أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَذٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيۡرٍ مِّنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ قَـتۡلَ اَوۡلَادِهِمۡ شُرَكَآؤُهُمۡ لِيُرۡدُوۡهُمۡ وَلِيَلۡبِسُوۡا عَلَيۡهِمۡ دِيۡنَهُمۡ‌ ۚ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوۡهُ ‌ؕ فَذَرۡهُمۡ وَمَا يَفۡتَرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اسی طرح بہت سے مشرکین کے لیے ان کے شرکاء نے ان کی اولاد کے قتل کرنے کو مزین کردیا تاکہ وہ انہیں ہلاک کردیں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ کردیں اور اگر اللہ چاہتا تو وہ یہ کام نہ کرتے سو آپ ان کو اور ان کی افتراء پردازیوں کو چھوڑ دیجئے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اسی طرح بہت سے مشرکین کے لیے ان کے شرکاء نے ان کی اولاد کے قتل کرنے کو مزین کردیا تاکہ وہ انہیں ہلاک کردیں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ کردیں اور اگر اللہ چاہتا تو وہ یہ کام نہ کرتے سو آپ ان کو اور ان کی افتراء پردازیوں کو چھوڑ دیجئے۔ (الانعام : ١٣٧) 

آیات سابقہ سے ارتباط : 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اور بتوں کے لیے پھلوں اور مویشیوں کی تقسیم کرنا ‘ اپنے خالق اور منعم کی معرفت سے نہایت جہالت تھی ‘ اسی طرح شیطان کے ورغلانے سے اپنی اولاد کو قتل کرنا بھی انکی نہایت جہالت اور گمراہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے احکام اور افعال لغو اور باطل ہونے میں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ 

مجاہد نے بیان کیا ہے کہ ان کے شیاطین نے ان کو یہ حکم دیا کہ یہ اپنی اولاد کو قتل کردیں ‘ تاکہ رزق میں کمی کی وجہ سے ان کو اولاد کی پرورش کرنے کوئی پریشانی نہ ہو۔ اور بعض نے یہ کہا کہ شیطان نے انکو حکم دیا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو قتل کردیں ‘ تاکہ بیٹی کے باپ کو جس عار اور ذلت کا سامنا ہوتا ہے ‘ اس سے یہ بچ جائیں۔ (جامع البیان ‘ جز ٨ ص ٥٧‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

خاندانی منصوبی بندی کی ترغیب اور تشہیر کا شرعی حکم : 

شیطان نے جو ان کے لیے قتل اولاد کو مزین کیا تھا ‘ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ شیاطین نے ان کے دلوں میں یہ خوف ڈالا کہ اگر بچے زیادہ ہوگئے تو انکی پرورش مشکل ہوگی ‘ سو وہ تنگی رزق کے ڈر سے اپنے بچوں کو قتل کردیتے تھے ‘ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ 

(آیت) ” ولا تقتلوا اولادکم خشیۃ املاق نحن نرزقھم وایاکم “۔ (الاسراء : ٣١) 

ترجمہ : اور اپنی اولاد کو فاقہ کے ڈر سے قتل نہ کرو ہم انہیں روزی دیتے ہیں اور تمہیں بھی۔ 

آج کل حکومتی ذرائع نشرواشاعت سے ضبط تولید اور خاندانی منصوبہ بندی کا بہت زبردست پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ کم بچے اور خوش حال گھرانا اور یہ کہا جاتا ہے کہ قیام پاکستا سے اب تک (٩٧ ء تا ٤٧ ء) پچاس سال میں ملک کی آبادی تقریبا چار گنی ہوچکی ہے ‘ اور ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کے اس سیلاب کے آگے بند باندھناضروری ہے۔ ملک کے وسائل آبادی کے اس سیلاب کے متحمل نہیں ہیں ‘ اس لیے بچے دو ہی اچھے۔ لیکن خاندانی منصوبہ بندی اور ضبط تولید کی بنیاد تنگی رزق کا خوف ہے اور یہی زمانہ جہالت میں کافروں اور مشرکوںٗ کا نظرہ تھا۔ جس کا قرآن مجید نے سختی کے ساتھ رد کیا ہے ‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر زور دیا ہے کہ بچے زیادہ پیدا کیے جائیں۔ 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت معقل بن یسار (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ‘ مجھے ایک عورت ملی جو بہت خوبصورت اور عمدہ خاندان کی ہے ‘ لیکن اس سے بچے نہیں ہوتے (وہ بانجھ) ہے کیا میں اس سے نکاح کرلوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں وہ دوبارہ آیا اور پھر اجازت طلب کی ‘ آپ نے پھر منع فرمایا : اس نے تیسری مرتبہ آکر اجازت طلب کی تب آپ نے فرمایا محبت کرنے والی اور بچہ پیدا کرنے والی عورتوں سے نکاح کرو ‘ کیونکہ بیشک میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔ 

