تبحر علمی :۔

امام احمدرضا قدس سرہ کو جملہ علوم متداولہ نقلیہ وعقلیہ میں ید طولی حاصل تھا آپکی تصانیف سے استفادہ کرنے والے اس چیز کو بخوبی جانتے ہیں ۔ علوم قرآن سے متعلق ترجمۂ قرآن کی بابت محدث اعظم ہند علیہ الرحمہ لکھتے ہیں۔

ؑؒ علم القرآن کا اندازہ اگر صرف اعلی حضرت کے اردو ترجمہ سے کیجئے جو اکثر گھروں میں موجود ہے اور جسکی کوئی مثال سابق نہ عربی زبان میںہے ، نہ فارسی میں اور نہ اردو میں ،جس کا ایک ایک لفظ اپنے مقام پر ایسا ہے کہ دوسرا لفظ اس جگہ لایا ہی نہیں جاسکتا، جو بظاہر محض ترجمہ ہے مگر در حقیقت وہ قرآن کی صحیح تفسیر اور اردو زبان میں قرآن ہے ، اس ترجمہ کی شرح حضرت صدر الافاضل استاذالعلماء مولانا شاہ نعیم الدین علیہ الرحمہ نے حاشیہ پر لکھی ۔ وہ فرماتے تھے کہ دوران شرح مجھے ایسا کئی بار ہواکہ اعلی حضرت کے استعمال کردہ لفظ کے مقام استنباط کی تلاش میں دن پر دن گذر ے اور رات کٹتی رہی اور بالآخر ماخذ ملا تو ترجمہ کا لفظ ہی اٹل نکلا ۔

اعلی حضرت خود شیخ سعدی کے فارسی ترجمہ کو سراہا کرتے تھے لیکن اگر حضرت سعدی اردو زبان کے اس ترجمہ کو پاتے تو فرماہی دیتے کہ ترجمۂ قرآن شیٔ دیگرست و علم القرآن شیٔ دیگر ۔

تفسیر قرآن پر بھی آپ نے کام شروع کیا تھا لیکن سورئہ ’ والضحی ‘ کی بعض آیات کی تفسیر اسی اجزاء ( چھ سوسے زائد صفحات ) پر پھیل گئی ، پھر دیگر ضروری مصروفیات نے اس کام کی مہلت ہی نہ دی ۔

فرماتے ہیں: ۔

زندگیاں ملتیں تو تفسیر لکھتے ، یہ ایک زندگی تو اسکے لئے کافی نہیں ۔

فقہ واصول میں تو آپکی عبقریت کے قائل عقیدت مند ہی نہیں دور حاضر کے محققین نے بھی بر ملا اعتراف کیا ہے ۔

مولوی ابوالحسن میاں ندوی لکھتے ہیں :۔

فقہ حنفی اور اسکی جزئیات پر ان کو جو عبور حاصل تھا اسکی نظیر شاید کہیں ملے ، اور اس دعوی پر ان کا مجموعۂ فتاوی شاہدہے ، نیز ان کی تصنیف ’’ کفل الفقہ الفاہم فی احکام القرطاس والدراھم ‘‘ جو انہوں نے ۱۳۲۳ ھ میں مکہ معظمہ میں لکھی تھی ۔

فتاوی رضویہ میں اسکے بے شمار شواہد موجود ہیں ۔ جلد اول میں پانی کے اقسام کی تفصیل پڑھئے ۔ جس پانی سے وضو جائز ہے اسکی ۱۶۰ ؍قسمیں ،اور جس سے وضو نہیں ہو سکتا اسکی ۱۴۶؍ قسمیں بیان فرمائیں اور ہر ایک کی تفصیل سے بھی آگاہ کیا ۔ حق یہ ہے کہ پانی کی انواع واقسام کا تجزیہ کرکے پانی پانی کردیا ۔

اسی طرح ۱۷۵ صورتیں وہ بیان کیں کہ پانی کے استعمال پر عدم قدرت ثابت ہوتی ہے اور تیمم کا جواز متحقق ہوتاہے ۔ تیمم کن چیزوں سے جائز ہے ، انکی تعداد ۱۸۱ بیان فرمائی ، ان میں ۱۰۷؍ کی خود امام موصوف نے اپنی جودت طبع سے نشاندہی کی ، اور جن سے تیمم جائز نہیں وہ ۱۳۰؍ ہیں ۔یہا ں ۷۲؍ کا اضافہ منجانب مصنف ہے ۔

فقہی جزئیات پر عبور کامل کی روشن دلیلیں انکے فتاوی سے ظاہر ہیں ، حق یہ ہے کہ آپکے دور میں عرب وعجم کے علماء مسائل شریعت میں آپ کے استحضار علمی کو دیکھ کر حیران رہے ۔

مولوی ابوالحسن علی ندوی لکھتے ہیں: ۔

حرمین شریفین کے قیام کے زمانہ میں بعض رسائل بھی لکھے اور علمائے حرمین نے بعض سوالات کئے تو انکے جواب بھی تحریر کئے اور ذہانت کو دیکھکر سب کے سب حیران و ششدررہ گئے ۔

فتاوی رضویہ کی بارہ جلدیں طبع ہوکر منظر عام پر آگئی ہیں ، اگرچہ بعض رسائل ابھی جلدوں میں شامل نہیں ،اور آخری جلدوں کا اکثر حصہ بھی نہ مل سکا ۔ پھر بھی جو موجود ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ، آج تک اردو زبان میں ایسا عظیم فقہی شاہکار معرض تحریر میں نہ آیا ۔ کسی کتاب کی ضخا مت اسکی خوبی کا معیار نہیں ہوتی بلکہ وہ مضامین ثابتہ ہوتے ہیں جو سیکڑوں کتابوں کا عطر تحقیق بناکر پیش کئے جاتے ہیں ۔فتاوی رضویہ اپنی تحقیق انیق کے اعتبار سے سب پر فائق ہے

