اعتراض بچپن میں عربی

ایک دیوبندی، سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ:

”احمد رضا کے سیرت نگاروں نے احمد رضا کے بچپن کا ایک واقعہ لکھا ہے۔ایک مرتبہ احمد رضا کے محلے میں ایک عرب شیخ آ گئے۔ اور لوگوں سے عربی میں راستہ پوچھنے لگے۔ لوگ حیران پریشان اتنے میں ننھے احمد رضا اچھلتے کودتے کہیں سے آ گئے۔ عرب شیخ نے ان سے راستہ پوچھا تو ننھے احمد رضا نے ایسی فصیح و بلیغ عربی بولی کہ عرب شیخ نے حیرت سے انگلی منہ میں رکھ لی اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں۔ عرب دنیا میں جب احمد رضا کا ترجمہ قابل ضبط قرار پایا تو اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی کہ ان صاحب کو درست عربی نہیں آتی دیکھا آپ نے تضاد۔ اس سے آپ کو یقین آ گیا ہو گا کہ احمد رضا کی سیرت لکھی نہیں گئی وضع کی گئی ہے۔

#الجواب:: اعلی حضرت سیدی امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کا بچپن میں ہی عربی بولنا یہ اللہ کریم کا فضل اور اسکی عطا ہے: ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ [الجمعہ:4]

اگر علمائے دیوبند کے نصیب میں نہیں تو اپنی قمست پر ماتم کریں، احمد رضا سے جلیں مت،

سیدی اعلٰی حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ پر اللہ کی کرم نوازیاں؛؛

👈صرف ایک مہینہ میں حافظ قرآن ہوئے اور نماز تراویح میں مکمل قرآن سنایا ۔۔۔۔

👈ساڑھے تین سال کی عمر میں عربی زبان میں ایک بزرگ سے فصیح کلام فرمایا ۔۔۔۔

👈چار سال کی عمر میں ناظرہ قرآن مجید ختم فرمایا ۔۔۔۔۔

👈چھ سال کی عمر میں بزبان فصیح و بلیغ ماہ ربیع الاول کے موقع پر ” میلاد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ” کے عنوان پر شاندار خطاب فرمایا ۔۔۔۔

👈آٹھ سال کی عمر میں علم نحو کی درسی کتاب ” ہدایۃ النحو ” کی عربی شرح تحریر فرمائی ۔۔۔۔۔

👈تیرہ سال کی عمر میں عالم و فاضل کی سند حاصل فرمائی ۔۔۔۔

👈چودہ سال کی عمر میں محدث و مفتی کا عہدہ سنبھالا اور مسئلۂ رضاعت پر پہلا فتوی دیا ۔۔۔۔۔

یہ تو تھے سیدی اعلٰی حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ کہ جنکا بچپن علم و حکمت کے سمندر میں گزرا،

اب آئیے ذرا دیوبندیوں نے حکیم الامت مولوی اشرف علی تھانوی کے بچپن کی چند جھلکیاں ملاحظہ ہوں۔

تھانوی_مسجدسےجوتےچوری_کرلیاکرتا

دیوبندیوں کا حکیم الامت مولوی اشرف علی تھانوی اپنے بچپن کا کارنامہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:

”ایک مرتبہ میرٹھ میں میاں الٰہی بخش صاحب مرحوم کی کوٹھی میں جو مسجد ہے (میں نے) سب نمازیوں کے جوتے جمع کر کے اس کے شامیانہ پر پھینک دیئے نمازیوں میں غل مچا جوتے کیا ہوئے؟“

[ملفوظاتِ حکیم الامت، جلد 4، صفحہ264 مطبوعہ ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ چوک فوارہ ملتان]

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ساڑھے تین سال کی عمر میں عربی میں گفتگو کریں۔

اور تمہارا گھریلو حکیم الامت اس عمر میں مسجد سے لوگوں کے جوتے چرا کر شامیانے پر پھینکے۔

جلن تو اپنے آپ ہو گی دیوبندیوں کو ؟؟؟

دیوبندی_جوتےکی_امامت

مولوی اشرف علی تھانوی اپنے بچپن کا ایک اور کارنامہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:

”ایک دن سب لڑکوں اور لڑکیوں کے جوتے جمع کر کے ان سب کو برابرا (صف بنا کر) رکھا اور ایک جوتے کو سب سے آگے رکھا، وہ گویا کہ امام تھا (باقی جوتے مقتدی) اور پلنک کھڑے کر کے اس پر کپڑے کی چھت بنائی اور وہ مسجد قرار پائی۔“

[ملفوظاتِ حکیم الامت، جلد 4، صفحہ263،264 مطبوعہ ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ چوک فوارہ ملتان]

دیوبندیو…!!! پہلے اپنے مجدد کے بچپن پر ایک نظر ڈال لو پھر میرے امام کے بچپن پر اعتراض کرنا،

تھانوی_نےمہمان_کےکھانےمیں_کتا_ڈال_دیا

تھانوی اپنے بچپن کے کارنامہ کو فخریہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:

”ایک صاحب تھے سیکری کے، ہماری سوتیلی والدہ کے بھائی ، بہت ہی نیک اور سادہ آدمی تھے والد صاحب انکو ٹھیکے کے کام پر رکھ چھوڑ تھا، ایک دفعہ کمریٹ سے گرمی میں بھوکے پیاسے گھر آئے اور کھانا کھانے میں مشغول ہو گئے، گھر کے سامنے بازار ہے، میں نے سڑک پر سے ایک کتے کا پِلہ چھوٹا سا پکڑ کر گھر لا کر اُنکی دال کی رکابی میں رکھ دیا، بے چارے روٹی چھوڑ کر کھڑے ہو

گئے۔“

[ملفوظاتِ حکیم الامت، جلد 4، صفحہ264،265 مطبوعہ ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ چوک فوارہ ملتان]

یہ تھے دیوبندیوں کے امام جو بچپن میں بھی شطانی کام کرنے باز نہ آتے۔

اور ایک ہیں ہمارے امام جو بچپن میں بھی فصیح عربی میں گفتگو کریں، اور علمی کاموں میں مشغول رہیں۔

دیوبندیو…..!!! کس منہ سے اعتراض کرتے ہو؟؟

چارپائیاں_رسی_سےباندھ_دیں

اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہوئے تھانوی نے مزید کہا کہ:

”ایک دفعہ مجھے شرارت سوجھی کہ برسات کا زمانہ تھا، مگر ایسا کبھی برس گیا، کبھی کھل گیا مگر چارپائیاں باہر ہی بچھی رہتی تھیں…….پس والد صاحب اور ہم دونوں بھائی ہی مکان میں رہتے تھے تینوں کی چارپائیاں ملی ہوئی بِچھتی تھیں، ایک دن میں نے چپکے سے تینوں چارپائیوں کے پائے رسی سے آپس میں خوب کس کے باندھ دیئے، اب رات کو جو مینہ برسنا شروع ہوا تو والد صاحب جدھر سے بھی گھسیٹتے ہیں تینوں کی تینوں چارپائیاں ایک ساتھ گِھسٹتی چلی آتی ہیں رسیاں کھولتے ہیں تو کھلتی نہیں، کیونکہ خوب کَس کے باندھی گئیں تھیں، کاٹنا چاہا تو چاقو نہیں ملتا غرض بڑی پریشانی ہوئی، اور بڑی مشکل سے پائے کھل سکے۔ اور چارپائیاں اندر لیجائی جا سکیں، اس میں اتنی دیر لگی کہ خوب بھیگ گئے۔ والد صاحب بڑے خفا ہوئے کہ یہ کیا نامعقول حرکت تھی۔“

[ملفوظاتِ حکیم الامت، جلد 4، صفحہ264 مطبوعہ ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ چوک فوارہ ملتان]

یہ تھا دیوبندیوں کا مجدد اشرف علی تھانوی، اور جو ساڑھے تین سال کی عمر میں فصیح عربی بولے اسے احمد رضا کہتے ہیں۔

تھانوی_نےبڑےبھائی_کےسر_پرپیشاب_کردیا

دیوبندیوں کا مجدد اپنا ایک اور واقعہ فخریہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:

”میں ایک روز پیشاب کر رہا تھا، بھائی صاحب نے میرے سر پر آ کر پیشاب کرنا شروع کر دیا، ایک روزہ ایسا ہوا کہ بھائی پیشاب کر رہے تو میں نے اُن کے سر پر پیشاب کرنا شروع کر دیا۔“

[ملفوظاتِ حکیم الامت، جلد 4، صفحہ265 مطبوعہ ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ چوک فوارہ ملتان]

بھائی کے سر پر پیشاب کی دھاریں مارنے والے کیا جانیں رتبہ احمد رضا کا۔۔۔

تھانوی_والد_کی_بدنامی_کا_سبب

دیوبندی امام مولوی اشرف تھانوی کہتا ہے کہ:

”جہاں اس قِسم کی کوئی بات شوخی (شرارت و بےحیائی) کی ہوتی تھی، لوگ والد صاحب کا نام لیکر کہتے یہ انکے لڑکوں کی حرکت معلوم ہوتی ہے۔“

[ملفوظاتِ حکیم الامت، جلد 4، صفحہ265، مطبوعہ ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ چوک فوارہ ملتان]

تھانوی فخریہ اپنے بارے کہتا ہے کہ:

”میرے فعل کا مشاھدہ تھا غرض جو کسی کو نہ سوجھتی تھی وہ ہم دونوں بھائیوں کو سوجھتی تھی۔“

[ملفوظاتِ حکیم الامت، جلد 4، صفحہ265، مطبوعہ ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ چوک فوارہ ملتان]

ایک طرف ہے اعلٰی حضرت سیدی امام احمدرضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ کا بچپن جس پر دیوبندی اعتراض کر رہے ہیں۔

اور دوسری طرف ہے مولوی اشرف علی تھانوی کا بچپن جس میں وہ مسجدوں سے جوتے چُرا رہا ہے۔