(سنن ابو داؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٠٥٠‘ سنن النسائی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢٢٧‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ٩‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٥٧‘ ٤٠٥٦‘ ٤٠٢٨‘ سنن سعید بن منصور ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٩٠‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ ص ٢٤٥‘ ١٩٨‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٧‘ ص ٨٢۔ ٨١‘ مجمع الزوائد ‘ ج ٤‘ ص ٢٥٨۔ ٢٥٢‘ المعجم الاوسط ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٥٧٤٢) 

قرآن مجید کی اس صریح آیت اور اس حدیث صحیح کا صاف اور صریح منشاء اولاد کی کثرت ہے ‘ نہ کہ اولاد کی قلت ‘ اس لیے خاندانی منصوبہ بندی اور ضبط تولید کا وسائل پیداوار میں کمی کی بنیاد پر پروپیگنڈہ کرنا اسلام کے خلاف ہے ‘ اور اس کی کسی جبری قانون کے ذریعہ عوام پر لاگو کرنا شرعا جائز نہیں ہے ‘ البتہ کسی صحیح شرعی عذر کی بناء پر جدید طبی طریقہ سے ضبط ولادت کو روکا جائے تو وہ جائز ہے 

ضبط تولید کے بارے میں مصنف کی تحقیق : 

خاندانی منصوبہ بندی کو کسی عام قانون کے ذریعہ جبرا تمام مسلمانوں پر لاگو کردینا جائز نہیں ہے ‘ کیونکہ اول تو اس کی اباحت تمام مکاتب فقہ کے نزدیک متفق علیہ نہیں ہے۔ شیخ ابن حزم اور علامہ رویانی عزل کو ناجائز قرار دیتے ہیں اور بعض فقہاء کراہت کے ساتھ اس کی اجازت دیتے ہیں اور جو فقہاء اس کی بلاکراہت اجازت دیتے ہیں ‘ وہ اس کو بیوی کی اجازت کے ساتھ مشروط کرتے ہیں۔ اس لیے خاندانی منصوبہ بندی کو کسی عام قانون کے ذریعہ ہر شخص پر لازم کردینا شرعا جائز نہیں ہے اور انفرادی طور پر بھی دو صورتوں میں خاندانی منصوبہ اصلا جائز نہیں ہے۔ 

(الف) کوئی شخص تنگی رزق (خشیۃ املاق) کے خوف کی وجہ سے ضبط تولید کرے ‘ یہ اس لیے ناجائز ہے کہ اس کا حرمت کی علت ہونا قرآن مجید میں منصوص ہے (آیت) ” لا تقتلوا اولادکم خشیۃ املاق “۔ (اسراء : ٣٠) 

(ب) کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے ‘ کیونکہ ان کی تزویج میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے ‘ اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین عرب کی ہے۔ قرآن اور حدیث میں اس کی بہت زیادہ مذمت کی گئی ہے۔ 

جن صورتوں میں مخصوص حالات کے تحت انفرادی طور پر ضبط تولید جائز ہے ‘ وہ حسب ذیل ہیں : 

(الف) لونڈیوں سے ضبط تولید کرنا ‘ تاکہ اولاد مزید لونڈی اور غلام بننے سے محفوظ رہے ‘ ہرچند کہ اب لونڈی غلاموں کا رواج نہیں ہے ‘ لیکن اسلام کے احکام دائمی اور کلی ہیں۔ اگر کسی زمانہ میں یہ رواج ہوجائے تو لونڈیوں کے ساتھ ضبط تولید کا عمل جائز ہوگا۔ 

