اَعراسِ مبارکہ

اَعراسِ مبارکہ

عرس کا لفظ اس حدیث ِ پاک سے ماخوذ ہے: ”(قبر میں سوال وجواب کے مرحلے سے گزر کر جو مومن سرخرو ہوگا‘ اس کے بارے میں نبی ﷺ کا ارشاد ہے:)پھر اُس کی قبر کو ستّر ذِراع تک کشادہ کردیا جائے گا‘ قبر اس کے لیے روشن کردی جائے گی اور اس سے کہا جائے گا: سوجائو‘ وہ (نور و سرور کے اس ماحول میں)کہے گا:میں اپنے گھر والوں کے پاس جانا چاہتا ہوں ‘تاکہ انہیں اپنے حال سے آگاہ کروں ‘ منکَر نکیر کہیں گے:دلہن کی طرح (سکون کے ساتھ )سوجاکہ (شبِ عروسی میں)خاندان میں اس کے محبوب ترین فرد (شوہر) کے سوا کوئی اُسے نہیں جگاتا‘(وہ اسی طرح پُرسکون رہے گا)یہاں تک کہ (قیامت کے دن ) اللہ تعالیٰ اُسے قبر سے اٹھائے گا‘‘ (ترمذی:1071) چونکہ اللہ کے ولی کے بارے میں حسنِ عاقبت کاہمیں ظنِ غالب ہوتا ہے‘ اس لیے ان کی یاد کیلئے جومحفل منعقد کی جاتی ہے ‘اُسے ”عُرس‘‘ کہتے ہیں۔ شبِ زفاف کو شبِ عروسی کہاجاتا ہے ۔ قطعی طور پرکسی کے جنتی ہونے کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے یا اس کی عطا سے اس کے رسولِ مکرم ﷺ جانتے ہیں ‘ اس کا ثبوت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض صحابۂ کرام کودنیا ہی میں جنتی ہونے کی بشارت دی ‘ ان کا ذکر احادیث مبارکہ میں موجود ہے۔

ہمارے ہاں اولیائے کرام کے اعراسِ مبارکہ منعقد ہوتے رہتے ہیں ۔ان اعراس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اُن کی سیرتِ طیبہ بیان کی جائے‘ تاکہ لوگ اس کی پیروی کریں اور انہیں اپنا مُقتدیٰ اور مشعلِ راہ بنائیں ۔جو حضرات اعراس کو بدعت قرار دیتے تھے‘ انہیں بھی اب ان کی اہمیت کا ادراک ہوگیا ہے؛چنانچہ وہ اپنے اکابر کے ایامِ وفات کی مناسبت سے اخبارات وجرائد میں مضامین لکھتے ہیں ‘ان کی یاد میں کنونشن اور کانفرنسیں منعقد کرتے ہیں ‘جیسے مفتی محمود کنونشن ‘ شیخ الہند کانفرنس ‘ دارالعلوم دیوبند کا ڈیڑھ سو سالہ جشن‘ دارالعلوم کراچی کا پچاس سالہ جشن‘مولانا مودودی کے صد سالہ یومِ ولادت پر ترجمان القرآن کا خاص نمبر وغیرہ ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کنونشن اور کانفرنس کی اصطلاح مغرب سے آئی ہے ‘جبکہ عرس کی اصطلاح حدیثِ پاک سے ماخوذ ہے۔

اہلسنت بھی ان مجالس کو واجب یا سنت قرار نہیں دیتے ‘بلکہ مستحسن سمجھتے ہیں ‘کیونکہ اللہ تعالیٰ کواپنے محبوب بندوں کا ذکر پسند ہے ‘ قرآنِ کریم میںارشاد ہے: ”اور ان کو اللہ کے دنوں کی یاد دلائو‘‘(ابراہیم:5)۔مفسرین کرام نے لکھا ہے :”ایّام اللہ‘‘سے مراد وہ دن ہیں ‘ جن میں گزشتہ امتوں بالخصوص بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں نازل ہوئیں اوررب تبارک وتعالیٰ نے انہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائیں‘جیسے مَن وسلویٰ کا نزول ‘پتھر سے بارہ چشموں کا پھوٹنا ‘ سمندر کابنی اسرائیل کے لیے پھٹنا ‘ بادلوں کا سایہ کرنا اور دیگر آیاتِ الٰہیہ ‘لہٰذا جن ایام میں اللہ کی یاد تازہ ہوجائے ‘ وہ سب ایام اللہ ہیں ۔حدیث ِپاک میںفرمایا:”ولی وہ ہے کہ جب اس پر نظر پڑے تو اللہ یاد آجائے‘‘(مسند احمد:27601)۔

