اغیار کو دکھاؤ نہ اَنداز چال کا

از : علامہ حسن رضا بریلوی

پیش کردہ: ڈاکٹر محمد حسین مشاہدؔ رضوی

🌸

اغیار کو دکھاؤ نہ اَنداز چال کا

پِس جائے دل کہیں نہ کسی پائمال کا

🌸

شکلِ کلیم ہم کو بھی بے ہوش کیجیے

آئینہ بھیج دیجیے اپنے جمال کا

🌸

اُس گل کی بُو سمائی ہے میرے دماغ میں

پھولوں کی ہے چنگیر مرقع خیال کا

🌸

خوابِ عدم سے چونک پڑے خفتگانِ خاک

کیا شورِ صُور میں ہے اَثر تیری چال کا

🌸

کُنہِ شکست آئینۂ دل عیاں کریں

کہیے تو پوست کھینچ لیں شیشہ کے بال کا

🌸

سب صورتوں میں جلوہ گری ایک ہی کی ہے

نقشہ جما ہوا ہے کسی کے جمال کا

🌸

ساقی خمارِ ہجر کی شدت سے غش ہوں میں

چھینٹا دے منہ پر اب تو شرابِ وصال کا

🌸

سنگِ غمِ فراق سے دل پر لگا نہ چوٹ

آئینہ ٹوٹ جائے گا تیرے جمال کا

🌸

جلوہ کسی حسین کا ہے دل کی آرزو

تصویر ڈھونڈتا ہے مرقع خیال کا

🌸

بیٹھے ہیں ہم بھی خرمنِ ہوش و خرد لیے

یا رب اِدھر بھی وار ہو برقِ جمال کا

🌸

پامالِ رشک کیجیے حسینانِ دہر کو

پا پوش میں لگائیے کنٹھا ہلال کا

🌸

پہنچوں میں روضۂ شہ والا پر اے حسنؔ

اُمید وار ہوں کرمِ ذوالجلال کا