(ب) اگر سلسلہ تولید کو قائم رکھنے سے عورت کے شدید بیمار ہونے کا خدشہ ہو تو ضبط تولید جائز ہے۔ 

(ج) اگر مسلسل پیدائش سے بچوں کی تربیت اور نگہداشت میں حرج کا خدشہ ہو تو وقفے سے پیدائش کے لیے ضبط تولید جائز ہے ‘ کیونکہ جب گھر میں صرف ایک عورت ہو اور نو دس ماہ بعد دوسرا بچہ آجائے تو اس کے لیے دونوں بچوں کو سنبھالنا مشکل ہوتا ہے۔ 

(د) حمل اور وضع حمل کے وقفوں کے دوران بعض صورتوں میں انسان اپنی خواہش پوری نہیں کرسکتا ‘ اس لیے زیادہ عرصہ تک بیوی سے جنسی خواہش پوری کرنے کی نیت سے ضبط تولید کرنا جائز ہے۔ 

(ہ) بعض عورتوں کو آپریشن سے بچہ ہوتا ہے ‘ بیوی کو آپریشن کی تکلیف اور جان کے خطرہ سے بچانے کے لئے یہ عمل جائز ہے۔ 

(و) جب پیٹ میں مزید آپریشن کی گنجائش نہ رہے تو ایسا طریقہ اختیار کرنا واجب ہے ‘ جس سے سلسلہ تولید بالکلیہ بند ہوجائے۔ 

(ز) اگر ماہر ڈاکٹر یہ کہے کہ مزید بچہ پیدا ہونے سے عورت کی جان خطرہ میں پڑجائے گی ‘ تب بھی سلسلہ تولید کو بند کرنا واجب ہے۔ 

عزل کے علاوہ ضبط تولید کے حسب ذیل مروج طریقے بھی شرعا جائز ہیں : 

(الف) کھانے والی گولیاں اور انجکشن۔ 

(ب) کیمیاوی اشیاء (ChemicAl Methods) مثلا فوم جیلی اور کریم وغیرہ کا بیرونی استعمال ،

(ج) ساتھی (Condom)

(د) ڈایا فرام۔ 

(ہ) چھلہ (loop)

(و) نل بندی (TubAl LigAtion) 

آخر الذکر عمل ‘ یعنی نل بندی میں عورت کی بیضہ دان کی نالی کو (FAllopion Tube) کاٹ کر باندھ دیا جاتا ہے ‘ اس عمل کے بعد عورت کبھی بھی بچہ پیدا کرنے کے قابل نہیں رہتی ‘ یہ عمل صرف دو صورتوں میں جائز ہے۔ ایک اس صورت میں جب عورت کا آپریشن سے بچہ پیدا ہوتا ہو اور مزید آپریشن کی گنجائش نہ رہے ‘ اور دوسری اس صورت میں جب کوئی ماہر ڈاکٹر یہ کہے کہ بچہ پیدا ہونے سے یا مزید بچے پیدا ہونے سے عورت کی ہلاکت کا خطرہ ہے۔ ان صورتوں میں نل بندی صرف جائز ہی نہیں ‘ بلکہ واجب ہے۔ 

ضبط تولید کا ایک طریقہ شرعا ممنوع ہے ‘ اور وہ ہے نس بندی (VAsec Tomy) اس عمل میں مرد کی جن نالیوں سے تولیدی جرثومے (Sperm) گزرتے ہیں ‘ ان نالیوں کو کاٹ کر باندھ دیا جاتا ہے۔ اس عمل کے بعد مرد میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتی ہے۔ 

نس بندی سے جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے مرد بانجھ ہوجاتا ہے اور مرد کا اپنے آپ کو بانجد کرا لینا جائز نہیں ہے ‘ کیونکہ انسان اپنے جسم کا خود مالک نہیں ہے ‘ انسان خود کو بیچ سکتا ہے نہ خود کشی کر کے خود کو ختم کرسکتا ہے ‘ نہ اپنا کوئی عضو کاٹ کر کسی کو دے سکتا ہے ‘ اسی لیے اسلام میں اعضاء کی پیوند کاری بھی جائز نہیں ہے۔ بنا بریں نس بندی بھی جائز نہیں ہے۔ صحیح مسلم کی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ بعض صحابہ نے عسرت کی بناء پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خصی ہونے کی اجازت طلب کی تو آپ نے ان کو اجازت نہیں دی اور شہوت کم کرنے کے لیے روزے رکھنے کا حکم دیا۔ (صحیح مسلم ‘ ج ١‘ ص ٤٤٩‘ مطبوعہ کراچی) 

