپنی عبادت کرنے اور احکام بجا لانے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ ان کی زندگی اور انکی موت ‘ ان کا رزق اور ان کی روزی اور ان کا نفع اور ان کا نقصان اس کے ہاتھ میں ہے ‘ وہ اس کے مکمل طور پر محتاج ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ عبادت کر کے اپنی احتیاج اس کے سامنے ظاہر کریں ‘ تاکہ وہ ان پر اپنا لطف و کرم اور اپنا فضل و احسان کرے۔ نیز گناہوں کی آلودگی اور معصیت کے زنگ سے ان کی روحیں مکدر اور ظلمانی ہوں گے۔ اس لیے ارواح بشریہ اور نفوس انسانیہ کو مفلحین اور ابرار کے درجہ میں پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کو اطاعات و عبادات کی ترغیب دی جائے اور ممنوعات اور گناہوں سے باز رہنے کی تلقین کی جائے۔ سو اس لیے فرمایا کہ آپ کا رب مستغنی ہے ‘ یعنی اس کو بندوں کی اطاعت اور عبادت کی احتیاج نہیں ہے۔ وہ رحمت والا ہے ‘ اس لیے یہ احکام اس کی رحمت کا تقاضا ہیں ‘ تاکہ اس کے بندے دائمی فوز و فلاح حاصل کرسکیں۔ 

استغناء اور رحمت کا اللہ تعالیٰ میں منحصر ہونا : 

اللہ تعالیٰ کے مستغنی ہونے پر یہ دلیل ہے کہ وہ مسغتنی نہ ہو تو وہ اپنے کمال کے حصول میں غیر محتاج ہوگا اور جو محتاج ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا ‘ اور یہ کلام مفید حصر ہے ‘ یعنی اس کے سوا اور کوئی مستغنی نہیں ہے ‘ کیونکہ واجب لذاتہ واحد ہی ہوتا ہے اور اس کے ماسوا سب ممکن ہیں اور سب اس کے محتاج ہیں۔ اسی طرح رحم فرمانے والا بھی وہی ہے ‘ اس کے سوا اور کوئی رحم کرنے والا نہیں ہے۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں ‘ بھوکے کو کھانا کھلاتے ہیں ‘ پیاسے کو پانی پلاتے ہیں تو ہم کہیں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ کھانے پینے کی چیزیں پیدا نہ کرتا تو وہ کیسے کھلاتے اور پلاتے اور اگر یہ چیزیں پیدا کردی تھیں پھر بھی اگر رحم کرنے والے میں اتنی قدرت نہ ہوتی کہ وہ ان چیزوں کو حاصل کرسکتا تو وہ کیسے ان کو کھلاتا اور پلاتا ؟ اور اگر قدرت بھی ہوتی لیکن اس کے دل میں اللہ تعالیٰ رحم کا جذبہ پیدا نہ کرتا تو وہ کیسے کھلاتا اور پلاتا ؟ اور اگر یہ سب کچھ ہوتا لیکن جس کو کھلانا پلانا ہے ‘ اس میں کھانے پینے کی قدرت نہ ہوتی ‘ مثلا اس کے منہ میں ناسور ہوتا یا اس کا اوپر کا جبڑا نچلے جبڑے پر بیٹھ جاتا اور اس کا منہ بند ہوجاتا تو وہ کیسے کھاتا پیتا ؟ اور یہ کیسے اس کو کھلاتا اور پلاتا ؟ پس غور کیجئے کھانے پینے کی چیزیں اللہ نے پیدا کیں ‘ ان کے حصول کی قدرت بھی اس نے دی تو وہی رحم کرنے والا ہے۔ بندے نے کیا کیا ہے، پھر بندہ کا رحم کرنا کسی غرض اور کسی غرض اور کسی عوض کے لیے ہوتا ہے ‘ کبھی سابق احسان کو اتارنے کے لیے رحم کرتا ہے ‘ کبھی دنیا میں تعریف ‘ کبھی آخرت میں اجر کے لیے رحم کرتا ہے ‘ کبھی اس لیے رحم کرتا ہے کہ وقت پڑنے پر اس پر بھی رحم کیا جائے اور کبھی اس لیے کہ کسی ضرورت مند کو دیکھ کر اس کے دل میں جو روقت پیدا ہوتی ہے ‘ اس کو زائل کرنے کے لیے رحم کرتا ہے۔ سو بندہ جو رحم کرتا ہے ‘ اس میں کسی غرض یا کسی عوض کی احتیاج ہوتی ہے اور ان اسباب کی احتیاج ہوتی ہے جن کا ہم نے پہلے ذکر کیا ہے۔ اور جو ہر سبب ‘ ہر عوض اور ہر غرض سے مستغنی ہو کر رحم کرتا ہے ‘ وہ صرف عزوجل ہے۔ اسی لیے فرمایا آپ کا رب ہی مستغنی ہے اور ہی رحمت والا ہے۔ 

اس آیت میں چونکہ رحمت کا ذکر فرمایا ہے ‘ اس وجہ سے ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص یہ گمان کرتا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اسی جہان کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر اس جہان کے لوگوں نے اس کی اطاعت نہیں کی تو وہ اس جہان کے لوگوں کو فنا کرکے ایک اور قوم کو پیدا کر دے گا ‘ جیسا کہ وہ ان لوگوں کو ایک اور نسل سے پیدا کرچکا ہے اور اس سے واضح ہوگیا کہ اس کے رحیم ہونے کا یہ معنی نہیں ہے کہ اس کی رحمت کسی ایک قوم کے ساتھ مخصوص ہے ‘ بلکہ وہ ہر قوم سے مستغنی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 133