أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالُوۡا هٰذِهٖۤ اَنۡعَامٌ وَّحَرۡثٌ حِجۡرٌ ‌ۖ لَّا يَطۡعَمُهَاۤ اِلَّا مَنۡ نَّشَآءُ بِزَعۡمِهِمۡ وَاَنۡعَامٌ حُرِّمَتۡ ظُهُوۡرُهَا وَاَنۡعَامٌ لَّا يَذۡكُرُوۡنَ اسۡمَ اللّٰهِ عَلَيۡهَا افۡتِرَآءً عَلَيۡهِ ‌ؕ سَيَجۡزِيۡهِمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے کہا یہ مویشی اور کھیتی ممنوع ہیں، ان کو وہی کھائے گا جس کو ہم چاہیں گے، (یہ پابندی) انکے زعم باطل میں ہے، اور بعض مویشیوں پر سواری حرام کی گئی اور بعض مویشیوں پر یہ (ذبح کے وقت) اللہ کا نام نہیں لیتے، اللہ پر افتراء کرتے ہوئے۔ وہ عنقریب ان کو ان کی افترا پردازیوں کی سز دے گا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور انہوں نے کہا یہ مویشی اور کھیتی ممنوع ہیں، ان کو وہی کھائے گا جس کو ہم چاہیں گے، (یہ پابندی) انکے زعم باطل میں ہے، اور بعض مویشیوں پر سواری حرام کی گئی اور بعض مویشیوں پر یہ (ذبح کے وقت) اللہ کا نام نہیں لیتے، اللہ پر افتراء کرتے ہوئے۔ وہ عنقریب ان کو ان کی افترا پردازیوں کی سز دے گا۔ (الانعام : ١٣٨) 

مشرکین کے خود ساختہ احکام کا رد اور ابطال : 

کفار اور مشرکین نے زمانہ جاہلیت میں اپنے مویشیوں اور اپنے کھیتوں کی تین قسمیں کردی تھیں۔ 

(١) وہ مویشی اور کھیت جن کے متعلق وہ کہتے تھے ‘ ان سے نفع اٹھانا کسی شخص کے لیے بھی جائز نہیں ہے ‘ یہ ان کے باطل معبودوں اور بتوں کے لیے مخصوص ہیں وہ کہتے تھے ان کو وہی شخص کھا سکتا ہے جس کو ہم کھلانا چاہیں اور ان کو صرف بتوں کے مرد خادم کھاسکتے ہیں ‘ عورتیں نہیں کھا سکتیں اور ان کے اس ساختہ قول پر کوئی دلیل نہیں تھی ‘ عقلی نہ نقلی۔ 

(٢) وہ مویشی جن کی پشت حرام کردی گئی تھی ‘ ان پر کوئی سواری کرسکتا تھا اور نہ ان پر سامان لاد سکتا تھا ‘ ان جانوروں کو وہ البحائر ‘ السوائب اور الحوامی کہتے تھے۔ ان کی تفصیل المائدہ : ١٠٣ میں گزر چکی ہے۔ 

(٣) وہ جانور جن پر ذبح کے وقت وہ اللہ کا نام نہیں لیتے تھے ‘ وہ ان پر ذبح کے وقت صرف بتوں کا نام لیتے تھے اور ان سے کوئی نفع نہیں اٹھاتے تھے ‘ حتی کہ حج میں بھی اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے تھے۔ 

انہوں نے جو یہ تقسیم کی تھی یہ محض اللہ تعالیٰ پر افترا تھی اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس کو مشروع نہیں تھا اور ان کے لیے یہ جائز نہیں تھا کہ وہ از خود اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی چیز کو حلال یا حرام کریں ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : 

(آیت) ” قل ارء یتم ماانزل اللہ لکم من رزق فجعلتم منہ حراما و حلال قل آللہ اذن لکم ام علی اللہ تفترون (یونس : ٥٩) 

ترجمہ : آپ کہئے کہ بتاؤ کہ اللہ نے تمہارے لیے جو رزق اتارا تو تم نے کچھ اس میں حرام کرلیا اور کچھ حلال ‘ آپ کہیے کہ آیا اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر بہتان باندھتے ہو۔ 

پھر اللہ تعالیٰ نے وعید سنائی کہ عنقریب اللہ انکو ان کی افتراء پردازیوں کی سزا دے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 138