استقرار حمل کو روکنے کے لیے گولیاں کھائی جائیں ‘ کیمیائی اشیاء لگائی جائیں یا خارجی حائل (ساتھی اور چھلہ وغیرہ) کا استعمال کیا جائے ان میں سے کوئی چیز بھی حمل سے رکاوٹ کا یقینی سبب نہیں ہے۔ بسا اوقات دوائیں اور کیمیاوی اشیاء اثر نہیں کرتیں ‘ بعض مرتبہ ڈایا فرام کے استعمال کے باوجود قطرات رحم میں چلے جاتے ہیں اور حمل ہوجاتا ہے اور بعض اوقات جڑواں بچے بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ 

علاوہ ازیں ان تمام چیزوں کے مضر اثرات بہت زیادہ ہیں۔ چھلہ اور ڈایا فرام کے استعمال سے الرجی اور انفیکشن کی شکایات عام ہیں ‘ اور کھانے والی دواؤں سے سنا ہے کہ چھاتی کا کینسر ہوجاتا ہے۔ انسان جب بھی اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے فطری اور طبعی نظام سے ہٹ کر کوئی کام کرے گا ‘ مشکلات میں گرفتار ہوگا۔ اس لیے ناگزیر حالات کے علاوہ ضبط تولید سے احتراز کرنا چاہیے۔ 

امام غزالی نے اپنے زمانے ‘ حالات ‘ ضروریات اور وسائل کے اعتبار سے عزل کی پانچ صورتیں بیان کی ہیں۔ ایک صورت حرام ‘ ایک بدعت ‘ اور تین صورتیں جائز قرار دی ہیں۔ اب چونکہ ترقی یافتہ دور ہے بہت سے نئے اسباب اور وسائل وجود میں آچکے ہیں ‘ اور ضروریات اور تقاضے بھی بڑھ گئے ہیں مسائل بھی زیادہ ہیں۔ اس اعتبار سے ہم نے ضبط تولید کی نو صورتیں بیان کی ہیں ‘ جن میں پانچ مباح (جائز ہیں) دو ناجائز ہیں۔ اور دو صورتوں میں سلسلہ تولید ختم کرنا واجب ہے۔ ان میں عورت کی نسوانی انڈوں والی نس (FAllopiAn Tube) کو کاٹ کا باندھ دیا جاتا ہے ‘ تاکہ یہ نسوانی انڈے رحم میں نہ داخل ہو سکیں۔ اس عمل کو نل بندی (TubAl LigAtion) کہتے ہیں۔ 

