نماز کے اعلان کی تدابیر

باب الاذان

اذان کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ اذان کے لغوی معنی اعلان و اطلاع عام ہے۔رب فرماتا ہے:”وَاَذٰنٌ مِّنَ اللہِ وَرَسُوۡلِہٖٓ "اورفرماتاہے: "فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیۡنَہُمْ”۔ شریعت میں خاص الفاظ سے نماز کی اطلاع کا نام اذان ہے۔سب سے پہلی اذان ہے جبریل امین نے معراج کی رات بیت المقدس میں دی جب حضور نے سارے نبیوں کونماز پڑھائی،مگر مسلمانوں میں ہجرت کے بعد اھ ؁ میں شروع ہوئی جس کا واقعہ آگے رہا ہے۔(درمختار)خیال رہے کہ اذان نمازپنجگانہ اور جمعہ کے سواکسی نمازکے لیے سنت نہیں۔نماز کے علاوہ ۹جگہ اذان کہنامستحب ہے:بچے کے کان میں،آگ لگتے وقت،جنگ میں،جنات کے غلبہ کے وقت،غمزدہ اور غصے والے کے کان میں،مسافرجب راستہ بھول جائے،مرگی والے کے پاس،میت کو دفن کرنے کے بعدقبرپر۔(درمختار،و شامی)مرقات میں ہے کہ حضرت علی مرتضٰے فرماتے ہیں ایک دن مجھے حضورنے غمگین پایا فرمایا علی!اپنے کان میں کسی سے اذان کہلوالو،اذانِ نماز اسلامی شعار میں سے ہے اگرکوئی قوم اذان چھوڑدے تو ان پرجہادکیاجاسکتاہے۔خیال رہے کہ امام اعظم کے نزدیک اذان وتکبیر یکساں ہیں،تکبیر میں صرف”قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃ”زیادہ ہے۔

حدیث نمبر :602

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ صحابہ نے آگ اورناقوس کا ذکرکیا تو یہود اورعیسائیوں کا ذکرکیا ۱؎ تب حضرت بلال کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دوبارکہیں اورتکبیرکے ایک ایک بار۲؎ اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے یہ ایوب سے ذکرکیا تو انہوں نے فرمایا کہ اقامت کے سواء۳؎ (مسلم بخاری)

شرح

۱؎ یعنی بعدہجرت نمازکی اطلاع کا کوئی قاعدہ نہ تھا،اندازے سے مسلمان مسجدمیں جمع ہوجاتے اورجماعت ہوجاتی،جب مسلمان زیادہ ہوگئے تو صحابہ نے نماز کے اعلان کی تدابیرسوچیں،بعض نے رائے دی کہ نمازکے وقت آگ جلادی جایا کرے اس پراعتراض ہوا کہ یہ طریقہ یہود کاہے،بعض نے کہاکہ ناقوس(گھنٹا)بجائے جائے اس پراعتراض ہوا کہ یہ طریقہ عیسائیوں کاہے وہ اپنی عبادات کے وقت گھٹنے بجاتے ہیں،اسلامی اعلان ان سے ممتاز چاہیئے۔خیال رہے کہ بعض یہود اپنی عبادت کے اعلان کے لئے سنکھ یا بِگل بجاتے تھے،بعض لوگ آگ جلاتے تھے،یہاں ان کی ایک جماعت کا ذکرہے۔

۲؎ یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جوتکبیرکے کلمے ایک ایک بارکہتے ہیں،جیسے شوافع اورموجودہ وہابی مگر ان کی یہ دلیل بہت ضعیف ہے کیونکہ یہاں اذان میں ترجیع کا ذکرنہیں حالانکہ یہ حضرات اذان ترجیع کے قائل ہیں،نیز اس حدیث سے لازم آتا ہے کہ تکبیر کے سارے کلمے ایک ایک بارہوں حالانکہ یہ حضرات "اﷲ اکبر "چارباراور”قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃ”دوبارکہتے ہیں۔ظاہرہے کہ یہاں اذان اورتکبیرسے شرعی اذان مرادنہیں بلکہ لغوی اعلان واطلاع مرادہے،یعنی حضور نے اس وقت یہ رائے دی کہ حضرت بلال محلوں میں جاکرباربارنماز کا اعلان کریں اورپھرجب نمازی مسجدمیں جمع ہوجائیں اورجماعت کھڑی ہونے لگے تو اہل مسجد کو جمع کرنے کے لئے ایک بارکہہ دیں کہ اٹھو جماعت تیارہے،ورنہ شرعی اذان توعبداﷲ ابن زید وغیرہم صحابہ نے خواب میں دیکھی انہوں نے بارگاہ نبوی میں پیش کی تب سب سے پہلے فجرکے وقت دی گئی۔لہذا یہ حدیث ان بزرگوں کی دلیل ہرگز نہیں بن سکتی۔

۳؎ یعنی تکبیرکے سارے کلمات ایک بارکہے جائیں مگر”قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃ”دوبار۔اب بھی یہ حدیث وہابیوں کی دلیل نہیں بن سکتی کیونکہ یہاں "اِلَّاالْاِقَامَۃَ”ایوب راوی کا اپنا قول ہے حضور کے الفاظ طیبہ نہیں،نیز "اﷲ اکبر”چاربار اب بھی نہیں آیا۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.