فتاوی رضویہ نے تحقیق کا ایک انوکھا معیار اور اسلوب سکھایا اور محققین کو اس طرف متوجہ کیاہے کہ علم فقہ صرف چند مسائل بیان کردینے کا نام نہیں بلکہ فقہ کے متعلقہ علوم پر جب تک دسترس حاصل نہ ہو اس وقت تک حوادث روزگار اور بد لتے ہوئے حالات سے نمٹنا اور ان کا شرعی نقطۂ نگاہ سے حل تلاش کرنا ممکن نہ ہوسکے گا ۔ مفتی وفقیہ کاکام ہے کہ وہ درپیش مسائل میں حکم شرعی سے لوگوں کو آگاہ کرے اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا جبکہ وہ اس مسئلہ کے متعلقہ مباحبث کی چھان بین اور انکی تنقیح کے بعد حکم بیان کرے ورنہ سخت لغزش کا خطرہ ہے ۔

امام احمد رضا کی وسعت نظر ، جو دت فکر ، ذہن ثاقب اور رائے صائب نے انکو اپنے دور میں پوری دنیا کا مرکز اور مرجع فتاوی بنادیا تھا ۔ آپکے یہاں متحدہ ہندوستان کے علاوہ برما ، چین ،امریکہ ، افغانستان ، افریقہ اور حجاز مقدس وغیرہا سے بکثرت استفتاء آتے اور ایک ایک وقت میں پانچ پانچ سو جمع ہوجاتے تھے ۔ ان سب کا جواب نہایت فراخدلی اور خلوص وللہیت سے دیا جاتاتھا اور کبھی کسی فتوی پر اجرت نہیں لی جاتی تھی اور نہ ہی کہیں سے تنخواہ مقرر تھی ۔ یہ اس خاندان کا طرئہ امتیاز رہاہے ۔

اس خاندان میں فتوی نویسی کی مسند سب سے پہلے آپ کے جد امجد قطب زماں حضرت مولانا مفتی رضا علی خاں صاحب قدس سرہ نے بچھائی ، اور پوری زندگی خالصۃ لوجہ اللہ فتوی لکھا۔

آپ کے بعد امام احمد رضا قدس سرہ کے والد محترم رئیس الاتقیاء عمدۃ المتکلمین حضرت علامہ مفتی نقی علی خاں صاحب قدس سرہ جانشین ہوئے۔ اور پھر امام احمد رضانے پچاس سال سے زیادہ فتاوی تحریر فرمائے۔

آپ کے بعد دونوں صاحبزادگان حجۃ الاسلام حضرت علامہ محمد حامد رضا خانصاحب اور حضور مفتی اعظم ہند حضرت علامہ محمد مصطفی رضا خانصاحب علیہما الرحمہ نے مجموعی طور پر ساٹھ سال تک مسند افتاء کو رونق بخشی ۔ نہایت خلوص کے ساتھ یہ فریضہ انجام دیا اور کبھی طمع و لالچ نے راہ نہ پا ئی ،اور آجکل اس مسند پر متمکن ہیں تاج شریعت حضرت مفتی محمد اختر رضا خاںصاحب قبلہ ازہری مد ظلہ العالی۔

امام احمد رضا قدس سرہ نے فتاوی اردو، فارسی اور عربی زبان میں تحریر فرمائے۔ جس زبان میں سوال آتا اسی میں جواب دیا جا تا، حتی کہ سوال منظوم ہوتا تو جوا ب بھی نظم ہی میں دیا جاتا ۔ اسکے علاوہ انگریزی میں بھی بعض فتاوی منقول ہیں ۔

فتاوی رضویہ چودھویں صدی کا بلا شبہ فقہی انسائکلوپیڈیا ہے اور مجھ جیسا ہیچمداں اسکی کما حقہ خوبیاں کرنے سے قاصر اور اسکی علمی گہرائی تک پہونچنا مشکل ہے ۔وہ ایسا بحر بیکراں ہے جسکے ساحل پر کھڑے رہ کر اسکے مناظر قدرت تو دیکھے جا سکتے ہیں لیکن اسکی گہرائی کو ناپنا اور غواصی کر کے موتی برآمد کرنا ہر کہہ و مہ کا کام نہیں ہوتا ۔

آپ کے فتاوی سے متاثر ہو کر بڑے بڑے علامۂ وقت اتنا لکھ چکے ہیں کہ انکو جمع کیا جائے توضخیم کتاب بن جائے ۔ آپ کے بعض عربی فتاوی کو ملاحظہ فرمانے کے بعد محافظ کتب حرم سید اسمعیل خلیل نے لکھا اور کیا خوب لکھا ۔

وااللہ اقول والحق اقول: لو رأھا ابو حنیفۃ النعمان لا قرت عینہ ویجعل مؤلفہ من جملۃ الاصحاب۔

قسم کھا کر کہتا ہوں اور حق کہتاہوں کہ اگر ان فتاوی کو امام اعظم ابو حنیفہ ملاحظہ فرماتے تو انکو خوشی ہوتی اور صاحب فتاوی کو اپنے شاگردوں میں شامل کر لیتے۔

آپ کو پچاس سے زیادہ علوم و فنون میں تبحر حاصل تھا اور جس فن میں قلم اٹھا یا تحقیق انیق کے دریا بہائے ۔

آپ نے پچاس سے زیادہ علوم و فنون پر تقریبا ایک ہزار کتابیں تصنیف فرمائیں ۔