بعض لوگوں کو یہ پریشانی ہوتی ہے کہ قرآن مجید میں ہے (آیت) ” وما من دابۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا “۔ (ھود : ٦) زمین پر چلنے والے ہر جاندار کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اس لیے خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کرنا اللہ تعالیٰ کی رزاقیت پر توکل کے خلاف ہے ؟ ایسے لوگوں سے میں یہ کہتا ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ نے رزق کا ذمہ لے لیا ہے تو وہ حصول رزق کے لیے نوکریاں اور کاروبار کیوں کرتے ہیں ؟ مستقبل کے لیے رقم پس انداز کیوں کرتے ہیں ؟ کیا انکے یہ اعمال اللہ تعالیٰ کی رزاقیت پر توکل کے خلاف نہیں ؟ پس جس طرح رزق کے ذرائع اور اسباب کو اختیار کرنا اللہ تعالیٰ کی رزاقیت پر توکل کے خلاف نہیں ہے ‘ اسی طرح بار معیشت کو کم کرنے کے لیے ضبط تولید کرنا بھی اللہ تعالیٰ کی رزاقیت ‘ ایمان اور توکل کے خلاف نہیں ہے اور بعض لوگوں کو یہ الجھن ہوتی ہے کہ ضبط تولید کرنا تقدیر پر ایمان کے خلاف ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پھر آپ مصائب اور پریشانیوں میں اللہ تعالیٰ سے دعا کیوں کرتے ہیں ؟ جب تقدیر کا ہونا اٹل ہے اور تقدیر بدل نہیں سکتی تو آپ دعا کریں یا نہ کریں جو ہونا ہے ‘ وہ ہو کر رہے گا۔ اسی طرح آپ بیمار پڑجانے پر علاج کیوں کراتے ہیں ؟ اگر تقدیر میں بیمار رہنا ہے تو آپ لاکھ علاج کریں ‘ صحت مند نہیں ہوسکتے۔ لیکن اس موقع پر آپ یہی کہتے ہیں کہ اسباب کو اختیار کرنا بھی جائز ہے ‘ اسباب کو اگر اس نیت سے اختیار کیا جائے کہ یہ اسباب اللہ تعالیٰ کے علم اور تقدیر مبرم کو بدل دیں گے تو یہ یقینا ناجائز اور کھلا ہوا کفر ہے۔ لیکن اگر اسباب کو اس نیت سے بروئے کار لایا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں نتائج کے حصول کے لیے اسباب کو پیدا کیا ہے اور اسباب کے حصول کے بعد جو نتیجہ سامنے آتا ہے ‘ وہی دراصل تقدیر ہوتی ہے۔ ہم دعا اور علاج تقدیر بدلنے اور نظام قدرت میں مداخلت کے لیے نہیں کرتے ‘ بلکہ اس لیے دعا اور علاج کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو راحت اور شفاء ہمارے لیے مقدر کی ہے اس کو وجود میں لاسکیں۔ اسی طرح ضبط تولید کا عمل تقدیر کو بدلنے یا اللہ تعالیٰ کے نظام خلق میں مداخلت کے لیے نہیں ہے (اور اگر کوئی اس نیت سے کرے تو اس کے کفر میں کوئی شک نہیں) بلکہ ضبط تولید کا یہ عمل اس رکاوٹ اور پیدائش میں اس وقفہ کو وجود میں لانے کے لیے ہے ‘ جس کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے مقدر کیا ہے۔ 

صحابہ کرام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں عزل کرتے تھے اور بچہ کی پیدائش سے احتراز ہی کے لیے کرتے تھے۔ کیا کوئی شخص یہ گمان کرسکتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو اللہ تعالیٰ کی رزاقیت پر توکل نہیں تھا ‘ اس لیے عزل کرتے تھے ‘ یا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا تقدیر پر ایمان نہیں تھا ‘ اس لیے عزل کرتے تھے ‘ یا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اللہ تعالیٰ کے نظام خلق میں مداخلت کے لیے عزل کرتے تھے۔ پس جان لیجئے کہ جس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا عزل کرنا ان خرابیوںٗ کی نیت سے نہیں تھا ‘ بلکہ نیت صحیحہ کی بناء پر تھا ‘ اسی طرح دوسرے مسلمانوں کے اس عمل کو بھی نیت صحیحہ پر محمول کرنا چاہیے۔ 

یاد رکھئے ! اسباب وعلل کو اختیار کرنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیم اور آپ کی سیرت ہے۔ آپ کئی کئی دنوں کے لیے کھانا لے کر غار حرا میں جاتے تھے ‘ ازواج کو ایک سال کے لیے خرچ دیتے تھے ؟ زرہ میں ملبوس ہو کر میدان جنگ میں جاتے رہے ہیں ‘ بیماری میں مختلف انواع سے آپ نے علاج کیا ہے اور صحابہ کرام اور عام مسلمانوں کو علاج کرانے کی ہدایت دی ہے ‘ اس لیے کسی ضرورت کے وقت ضبط تولید کرنا تعلیمات اسلام کے خلاف نہیں ‘ بلکہ عین مطابق ہے۔ 

