أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالُوۡا مَا فِىۡ بُطُوۡنِ هٰذِهِ الۡاَنۡعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوۡرِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلٰٓى اَزۡوَاجِنَا ‌ۚ وَاِنۡ يَّكُنۡ مَّيۡتَةً فَهُمۡ فِيۡهِ شُرَكَآءُ ‌ؕ سَيَجۡزِيۡهِمۡ وَصۡفَهُمۡ‌ ؕ اِنَّهٗ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے کہا جو کچھ ان مویشیوں کے پیٹوں میں ہے وہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہیں اور ہماری عورتوں پر وہ حرام ہیں، اور اگر وہ بچہ مردہ پیدا ہوا تو اس میں مرد اور عورتیں سب شریک ہیں ‘ وہ ان کی من گھڑت باتوں کی عنقریب سزا دے گا، بیشک وہ بہت حکمت والا بہت جاننے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور انہوں نے کہا جو کچھ ان مویشیوں کے پیٹوں میں ہے وہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہیں اور ہماری عورتوں پر وہ حرام ہیں، اور اگر وہ بچہ مردہ پیدا ہوا تو اس میں مرد اور عورتیں سب شریک ہیں ‘ وہ ان کی من گھڑت باتوں کی عنقریب سزا دے گا، بیشک وہ بہت حکمت والا بہت جاننے والا ہے۔ (الانعام : ١٣٩) 

جو کچھ ان مویشیوں کے پیٹیوں میں ہے اس سے کیا مراد ہے ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس سے مراد دودھ ہے۔ 

عامر نے کہا بحیرہ کا دودھ صرف مرد پیتے تھے اور اگر بحیرہ مرجائے تو اس کا گوشت مرد اور عورتیں دونوں کھاتے تھے۔ نیز حضرت ابن عباس (رض) سے ایک روایت ہے کہ جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہے ‘ اس سے مراد دودھ ہے۔ وہ اس دودھ کو عورتوں پر حرام قرار دیتے تھے اور اس دودھ کو صرف مرد پیتے تھے اور بکری جب نر کو جنتی تو اس کو صرف مرد کھاتے اور عورتیں نہیں کھاتی تھیں اور اگر وہ مادہ کو جنتی تو اس کو ذبح نہیں کرتے تھے اور اگر وہ مردہ جنتی تو اس میں مرد اور عورتیں سب شریک ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرما دیا۔ (جامع البیان ‘ جز ٨ ص ‘ ٦٤۔ ٦٣ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو ان کے اس جھوٹ کی سزا دے گا جیسا کہ اس آیت میں فرمایا ہے : 

(آیت) ” ولا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ھذا حلال وھذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون “۔ (النحل : ١١٦) 

ترجمہ : اور جن چیزوں کے متعلق تمہاری زبانیں جھوٹ بولتی ہیں ‘ ان کے بارے میں یہ نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے ‘ تاکہ تم اللہ پر جھوٹ باندھو ‘ بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ‘ وہ فلاح نہیں پائیں گے۔ 

خود ساختہ شریعت سازی کا رد اور ابطال :

ان آیات میں یہ دلیل ہے کہ اپنی طرف سے بغیر شرعی دلیل کے کسی چیز کو فرض یا واجب قرار دینا ‘ یا بغیر شرعی دلیل کے کسی چیز کو ناجائز اور حرام کہنا ‘ اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھنے کے مترادف ہے۔ 

مثلا یہ کہنا کہ امام جعفر صادق کی نیاز کی کھیر پوریوں کو اسی جگہ بیٹھ کر کھایا جائے اور اس کو وہاں سے منتقل کرنا جائز نہیں ہے ‘ یا جیسے لوگ بغیر کسی شرعی دلیل کے قبضہ بھر داڑھی کو واجب کہتے ہیں ‘ یا جیسے بعض لوگ میلاد شریف ‘ سوئم اور چہلم وغیرہ کو ناجائز اور حرام کہتے ہیں اور بعض لوگ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہنے کو حرام کہتے ہیں اور بعض لوگ ائمہ کی تقلید کو ناجائز اور حرام بلکہ شرک کہتے ہیں ‘ اور بعض لوگ یارسول اللہ ! کہنے کو بھی شرک کہتے ہیں۔ حالانکہ حدیث میں اس پر وعید ہے۔ حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جن چیزوں کا مجھے تم پر سب سے زیادہ خوف ہے ‘ ان میں سے یہ ہے کہ ایک شخص قرآن پڑھے گا حتی کہ جب تم اس پر قرآن کا نور دیکھو گے اور وہ اسلام کی پشت پناہ ہوگا ‘ تو قرآن اس سے جاتا رہے گا اور وہ اس کو پس پشت پھینک دے گا اور اپنے پڑوسی پر تلوار سے حملہ کرے گا اور اس پر شرک کی تہمت لگائے گا۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں سے کوئی شرک کا مصداق ہوگا ‘ جس پر شرک کی تہمت لگائی گئی ہے ‘ یا شرک کی تہمت لگانے والا۔ آپ نے فرمایا بلکہ شرک کی تہمت لگانے والا۔ اس حدیث کو امام ابو یعلی موصلی نے روایت کیا ہے۔ (مختصر اتحاف السادۃ المھرۃ بزوائد العشرہ ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث : ٦٦٩٦‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 139