اسلام پر فکری حملے اور عزم حسینی

غلام مصطفی رضوی ( نوری مشن مالیگائوں )

ماضی میں مسلم علماء کرام کا یہ عالم ہوتا تھا کہ وہ ایک طرف تفسیر و فقہ اور حدیث کے امام ہوتے تو دسری طرف فلسفہ و نجوم کے کواکب درخشاں اور طبیب و سائنس داں بھی ۔اقوام مغرب ! جو بنیادی طور پر علوم و فنون کے دشمن واقع ہوئے ہیں انہوں نے مسلمانوں کے تعلیمی وقار اور علمی مو شگافی کو دیکھتے ہوئے یہ طے کیا کہ مسلمانوں کے رشتے کو علوم و فنون سے جدا کر دیا جائے ۔

کمیونزم کا بانی مبانی کارل مارکس مذہباً یہودی اور اسلام کا شدید دشمن تھا اس نے جونظریات وضع کئے اس میں مذہب کا کچھ دخل نہ تھا اس کے تعلیمی نظریات نے دوراہیں تشکیل دیں جس پر عمل در آمد سے تعلیم کے رشتے مذہب سے ٹوٹتے نظر آئے۔غیر اسلامی تعلیمی افکار کے اجراء کے لئے طاقت و قوت کا بھی استعمال کیا گیا جس کے نتائج یہ ہوئے کہ ایک طبقہ جو علم دین حاصل کرتا وہ دنیاوی علوم سے دور نظر آتا اور وہ طبقہ جو دنیوی علوم کا خوشہ چیں ہوتا دینی علوم سے بیزار دکھائی دیتا ۔ ایسے افراد بعد میں ملت کے لئے ناسور ثابت ہوئے اور ان کے محرکات تنقیدی فکروں کی پرورش کرتے ۔عصر حاضر میں یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ پڑھالکھا طبقہ جو علم دین سے کورا ہوتا ہے وہ شریعت سے بیزار دکھائی دیتا ہے اور مادیت کی گرداب میں گرفتار ،۔

پہلی صدی ہجری ہی میں شریعت اسلامیہ پر حملے شروع ہوگئے تھے ،یزید کی تمام تر کو ششیں شریعت کی پامالی کرنے پر تُلی دکھائی دیتی ہیں ۔مدارس اسلامیہ جو مسلم سلاطین کے دور اقتدار میں پھل پھول رہے تھے انہیں انگریزوں نے اپنے تسلط کے بود نشانہ بنایا اور اسلامی تعلیمات کے آگے قد غن لگانے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا ۔اس لئے کہ مدارس اسلامیہ حدودِشریعت کے محافظ اور اور داعیان اسلام کی تربیت گاہ تھے، مدارس نے علوم و فنون کا اِحیاء اسلامی قواعد و ضوابط کی روشنی میں کیا ۔ دنیا کے بیشتر خطوں پر مسلمانوں کا اقتدار تھا ۔ رفتہ رفتہ مسلم حکومتوں کو کمزور کیا گیا اور مسلمانوں کی زمینوں پر قبضہ کرنے کے بعد کارل مارکس کے طرزتعلیم (Modern Education System) کو پروان چڑھایا گیا ۔ نظام تعلیم میں استعماری قدروں کی رعایت کے سبب ان کی مقصدیت ان الفاظ میں بار آور ہوتی ہے ’’ جدید تعلیم کے زیور سے آراستہ ایک ایسی جماعت تیار کی جائے جو اسلام اور اسلامی اقدار سے اعلان برأت نہ کرے تو کم ا زکم اظہارِ نفرت تو کرے ‘‘۔

اس یزیدی مشن کے فروغ کے لئے مستشرقین کا گروہ کافی سرگرم رہا ۔اسلامی عقائد میں تشکیک اور افکار کی تباہی کے لئے مستشرقین نے تعلیم کا سہارا لیا،ناقدانہ فکر کی افزائش کے لئے مشتشرقین نے اسلامی تاریخ ،قرآن اور سیرت طیبہ کو ہدف طعن بنایا ہے اور کتابیں لکھی ہیں ۔ ان کا دائرۂ عمل دنیا دنیا کے بہت سے علاقوں تک پھیلا ہوا ہے ۔ ان کا مقصد استعماری تعلیمات کا احیا ء اور شریعت میں شبہات پیدا کرنا ہوتا ہے جس کا اعتراف جرمن مستشرق اسٹیفن وائلڈ (Stefen Wild)نے بھی کیا ہے ۔

