یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَؕ-وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗؕ-وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ(۶۷)

اے رسول پہنچادو جو کچھ اُترا تمہیں تمہارے رب کی طرف سے (ف۱۷۳) اور ایسا نہ ہو تو تم نے اس کا کوئی پیام نہ پہنچایااور اللہ تمہاری نگہبانی کرے گا لوگوں سے (ف۱۷۴) بے شک اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا

(ف173)

اور کچھ اندیشہ نہ کرو ۔

(ف174)

یعنی کُفّار سے جو آپ کے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ سفروں میں شب کو حضور اقدس سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کا پہرہ دیا جاتا تھا جب یہ آیت نازل ہوئی پہرہ ہٹا دیا گیا اور حضورنے پہرہ داروں سے فرمایا کہ تم لوگ چلے جاؤ ، اللہ تعالٰی نے میری حفاظت فرمائی ۔

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْؕ-وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ-فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ(۶۸)

تم فرمادو اے کتابیو تم کچھ بھی نہیں ہو (ف۱۷۵) جب تک نہ قائم کرو توریت اور انجیل اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا (ف۱۷۶) اور بے شک اے محبوب وہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا اس سے ان میں بہتوں کو شرارت اور کفر کی اور ترقی ہوگی (ف۱۷۷) تو تم کافروں کا کچھ غم نہ کھاؤ

(ف175)

کسی دین و ملّت میں نہیں ۔

(ف176)

یعنی قرآنِ پاک ان تمام کتابوں میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت و صفت اور آ پ پر ایمان لانے کا حکم ہے جب تک حضور پر ایمان نہ لائیں توریت و انجیل کی اقامت کا دعوٰی صحیح نہیں ہو سکتا ۔

(ف177)

کیونکہ جتنا قرآنِ پاک نازل ہوتا جائے گا یہ مکابرہ و عناد سے اس کے انکار میں اور شدّت کرتے جائیں گے ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِــٴُـوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۶۹)

بے شک وہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں(ف۱۷۸) اور اسی طرح یہودی اور ستارہ پرست اور نصرانی ان میں جو کوئی سچے دل سے اللہ وقیامت پر ایمان لائے اور اچھاکام کرے تو ان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم

(ف178)

اور دل میں ایمان نہیں رکھتے منافق ہیں ۔

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًاؕ-كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْۙ-فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ(۷۰)

بے شک ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا(ف۱۷۹)اور ان کی طرف رسول بھیجے جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول وہ بات لے کر آیا جو اُن کے نفس کی خواہش نہ تھی(۱۸۰) ایک گروہ کو جھٹلایا اور ایک گروہ کو شہید کرتے ہیں (ف۱۸۱)

(ف179)

توریت میں کہ اللہ تعالٰی اور اس کے رسولوں پر ایمان لائیں اور حکمِ الٰہی کے مطابق عمل کریں ۔

(ف180)

اور انہوں نے انبیاء علیہم السلام کے احکام کو اپنی خواہشوں کے خلاف پایا تو ان میں سے ۔

(ف181)

انبیاء علیہم السلام کی تکذیب میں تو یہود و نصارٰی سب شریک ہیں مگر قتل کرنا یہ خاص یہود کا کام ہے ، انہوں نے بہت سے انبیاء کو شہید کیا جن میں سے حضرت زکریا اور حضرت یحیٰی علیہما السلام بھی ہیں ۔

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ(۷۱)

اور اس گمان میں رہے کہ کوئی سزا نہ ہوگی (ف۱۸۲) تو اندھے اور بہرے ہوگئے (ف۱۸۳) پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی (ف۱۸۴) پھر ان میں بہتیرے (بہت سے)اندھے اور بہرے ہوگئے اور اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے

(ف182)

اور ایسے شدید جُرموں پر بھی عذاب نہ کیا جائے گا ۔

(ف183)

حق کے دیکھنے اور سننے سے یہ ان کے غایتِ جہل اور نہایتِ کُفر اور قبولِ حق سے بدرجہ غایت اعراض کرنے کا بیان ہے ۔

(ف184)

جب انہوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام کے بعد توبہ کی اس کے بعد دوبارہ ۔

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَؕ-وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْؕ-اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُؕ-وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ(۷۲)

بے شک کافر ہیں وہ جو کہتے ہیں کہ اللہ وہی مسیح مریم کا بیٹا ہے(ف۱۸۵) اور مسیح نے تو یہ کہا تھا اے بنی اسرائیل اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب (ف۱۸۶) اور تمہارا رب بے شک جو اللہ کا شریک ٹھہرائے تو اللہ نے اس پر جنّت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

(ف185)

نصارٰی کے بہت فرقے ہیں ، ان میں سے یعقوبیہ اور ملکانیہ کا یہ قول تھا وہ کہتے تھے کہ مریم نے اِلٰہ جنا اور یہ بھی کہتے تھے کہ اِلٰہ نے ذاتِ عیسٰی میں حُلول کیا اور وہ ان کے ساتھ مُتحِّد ہو گیا تو عیسٰی اِلٰہ ہو گئے ” تَعَالٰی اللّٰہُ عَنْ ذٰالِکَ عُلُوًّ ا کَبِیْرًا ”(خازن)

