لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَؕ-ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ(۷۸)

لعنت کیے گئے وہ جنہوںنے کفر کیا بنی اسرائیل میں داود اور عیسٰی بن مریم کی زبان پر (ف۱۹۷) یہ (ف۱۹۸) بدلہ ان کی نافرمانی اور سرکشی کا

(ف197)

باشندگانِ اِیلہ نے جب حد سے تجاوز کیا اور سنیچر کے روز شکار ترک کرنے کا جو حکم تھا اس کی مخالفت کی تو حضرت داؤد علیہ السلام نے ان پر لعنت کی اور ان کے حق میں بددعا فرمائی تو وہ بندروں اورخنزیروں کی شکل میں مسخ کر دیئے گئے اور اصحابِ مائدہ نے جب نازل شدہ خوان کی نعمتیں کھانے کے بعد کُفرکیا تو حضرت عیسٰی علیہ السلام نے ان کے حق میں بددعا کی تو وہ خنزیر اور بندر ہو گئے اور ان کی تعداد پانچ ہزار تھی ۔ (جمل وغیرہ) بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ یہود اپنے آباء پر فخر کیا کرتے تھے اور کہتے تھے ہم انبیاء کی اولاد ہیں ۔ اس آیت میں انہیں بتایا گیا کہ ان انبیاء علیہم السلام نے ان پر لعنت کی ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت داؤد اور حضرت عیسٰی علیہما السلام نے ان پر لعنت کی ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت داؤد اور حضرت عیسٰی علیہما السلام نے سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کی جلوہ افروزی کی بشارت دی اور حضور پر ایمان نہ لانے اور کُفر کرنے والوں پر لعنت کی ۔

(ف198)

لعنت ۔

كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُؕ-لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ(۷۹)

جوبُری بات کرتے آپس میں ایک دوسرے کو نہ روکتے ضرور بہت ہی برے کام کرتے تھے(ف۱۹۹)

(ف199)

مسئلہ : آیت سے ثابت ہوا کہ نہی منکَر یعنی بُرائی سے لوگوں کو روکنا واجب ہے اور بدی کو منع کرنے سے باز رہنا سخت گناہ ہے ۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ جب بنی اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہوئے تو ان کے عُلَماء نے اوّل تو انہیں منع کیا جب وہ باز نہ آئے تو پھر وہ عُلَماء بھی ان سے مل گئے اور کھانے پینے ، اٹھنے بیٹھنے میں ان کے ساتھ شامل ہو گئے ، ان کے اس عِصیَان و تَعَدّی کا یہ نتیجہ ہوا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت داؤد و حضرت عیسٰی علیہما السلام کی زبان سے ان پر لعنت اُتاری ۔

تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ-لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ(۸۰)

ان میں تم بہت کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں کیا ہی بُری چیز اپنے لیے خود آگے بھیجی یہ کہ اللہ کا ان پر غضب ہوا اور وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے(ف۲۰۰)

(ف200)

مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ کُفّار سے دوستی و موالات حرام اور اللہ تعالٰی کے غضب کا سبب ہے ۔

وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ(۸۱)

اور اگر وہ ایمان لاتے(ف۲۰۱)اللہ اور ان نبی پر اور اس پر جوان کی طرف اترا تو کافروں سے دوستی نہ کرتے (ف۲۰۲) مگر ان میں تو بہتیرے(اکثر) فاسق ہیں

(ف201)

صدق و اخلاص کے ساتھ بغیر نفاق کے ۔

(ف202)

اس سے ثابت ہوا کہ مشرکین کے ساتھ دوستی اور موالات علامتِ نفاق ہے ۔

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَهُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْاۚ-وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰىؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ(۸۲)

ضرور تم مسلمانوں کا سب سے بڑھ کر دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پاؤ گے اور ضرور تم مسلمانوں کی دوستی میں سب سے زیادہ قریب ان کو پاؤ گے جو کہتے تھے ہم نصارٰی ہیں (ف۲۰۳) یہ اس لیے کہ ان میں عالم اور درویش ہیں اور یہ غرور نہیں کرتے (ف۲۰۴)

(ف203)

اس آیت میں ان کی مدح ہے جو زمانۂ اقدس تک حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دین پر رہے اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت معلوم ہونے پر حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام پر ایمان لے آئے ۔

شانِ نُزول : ابتدائے اسلام میں جب کُفّارِ قریش نے مسلمانوں کو بہت ایذائیں دیں تو اصحابِ کرام میں سے گیارہ مرد اور چار عورتوں نے حضور کے حکم سے حبشہ کی طرف ہجرت کی ، ان مہاجرین کے اسماء یہ