حق و باطل کے مابین معرکہ آرائی ہر دور میں جاری رہی ہے مگر بالآخر فتح و کامیابی حق ہی کی ہوئی ہے ۔اسلام پر پے در پے جو تہذیبی ،فکری ، تمدنی ، اقتصادی ،تعلیمی ،اور ثقافتی حملے ہورہے ہیں خواہ ان کی شکلیں جدا جدا ہیں مگر ان کے مابین ایک قدر مشترک ہے جس کا اجراء پہلی صدی میںہوچکا تھا ۔ اور وہ قدر مشترک شریعت میں تحریف و رد و بدل ۔سب سے پہلے یزید نے اقتدار کے سہارے اس کی ابتداء کی ۔

خلافت جو نبوی منہج کے مطابق قائم تھی اسے یزید نے آمریت سے بدلنے کی جسارت کی ،شریعت سے کھلوار کیا ،شراب و رباب ،فحاشی و عیاشی ،فکری آوارگی اس کے نزدیک جائز تھی اور وہ ان محرکات کا عامل بھی تھا ۔ یزید کی شریعت کی دھجیاں بکھیرنے کے لئے سعیٔ و کاوش جاری تھی اور اس یزیدی مشن پر مہر تصدیق ثبت کرنے کے لئے نواسۂ رسول حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی رضا مندی کا وہ طالب تھا اس طرح کہ وہ چاہتا تھا کہ امام عالی مقام رضی اللہ عنہ اس کی بیعت کرلیں ۔

یزید نے اپنے مذموم نظریات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے طاقت و قوت کا سہارا لیکر اما م حسین رضی اللہ المولیٰ تبارک و تعالیٰ عنہ کو قائل کرنا چاہا ۔ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اسلام کے محافظ و پاسبان اور شریعت اسلامیہ کے پاسدار تھے ۔ آپ نے یزید کی اطاعت و بیعت سے صاف انکار کردیا اور اس کی آمریت کو للکارا ۔ اپنے بہتر(۷۲)عزیز و اقارب کے ساتھ قربانی دے دی مگر شریعت سے سرِ مو بھی انحراف گوارہ نہ کیا ؎

اس شہید بلا شاہ گلگوں قبا ÷ بیکس ِ دشتِ غربت پہ لاکھوں سلام

حالات کی ستم ظریفی آپ کے پائے نا ز کو متزلزل نہ کرسکی ،ظلم و جور کی آندھیاں پاش پاش ہو گئیں ،مگر عزم حسینی کا کوہِ محکم مستقیم رہا ۔تا قیام قیامت باطل کی معرکہ آرائی ،اسلامی اصولوں کی پامالی کی گرداب میں امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعلیمات نمونۂ عمل ہے اور حوصلوں کی بلندی کا سبب ،…… جب بھی باطل و طاغوتی قوتیں افکارِ اسلامی پر حملہ آور ہوں گی سیدنا امام ِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت خونِ تازہ فراہم کرکے ہماری رہنمائی کرے گی ۔

تمہیدی نوٹ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کی تعلیمی جدت اور Modernization کے روپ میں مسلمانوں کے درمیان دشمنان اسلام متحرک اور سرگرم ہیں اس طرح اسلام پر فکری حملے ہر آن جاری ہیں ۔

ملت کی آستینوں میں پروان چڑھنے والے بہت سے نام نہاد افراد جو بزعم خود دانشور و عالم ہیں وہ یزیدی مشن کے اِحیاء کے لئے شریعت سے جُدا شاہراہ قائم کرنے میں مصروف ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کربلا کے میدان سے جو درس ملا ہے اس پر عمل پیرا ہوکر فکری و نظریاتی حملوں کاسدِّ باب کیاجائے ۔ استقامت کا مظاہرہ کرکے فتنوں کو بے نقاب کیا جائے اور مغرب کی وضع کردہ ڈگر سے ہٹ کر اسلامی شاہراہ پر رہوارِ فکر کو گامزن کیا جائے اس طور ہمیں ایک ایسی راہ میسر ہے جسے ’’ سنت نبوی ‘‘ کہا جاتا ہے ۔

الحمد للہ ! سنت نبوی اور اُسوۂ حسنہ کو اپنا کر ہمارے اسلاف و اکابر نے شریعت کی حفاظت و صیانت فرمائی ہے اور رہوار فکر کومہمیز دی ہے ۔ ان کے عزم ِ حسینی کے آگے نا معلوم کتنی یزیدی قوتیں سرنگوں ہوئی ہیں ۔ اعلیحضرت امام احمد رضا محدث بریلوی اورحضور سیدی مفتیٔ اعظم رضی اللہ عنہما نے شریعت پر استقامت کے ساتھ گامزن رہ کر محبت رسول ا اور سنتوں پر عمل کا درس دیا ہے اور یہی درس یزیدان ِعصر سے ہمارے تشخص کی کلید و ضمانت ہے اور ہماری داعیانہ کا وشوں کی کامیابی بھی اسی درس پر عمل میں مضمر ہے ۔

٭٭٭