تصوُّف روح وقلب کی پاکیزگی وبالیدگی سے عبارت ہے ‘اسی کو قرآن وحدیث میں ”تزکیہ‘‘سے تعبیر فرمایا ہے‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے(۱):”بے شک جس نے اپنا باطن صاف کرلیا‘ وہ کامیاب ہوگیا ‘ پھر اپنے رب کو یادکیااور نماز پڑھتا رہا‘‘ (الاعلیٰ: 14-15)۔ (۲)”کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنی پارسائی کا دعویٰ کرتے ہیں‘ بلکہ اللہ ہی جس کو چاہے پاک فرماتا ہے‘‘ (النسائ:49)۔ (۳)”سوتم اپنی پارسائی کا دعویٰ نہ کرو‘ اللہ متقین کو خوب جانتا ہے ‘‘(النجم:32)۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ!تو میرے نفس کو اس کاتقویٰ عطا کراور اُسے پاک فرما‘کیونکہ تو ہی( نفوس کو)بہتر پاک فرمانے والا ہے‘‘(صحیح مسلم:2722)۔ الغرض تصوُّف اسی تزکیہ‘ عرفان اور احسان کا نام ہے اور یہ شریعت کے مقابل نہیں ‘بلکہ شریعت کا منشا اور مقصود ہے۔

امام احمد رضا قادری رَحِمَہُ اللّٰہُ تعالیٰ نے لکھا ہے: ”شریعت اصل ہے اورطریقت اُس کی فرع‘شریعت مَنبع ہے اورطریقت اس سے نکلاہوا دریا‘طریقت کی جدائی شریعت سے محال ودشوارہے‘ شریعت ہی پرطریقت کا دَارومَدَارہے ‘شریعت ہی اصلِ کاراورمَحَکّ ومعیار ہے‘شریعت ہی وہ راہ ہے‘ جس سے وصول اِلَی اللّٰہ ہے ‘اس کے سوا آدمی جوراہ چلے گا‘ اللہ تعالیٰ کی راہ سے دور پڑے گا‘طریقت اس راہ کا روشن ٹکڑا ہے‘اس کا شریعت سے جداہونا محال ہے۔ طریقت میں جوکچھ منکشف ہوتاہے‘شریعتِ مُطہرہ ہی کی اِتّباع کا صدقہ ہے۔جس حقیقت کو شریعت رد فرمائے‘وہ حقیقت نہیں‘بے دینی اورزندقہ ہے‘‘۔آپ سے پوچھاگیا : ”ایک شخص شریعت کا عامل نہیں ‘بلکہ اَحکامِ شریعت کا تارک ہے‘اُس کا مُواخَذہ کیاجائے توکہتاہے: ”اَحکامِ شریعت تو”وصول الی اللہ‘‘ کا ذریعہ ہیںاورمیں تو واصل ہوچکا ہوں‘یعنی منزلِ حق پرپہنچ چکاہوں‘لہٰذا میں اب اَحکام کا مُکلّف(پابند)نہیں ہوں‘‘۔ اُنہوں نے امام الصُّوفیہ حضرت عبدالوہاب شعرانی اورسیّدُ الطائفہ جنید بغدادی رَحِمَہُمَا اللّٰہ تعالیٰ کے حوالے سے بتایا: ”ہاں!واصل (پہنچاہوا)توضرور ہے‘ مگر جہنم میں‘‘۔مزید لکھتے ہیں: ”صوفیہ کرام فرماتے ہیں:بے علم صوفی شیطان کا مسخرہ ہے‘وہ جانتاہی نہیں کہ شیطان نے اُسے اپنی راہ پر لگا رکھا ہے ‘‘۔