(۱) حضرت عثمان غنی اور ان کی زوجہ طاہرہ (۲) حضرت رقیہ بنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور (۳) حضرت زبیر (۴) حضرت عبداللہ بن مسعود (۵) حضرت عبدالرحمٰن بن عوف (۶) حضرت ابوحذیفہ اور ان کی زوجہ (۷) حضرت سہلہ بنتِ سہیل اور (۸) حضرت مصعب بن عمیر (۹) حضرت ابو سلمہ اور ان کی بی بی(۱۰) حضرت اُمِّ سلمہ بنتِ اُمیّہ (۱۱) حضرت عثما ن بن مظعون (۱۲) حضرت عامر بن ربیعہ اور ان کی بی بی (۱۳) حضرت لیلٰی بنتِ ابی خثیمہ (۱۴) حضرت حاطب بن عمرو (۱۵) حضرت سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہم یہ حضرات نبوّت کے پانچویں سال ماہِ رجب میں بحری سفر کر کے حبشہ پہنچے ، اس ہجرت کو ہجرتِ اُولٰی کہتے ہیں ، ان کے بعد حضرت جعفر بن ابی طالب گئے پھر اور مسلمان روانہ ہوتے رہے یہاں تک کہ بچّوں اور عورتوں کے علاوہ مہاجرین کی تعداد بیاسی مَردوں تک پہنچ گئی ، جب قریش کو اس ہجرت کا علم ہوا تو انہوں نے ایک جماعت تحفہ تحائف لے کر نجاشی بادشاہ کے پاس بھیجی ، ان لوگوں نے دربارِ شاہی میں باریابی حاصل کر کے بادشاہ سے کہا کہ ہمارے مُلک میں ایک شخص نے نبوّت کا دعوٰی کیا ہے اور لوگوں کو نادان بنا ڈالا ہے ان کی جماعت جو آپ کے مُلک میں آئی ہے وہ یہاں فساد انگیزی کرے گی اور آپ کی رعایا کو باغی بنائے گی ، ہم آپ کو خبر دینے کے لئے آئے ہیں اور ہماری قوم درخواست کرتی ہے کہ آپ انہیں ہمارے حوالہ کیجئے ، نجاشی بادشاہ نے کہا ہم ان لوگوں سے گفتگو کر لیں ، یہ کہہ کر مسلمانوں کو طلب کیا اور ان سے دریافت کیا کہ تم حضرت عیسٰی اور ان کی والدہ کے حق میں کیا اعتقاد رکھتے ہو ؟ حضرت جعفر بن ابی طالب نے فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول اور کلمۃُ اللہ و روحُ اللہ ہیں اور حضرت مریم کنواری پاک ہیں ، یہ سن کر نجاشی نے زمین سے ایک لکڑی کا ٹکڑا اُّٹھا کر کہا خدا کی قَسم تمہارے آقا نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے کلام میں اتنا بھی نہیں بڑھایا جتنی یہ لکڑی یعنی حضور کا ارشادِ کلام عیسٰی علیہ السلام کے بالکل مطابق ہے ۔ یہ دیکھ کر مشرکینِ مکّہ کے چہرے اُتر گئے پھر نجاشی نے قرآن شریف سننے کی خواہش کی ، حضرت جعفر نے سورۂ مریم تلاوت کی اس وقت دربار میں نصرانی عالِم اور درویش موجود تھے قرآنِ کریم سُن کر بے اختیار رونے لگے اور نجاشی نے مسلمانوں سے کہا تمہارے لئے میری قلمرو میں کوئی خطرہ نہیں ۔ مشرکینِ مکّہ ناکام پھرے اور مسلمان نجاشی کے پاس بہت عزّت و آسائش کے ساتھ رہے اور فضلِ الٰہی سے نجاشی کو دولتِ ایمان کا شرف حاصل ہوا ۔ اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ۔

(ف204)

مسئلہ : اس سے ثابت ہوا کہ علم اور ترکِ تکبُّر بہت کام آنے والی چیزیں ہیں اور اُن کی بدولت ہدایت نصیب ہوتی ہے ۔

وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّۚ-یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ(۸۳)

اور جب سنتے ہیں وہ جو رسول کی طرف اترا (ف۲۰۵) تو ان کی آنکھیں دیکھوکہ آنسوؤں سے اُبل رہی ہیں (ف۲۰۶) اس لیے کہ وہ حق کو پہچان گئے کہتے ہیں اے رب ہمارے ہم ایمان لائے (ف۲۰۷) تو ہمیں حق کے گواہوں میں لکھ لے (ف۲۰۸)

(ف205)

یعنی قرآن شریف ۔

(ف206)

یہ ان کی رقّتِ قلب کا بیان ہے کہ قرآنِ کریم کے دل میں اثر کرنے والے مضامین سن کر رو پڑتے ہیں چنانچہ نجاشی بادشاہ کی درخواست پر حضرت جعفر نے اس کے دربار میں سورۂ مریم اور سورۂ طٰہٰ کی آیات پڑھ کر سنائیں تو نجاشی بادشاہ اور اس کے درباری جن میں اس کی قوم کے عُلَماء موجود تھے سب زار و قطار رونے لگے ، اسی طرح نجاشی کی قوم کے ستّر آدمی جو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے حضورسے سورۂ یٰسٓۤ سُن کر بہت روئے ۔

(ف207)

سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ہم نے ان کے برحق ہونے کی شہادت دی ۔

(ف208)

اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت میں داخل کر جو روزِ قیامت تمام اُمّتوں کے گواہ ہوں گے ۔ (یہ انہیں انجیل سے معلوم ہو چکا تھا)

وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّۙ-وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ(۸۴)

اور ہمیں کیا ہوا کہ ہم ایمان نہ لائیں اللہ پر اور اس حق پر کہ ہمارے پاس آیا اور ہم طمع کرتے ہیں کہ ہمیں ہمارا رب نیک لوگوں کے ساتھ داخل کرے(ف۲۰۹)

(ف209)

جب حبشہ کا وفد اسلام سے مشرف ہو کر واپس ہوا تو یہود نے انہیں اس پر ملامت کی ، اس کے جواب میں انہوں نے یہ کہا کہ جب حق واضح ہو گیا تو ہم کیوں ایمان نہ لاتے یعنی ایسی حالت میں ایمان نہ لانا قابلِ ملامت ہے ، نہ کہ ایمان لانا کیونکہ یہ سبب ہے فلاحِ دارَین کا ۔

فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ(۸۵)

تو اللہ نے ان کے اس کہنے کے بدلے انہیں باغ دئیے جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے یہ بدلہ ہے نیکوں کا(ف۲۱۰)

(ف210)

جو صدق و اخلاص کے ساتھ ایمان لائیں اور حق کا اقرار کریں ۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠(۸۶)

اور وہ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ ہیں دوزخ والے