مہمانوں کے کھانے میں کتے ڈال رہا ہے۔

گھر کی چارپائیاں باندھ کر والد والدکو تکلیف دے رہا ہے۔

جوتوں کو امام بنا رہا ہے۔

اپنے باپ کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔

اور اپنے بڑے بھائی کے سر پر پیشاب کر رہا ہے۔

تو یہ لوگ کس منہ سے اعلی حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ کے بچپن پر اعتراض کرتے ہیں؟؟

دوستو..!!! آپ خود فیصلہ کریں کہ ایک طرف پاکیزہ علمی بچپن،

اور اوردوسری طرف شیطانی، حیوانی بچپن۔

تو پھر بچپنِ اعلی حضرت پر اعتراض کرتے ہوئے شرم آنی چاہیئے دیوبندیوں کو۔

کیا_ترجمہ_کنزالایمان_درست_نہیں؟

رہا یہ اعتراض کہ ترجمہ کنز الایمان درست نہیں ہے اس لئے اس پر عرب میں پابندی ہے۔ تو اس اعتراض کو سوائے جہالت، تعصب اور بے وقوفی کے علاوہ ہم اسے کچھ نہیں کہیں گے۔

اگر کسی ملک میں کسی خاص چیز پر پابندی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز غلط ہے تو دیوبندی تبلیغی جماعت کے تشخص پر بھی عرب میں پابندی ہے۔ نجدی عرب عالم حمود التويجري نے تبلیغی دیوبندیوں کے ردّ میں کتاب لکھی جسکا نام

”القول البليغ في التحذير من جماعة التبليغ“ ہے۔

جی تو تبلیغی جماعت کو اس میں عرب عالم نے غلط کہا کیا دیوبندی اب تبلیغی جماعت کو غلط کہنے کیلئے تیار ہے؟؟

کلام کو طویل ہونے سے بچاتے ہوئے اعلٰی حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ کے علم فضل کا مختصر ثبوت دیوبندیوں کے گھر سے ہیشِ خدمت ہےـ

#اعلی_حضرت_شبیرعثمانی_کی_نظرمیں

دیوبندیوں کے شیخ الاسلام مولوی شبیر احمد عثمانی کہتے ہیں کہ:

”مولانا احمد رضا خان بہت بڑے عالِم اور بلند پایہ محقق تھے۔“

[رسالہ ھادی دیوبند، صفحہ 20 ذوالحجہ 1369، بحوالہ سفید و سیاہ، صفحہ116، طمانچہ صفحہ 41،42]

اعلی_حضرت_انورشاہ_کشمیری_کی_نظرمیں

دیوبندی محدث مولوی انور شاہ کشمیری کہتے ہیں کہ:

”جب میں ترمذی کی شرح لکھ رہا تھا تو حسبِ ضرور احادیث کی جزیات دیکھنے کی ضرورت پیش آتی تو میں نے شیعہ، اھلحدیث اور دیوبندی حضرات کی کتب دیکھیں مگر دل مطمئن نہ ہوا، ایک دوست کے مشورے پر جب موالانا احمد خان بریلوی کی کتابیں دیکھی تو دل مطمئن ہو گیا اور اب بخوبی احادیث کی شروح بلا جھجھک لکھ سکتا ہوں۔ تو واقعی بریلوی حضرت کے سرکردہ عالم مولانا احمد رضا خان کی تحریریں ششتہ اور مضبوط ہیں جسے دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مولوی احمد رضا خان زبردست ایک عالم دین اور فقیہ ہیں۔(ملخصاً)

[رسالہ ھادی دیوبند، صفحہ21، جمادی الاول1930، بحوالہ طمانچہ، صفحہ39، سفید وسیاہ، صفحہ114]

دوستو….!! آپ خود سوچو کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ اتنے بڑے عالم دین تھے کہ دیوبندی محدث انکی کتب کے جزیات سے نقل مار کر ترمذی کی شرح لکھنے میں مدد لیتے رہے۔ اور انکو علوم و فنون کا ماہر مانتے رہے۔

لیکن آج کے نومولود دیوبندی کہتے ہیں کہ انکی عربی درست نہیں تھی، اگر انکی عربی درست نہیں تھی تو تمہارے اکابرین جاہل تھے جو انکی عربی جزیات چُرا چُرا کر شروحات لکھنے میں مدد لیتے رہے؟؟؟

لہذا سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ کے بچن پر اعتراض کرنے آئے تھے خود انکا اپنا مجدد مولوی اشرف علی تھانوی جوتا چور نکلا، اور بھائی کے سر پر پیشاب کرنے، شراتیں کرنے، اور مہمان کے کھانے میں کتا ڈالنے میں ماہر نکلا،

اور دوسری طرف میرے اعلی حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ کہ بچپن میں بھی رب کی رحمت کے سائے میں علوم و فنون کے گجرے نچھاور کرتے رہے۔

؎احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی

خورشیدِ علم ان کا درخشاں ہے آج بھی

اور آخر پر ہم یہی کہیں گے کہ:

نہ تم صدمے ہمیں دیتے، نہ ہم فریاد یوں کرتے

نہ کُھلتے راز سَر بَستہ، نہ یُوں رُسوائیاں ہوتی

مدینے پاک کا بھکاری

محمداویس رضاعطاری

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.