ہمارے ہاں سال میں شاید ایک دن بھی ایسا نہ آتا ہو کہ کہیں نہ کہیں کسی بزرگ کا عرس نہ منایا جارہا ہو‘ لیکن بیشتر اعراسِ مبارکہ اپنے مقصد سے دور ہیں اور بعض صورتوں میں مقصد کی ضد ہیں ۔بیشتر مزارات کے سجادہ نشین اپنے بزرگوں کی تعلیمات کے برعکس نظر آئیں گے ‘باطن کا حال تو اللہ جانے ‘ظاہر بھی شریعت کے مطابق نہیں ہوتا ۔پیشہ ور واعظین ‘نقیب اورنعت خواں ان کی شان بیان کرنے میں زمین وآسمان کے قلابے ملاتے ہیں ‘تعریف میں حد سے زیادہ مبالغہ کرتے ہیں ‘ ان کا کام بس نذرانے کے عنوان سے فیس لے کر مارکیٹنگ کرنا‘جوہرِ خطابت کے ذریعے لوگوں کو سحرِ عقیدت میں مبتلا کرنا اور ذہنی سرورعطا کرناہوتا ہے۔ نہ وہاں دینی تعلیم وتربیت کا کوئی انتظام ہوتا ہے ‘نہ بدعات ومنکَرات اورخرافات پر روک ٹوک ہوتی ہے ‘بس ایک آوارگی اور بے راہ روی کا سماں ہوتا ہے اور تو چھوڑیے ! نہ نماز کی تلقین کی جاتی ہے ‘ نہ سادہ لوح لوگوں کو نماز سکھائی جاتی ہے ‘نہ دین کے دوسرے ضروری مسائل بتائے جاتے ہیں‘بلکہ صاحبِ سجادہ کو یہ باتیں مطلوب ہی نہیںہیں ‘کیونکہ لوگوں کے ذہنوں پر جاہلانہ عقیدت کے جوپردے پڑے ہوئے ہیں ‘اگروہ اٹھ گئے ‘ توپھر لوگ صاحبِ سجادہ کو بھی شریعت کے معیار پر پرکھیں گے اورآئینۂ عقیدت کرچی کرچی ہوکر رہ جائے گا۔

پس لازم ہے کہ اَعراسِ مبارکہ کے مواقع پر دوردراز سے آئے ہوئے لوگوں کی دینی تربیت کا اہتمام ہو ‘اُن کے حلقے بنائے جائیں اور اہلِ علم انہیں نماز‘ روزہ ‘زکوٰۃ اور حج کے مسائل سہل اور اَحسن انداز میں سکھائیں ‘حقوق اللہ اور حقوق العباد سے آگاہ کریں‘ منکَرات پر خبردار کریں۔ مزارات پر حاضری اور بزرگانِ دین کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ پڑھنے کے آداب بتائے جائیں ‘ مزارات کے طواف سے منع کریںاور بتائیں کہ غیر اللہ کے لیے سجدۂ عبادت شرک ہے اور شریعتِ مصطفوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں مزار یا غیر اللہ کے آگے سجدۂ تعظیمی حرام ہے ۔امام احمد رضا قادری سے مزارات کو بوسہ دینے کی بابت سوال ہوا‘ تو آپ نے لکھا : ”اس کے جواز اور عدمِ جواز کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں‘ لیکن عوام کے لیے شرعی احتیاط اسی میں ہے کہ انہیں منع کیا جائے ‘‘۔اسی طرح یہ ضروری نہیں ہے کہ بزرگانِ دین کے ایصالِ ثواب کے لیے جو کھانا یا اشیاء دی جائیں ‘وہ مزار پر ہی جاکر دی جائیں ‘آپ جہاں کہیں بھی ہوں ‘ ان کے لیے ایصالِ ثواب کا اہتمام کرسکتے ہیں ۔