ہم نے ضبط تولید کے مسئلہ پر جو بحث کی ہے اور اس کی اباحت کی جو صورتیں بیان کی ہیں ‘ یہ خالص علمی اور فقہی نوعیت کی بحث ہے۔ اور اس کو اسی تناظر میں پڑھنا اور سمجھنا چاہیے اور یہ بحث اسلام کے اس عمومی فلسفے پر مبنی ہے کہ اسلام دین یسر ہے ‘ اور اس کے مبادیات اور اصولوں میں اتنی جامعیت اور ہمہ گیری ہے جو ہر دور کے پیش آمدہ مسائل اور پیچیدگیوں کا مثبت حل پیش کرسکتے ہیں۔ اس سے خالص مادہ پرستانہ اور سیکولر فلسفے پر مبنی خاندانی منصوبہ بندی کی اس بین الاقوامی تحریک کی تائید و حمایت یا حوصلہ افزائی ہرگز مقصود نہیں ہے ‘ جو موجودہ دور میں پر اپیگنڈے کے سحر اور ترغیب وتحریص کے مختلف طریقوں کو بروئے کار لا کر چلائی جارہی ہے ‘ بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ کسی اضطراری صورت حال ‘ کسی فرد کی ایسی خالص شخصی وجوہ جو معقولیت پر مبنی ہوں یا واقعی ضرورت کے پیش نظر اسلام کی دی ہوئی رخصتوں کو بیان کردیا جائے۔ 

جہاں تک دور جدید کے مادہ پرستانہ نظریہ خاندانی منصوبی بندی کا تعلق ہے تو یہ خالص الحاد پر مبنی ہے اور اسلام میں اس کی قطعا کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس نظریہ کا مرکزی نقطہ اور محور یہ ہے کہ انسانی آبادی کے پھیلاؤ کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت محدود کردیاجائے ‘ تاکہ وسائل معاش اور اسباب معیشت کی تنگی کا سامنا نہ کرنا پڑے ‘ یہ خالص خود غرضی پر مبنی فلسفہ ہے۔ جس کی اساس یہ ہے کہ ہم اپنی آسائش کے لیے دوسرے انسانوں کو وجود برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ تاریخ انسانیت کا مطالعہ اور دور حاضر کے انسانوں کا مشاہدہ اور تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ہر نئے دور میں نسل انسانی کی افزائش کے باوجود بحیثیت مجموعی انسان نے اپنے گزشتہ ادوار کے مقابلہ میں زیادہ سہل اور پر آسائش زندگی بسر کی ہے اور وہ وسائل رزق کے اعتبار سے بھی مرفہ الحال رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قانون قدرت ہے اور وسائل واسباب سے برتر اور بالاتر رزق مخلوق کی حقیقی منصوبہ بندی قادر مطلق نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہوئی ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ جب وہ جہاں ظاہری طور پر جغرافیائی ‘ موسمی یا سائنسی اور علمی وفنی وجوہ کی بنا پر وسائل رزق انسانوں کے کسی گروہ یا کسی ملک یا قوم کے پاس ان کی ضرورت سے زیادہ مجتمع ہوئے تو بعض اوقات یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ انہوں نے اس سے مخلوق خدا کو فیض یاب کرنے کی بجائے لاکھوں ٹن غلہ سمندر میں بہا دینا ‘ یا اسے ضائع کردینا (DAmping) زیادہ مناسب سمجھا ‘ درحقیقت یہی وہ اقوام ہیں جو فلاح انسان اور انسان دوستی کے پرکشش نام پر زرکثیر صرف کرکے خاندانہ منصوبہ بندی کی مہم کو پس ماندہ اقوام اور تیسری دنیا کے ممالک میں پھیلا رہی ہیں ‘ حالانکہ آج بھی ایک سادہ لوح دیہاتی سے پوچھا جائے تو وہ یہی کہتا ہے کہ انسان کھانے کے لیے ایک منہ اور کمانے کے لیے دو ہاتھ لے کر پیدا ہوا ہے۔ گویا قدرت الہی اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ اگر تم محنت اور مشقت کرو گے تو روزی کے دروازے کبھی تم پر تنگ نہیں ہوں گے ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (آیت) ” ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ من حیث لایحتسب “۔ (طلاق : ٢) جس شخص کے دل میں خوف خدا ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے (عالم غیب سے) راہیں کھول دے گا اور وہاں سے رزق عطا فرمائے گا ‘ جہاں اس کا وہم و گمان بھی نہیں تھا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 137