(ف186)

اور میں اس کا بندہ ہوں اِلٰہ نہیں ۔

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍۘ-وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌؕ-وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۷۳)

بے شک کافر ہیں وہ جو کہتے ہیں اللہ تین خداؤں میں کا تیسرا ہے (ف۱۸۷) اور خدا تو نہیں مگر ایک خدا (ف۱۸۸) اور اگر اپنی بات سے باز نہ آئے (ف۱۸۹) تو جوان میں کافر مریں گے ان کو ضرور دردناک عذاب پہونچے گا

(ف187)

یہ قول نصارٰی کے فرقہ مرقوسیہ و نسطوریہ کا ہے ۔ اکثر مفسِّرین کا قول ہے کہ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ اللہ اور مریم اور عیسٰی تینوں اِلٰہ ہیں اور اِلٰہ ہونا ان سب میں مشترک ہے ۔ متکلِّمین فرماتے ہیں کہ نصارٰی کہتے ہیں کہ باپ ، بیٹا ، روح القدس یہ تینوں ایک اِلٰہ ہیں ۔

(ف188)

نہ اس کا کوئی ثانی نہ ثالث ، وہ وحدانیت کے ساتھ موصوف ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں باپ ، بیٹے ، بیوی سب سے پاک ۔

(ف189)

اور تثلیث کے معتقِد ر ہے توحید اختیار نہ کی ۔

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۷۴)

تو کیوں نہیں رجوع کرتے اللہ کی طرف اور اس سے بخشش مانگتے اور اللہ بخشنے والا مہربان

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌۚ-قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُؕ-وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌؕ-كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَؕ-اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ(۷۵)

مسیح ابن مریم نہیں مگر ایک رسول (ف۱۹۰) اس سے پہلے بہت رسول ہو گزرے (ف۱۹۱) اور اس کی ماں صِدِّیقہ ہے (ف۱۹۲) دونوں کھانا کھاتے تھے (ف۱۹۳) دیکھو تو ہم کیسی صاف نشانیاں ان کے لیےبیان کرتے ہیں پھر دیکھو وہ کیسے اوندھے جاتے ہیں

(ف190)

ان کو اِلٰہ ماننا غلط باطل اور کُفر ہے ۔

(ف191)

وہ بھی معجزات رکھتے تھے یہ معجزات ان کے صدقِ نبوّت کی دلیل تھے ، اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام بھی رسول ہیں ، ان کے معجزات بھی دلیلِ نبوّت ہیں ، انہیں رسول ہی ماننا چاہئے جیسے اور انبیاء علیہم السلام کو معجزات کی بنا پر خدا نہیں مانتے ان کو بھی خدا نہ مانو ۔

(ف192)

جو اپنے ربّ کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہیں ۔

(ف193)

اس میں نصارٰی کا رد ہے کہ اِلٰہ غذا کا محتاج نہیں ہو سکتا تو جو غذا کھائے ، جسم رکھے ، اس جسم میں تحلیل واقع ہو ، غذا اس کا بدل بنے ، وہ کیسے اِلٰہ ہو سکتا ہے ۔

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًاؕ-وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۷۶)

تم فرماؤ کیا اللہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہو جو تمہارے نقصان کا مالک نہ نفع کا (ف ۱۹۴) اور اللہ ہی سنتا جانتا ہے

(ف194)

یہ اِبطالِ شرک کی ایک اور دلیل ہے ، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اِلٰہ (مستحقِ عبادت) وہی ہو سکتا ہے جو نفع و ضرر وغیرہ ہر چیز پر ذاتی قدرت و اختیار رکھتا ہو ، جو ایسا نہ ہو وہ اِلٰہ مستحقِ عبادت نہیں ہو سکتا اور حضرت عیسٰی علیہ السلام نفع و ضرر کے بالذات مالک نہ تھے ، اللہ تعالٰی کے مالک کرنے سے مالک ہوئے تو ان کی نسبت اُلُوہیت کا اعتقاد باطل ہے ۔ (تفسیر ابوالسعود)

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠(۷۷)

تم فرماؤ اے کتاب والو اپنے دین میں ناحق زیادتی نہ کرو (ف۱۹۵) اور ایسے لوگوں کی خواہش پر نہ چلو(ف۱۹۶) جو پہلے گمراہ ہوچکے اور بہتوں کو گمراہ کیا اور سیدھی راہ سےبہک گئے

(ف195)

یہود کی زیادتی تو یہ کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی نبوّت ہی نہیں مانتے اور نصارٰی کی زیادتی یہ کہ انہیں معبود ٹھہراتے ہیں ۔

(ف196)

یعنی اپنے بددین باپ دادا وغیرہ کی ۔