حدیث نمبر :603

روایت ہے حضرت ابومحذورہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پربنفس نفیس اذان پیش کی فرمایا کہو اﷲ اکبر اﷲ اکبر اﷲ اکبر اﷲ اکبر،اشھدان لا الہ الا اﷲ اشھدان لا الہ الا اﷲ،اشھدان محمدارسول اﷲ اشھدان محمد ارسول اﷲ،پھر لوٹو تو کہو اشھدان لا الہ الا اﷲ اشھدان لا الہ الا اﷲ اشھدان محمدا رسول ا ﷲ اشھدان محمدا رسول ا ﷲ ۲؎ ،حی علے الصلوۃ حی علے الصلوۃ،حی علی الفلاح حی علی الفلاح،اﷲ اکبر اﷲ اکبر،لا الہ الا اﷲ ۳؎ (مسلم)

شرح

۱؎ آپ مشہورصحابی ہیں،آپ کا نام سَمُرَہ یا اَوْس،یاسلمان،یا سلمٰے ہے،اپنی کنیت میں مشہورہوئے۔ان کے باقی حالات پہلے بیان ہوچکے ہیں۔

۲؎ اس کا نام ترجیع ہے،یعنی اذان میں شہادتیں پہلے آہستہ دوبارکہنا،پھربلند آوازسے دوبارکہنایہ شوافع کے ہاں سنت ہے،حنفیوں کے نزدیک نہیں،دلائل ابھی آتے ہیں۔

۳؎ یہ حدیث وہابیوں کی انتہائی دلیل ہے کہ اذان میں ترجیع ہے۔امام اعظم فرماتے ہیں عبداﷲ ابن زیدکے خواب میں جو فرشتے نے اذان کی تعلیم دی اس میں ترجیع نہ تھی،نیزخودعبداللہ ابن زیدنے جب وہ خواب بارگاہ نبوی میں پیش کی اس میں بھی ترجیع نہ تھی،نیزحضرت بلال جوامام المؤذنین ہیں ان کی اذان میں ترجیع منقول نہیں،نیزعبداﷲ ابن مکتوم جومسجدنبوی شریف کے نائب مؤذن تھے ان کی اذان میں بھی ترجیع منقول نہیں،نیز حضرت سعدقُرظی مسجد قباء کے مؤذن کی اذان میں بھی ترجیع منقول نہیں۔رہی حدیث ابو محذورہ،ان کی روایت سخت متعارض ہیں،اوران میں اضطراب ہے،اورمضطرب ومتعارض حدیث قابل عمل نہیں۔چنانچہ طبرانی نے انہیں ابومحذورہ سے جواذان نقل کی اس میں ترجیع نہیں۔طحاوی شریف نے ابومحذورہ کی اذان میں دوباراﷲ اکبر کا ذکرکیااوریہاں ترجیع کا بھی ذکرہے،نیزصحابۂ کرام نے ابومحذورہ کی روایت پر عمل نہ کیا،چنانچہ حضرت علی،حضرت بلال،حضرت ثوبان،حضرت سلمہ ابن اکوع وغیرہم رضی اللہ عنہم اذان وتکبیر کے کلمات دو۲دو۲بار کہتے اورکہلواتے تھے۔عنایہ شرح ہدایہ نے فرمایا کہ حضرت ابومحذورہ کو زمانۂ کفر میں توحیدورسالت سے سخت نفرت تھی،اسلام کے بعدانہیں اذان کا حکم ملا تو یہ شرم کی وجہ سے شہادتین آہستہ کہہ گئے تب حضورنے فرمایا کہ پھرزورسے کہو۔فتح القدیر نے فرمایا کہ حضرت ابومحذورہ شہادتین میں مدچھوڑگئے تھے،اس لئے یہ کلمات دوبارہ کہلوائے گئے۔ہماری تفسیرکی بناءپرحضرت ابومحذورہ کی حدیث میں نہ تعارض ہوگا نہ اضطراب کیونکہ ترجیع والی روایات میں خصوصی واقعہ کا ذکر ہے اور دیگرروایات میں عام حالات کا۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب “جاء الحق”حصہ دوم میں دیکھو۔