امام احمد رضا قادری سے سوال ہوا: ”ایک خاتون ہر سال گیارہویں شریف کی نیاز کرتی ہیں اور ڈیڑ ھ من چاول پکا کر غوث الاعظم کی ایصالِ ثواب کے لیے تقسیم کرتی ہیں ‘ فلاں جگہ ایک دینی مدرسے میں مستحق طلبہ ہیں ‘ اگر یہ رقم اُن پر خرچ کر دی جائے توکیاگیارہویں شریف کی نیاز ہو جائے گی ؟ ‘‘۔ آپ نے جواب دیا:”تم گیارہویںشریف کی نیاز کے جواز کی بات کرتے ہو‘ گیارہویں بھی ہو جائے گی اور چودہ سو گنا زیادہ اجر ملے گا ‘ کیونکہ یہ صدقہ جاریہ ہو گا‘‘۔ نوٹ: یہاں نیاز سے نذرِ شرعی مراد نہیں‘ ایسی نذر صرف اللہ کے نام پر جائز ہے‘ یہاں نیاز عرفی معنی میں ہے :یعنی بزرگانِ دین کے لیے ایصالِ ثواب کا اہتمام کرنا۔مزار کے احترام کے لیے ایک چادر کافی ہے ‘ مزید چادریں اِسراف ہے ۔علماء نے غلافِ کعبہ پر قیاس کرتے ہوئے مزار پر چادر کے جواز کی بات کی ہے اور غلافِ کعبہ ہمیشہ ایک ہی رہا ہے‘یہ نہیں کہ جس کے من میں آئے ‘ اپنی طرف سے کعبۃ اللہ پر ایک غلاف چڑھادے۔اس سے بہتر ہے کہ صاحب ِ مزار کے ایصالِ ثواب کے لیے ضرورت مندوں کو لباس فراہم کیا جائے اور عزتِ نفس رکھنے والے غریبوں کو تلاش کر کے ان کے گھروں میں اشیائے ضرورت پہنچائی جائیں ۔

علماء کو اَعراس کی ایسی تقریبات میں شرکت نہیں کرنی چاہیے ‘جہاں دھمال اوررقص ہو ‘ مرد وزن کا مخلوط اجتماع ہو ‘مزار کے قرب وجوار میںچرس ‘ ہیروئن اور افیون کے نشے بازلوگوں کے ٹھکانے ہوں۔ بعض مزارات پر عام طور پر ایسے لوگوں کا جم گھٹا لگا رہتا ہے ‘لیکن وہ بندگانِ اغراض مزار سے متصل مسجد کی باجماعت نماز میں نظر نہیں آئیں گے ‘اِلَّا مَاشَائَ اللّٰہ۔کیا یہ اولیائے کرام سے عقیدت کا سچا مظہر ہے۔اسی طرح جہاں رات گیارہ بجے سے اذانِ فجر تک محافلِ نعت چل رہی ہوں ‘لیکن یہ خود ساختہ عشقِ رسول کے دعویدارنہ نمازِ عشاء اور نہ نمازِ فجر میں نظرآتے ہیں ‘یہ کیسا عشقِ رسول ہے ؟ عشقِ رسول تو اطاعتِ رسول پر آمادہ کرتا ہے اور اس کا حصول اتباعِ رسول کے جادۂ مستقیم پر چل کر ہی ممکن ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آج کل پیشہ ور واعظین اپنے سادہ لوح سامعین کے سامنے عقیدے اور عمل کا اس انداز سے تقابل کرتے ہیں کہ اعمالِ صالحہ بے توقیر اوربے مایہ معلوم ہوتے ہیں۔ عقیدہ وایمان توجوہر ہے ‘ اساس ہے ‘منبع ہے اور اعمالِ صالحہ اس کی فرع ‘ شاخیں اور ثمرات ہیں ۔ذراسوچئے! آپ کوپھل دار اور سایہ داردرخت اچھا لگے گا یا بے ثمر وبے سایہ۔

پس‘ شجرِ ایمان کے اثماراور برگ وبار اعمالِ صالحہ ہی تو ہیں ‘اسی لیے قرآنِ مجید میں سینکڑوں مقامات پر ایمان اور اعمالِ صالحہ کا ذکر ایک ساتھ فرمایا گیا ہے‘رسول اللہ ﷺ نے یہ دعائیہ کلمات تعلیم فرمائے : ”اے اللہ!میں اس علم سے تیری پناہ چاہتا ہوں‘ جو نفع نہ دے ‘ اس دل سے تیری پناہ چاہتا ہوں‘ جس میں تیرے لیے عاجزی نہ ہو‘ اس نفس سے پناہ چاہتا ہوں جو کبھی سیر نہ ہواوراس دعا سے پناہ چاہتا ہوں‘ جو کبھی قبول نہ ہو‘‘ (صحیح مسلم:2722)۔

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ

بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.