حدیث نمبر :608

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال سے فرمایا جب تم اذان کہو توٹھہرٹھہرکرکہواورجب تکبیرکہوتوجلدی جلدی کہو ۱؎ اور اپنی اذان وتکبیر کے درمیان اتنا فاصلہ کرو کہ کھانے والا اپنے کھانے سے اورپینے والا اپنے پینے سے اورقضائے حاجت والاجب حاجت کوجائے ۲؎ تو فارغ ہوجائے اور صف میں نہ کھڑے ہو حتی کہ مجھ کو دیکھو۳؎ یہ ترمذی نے روایت کی اورفرمایا کہ اسے ہم عبدالمنعم کی حدیث سے ہی جانتے ہیں اور یہ مجہول اسناد ہے۴؎

شرح

۱؎ تمام آئمہ کا اس پرعمل ہے،اذان کے کلمات میں مد،شد کالحاظ اورکلمات میں فاصلہ کیا جاتاہے،تکبیر میں جلدی۔اس فرق کی عقلی حکمت معلوم نہ ہوسکی جوسرکار کا فرمان ہے سرو آنکھوں پر۔ہوسکتا ہے کہ چونکہ تکبیرمیں حاضرین مسجدکو اکٹھا کرنا ہوتا ہے جو پہلے نماز کے لئے تیارہیں انہیں دیر تک اطلاع دینے کی ضرورت نہیں،اذان میں غافلوں کو خبردیناہے،لہذا دیر تک آوازپہنچائی جائے۔

۲؎ یہ فاصلہ اذان مغرب کے علاوہ ہے،مغرب کی اذان سے فورًا بعدتکبیرشروع کردی جائے۔خیال رہے کہ اذان وتکبیر میں یہ فاصلہ اس قدر چاہیئے کہ بے وضو آدمی استنجاءاور وضو کرکے چارسنتیں پڑھ سکے۔ہمارے ہاں پندرہ منٹ کا فاصلہ کرتے ہیں،کہیں آدھے گھنٹے کابھی۔

۳؎ اس زمانے میں طریقہ یہ تھا کہ صحابہ کرام صف بناکربیٹھ جاتے،حضور اپنے حجرے میں رونق افروز ہوتے،مکبّر کھڑے ہوکرتکبیرشروع کرتا جب”حی علی الفلاح”پرپہنچتا توسرکارحجرے سے باہرتشریف لاتے اورصحابہ کرام کونظر آتے۔فقہاءفرماتے ہیں کہ نمازی صف میں”حی علی الفلاح”پرکھڑے ہوں ان کا ماخذ یہ حدیث ہے،نیز وہ حدیث جو مشکوٰۃ شریف میں بروایت مسلم وبخاری دوتین صفحہ بعد”باب المساجد”سے کچھ پہلے آرہی ہے۔

۴؎ ابن حجرنے فرمایا کہ اسے حاکم نے صحیح کہا۔شیخ عبدالحق فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے بہت شواہدہیں اس کا آخری جملہ”لا تقوموا”الخ مسلم،بخاری میں بھی ہے،نیز اس پر امت کا عمل بھی،لہذا یہ حدیث حسن لغیرہ ہے۔