أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثَمٰنِيَةَ اَزۡوَاجٍ‌ ۚ مِنَ الضَّاۡنِ اثۡنَيۡنِ وَمِنَ الۡمَعۡزِ اثۡنَيۡنِ‌ ؕ قُلۡ ءٰٓالذَّكَرَيۡنِ حَرَّمَ اَمِ الۡاُنۡثَيَيۡنِ اَمَّا اشۡتَمَلَتۡ عَلَيۡهِ اَرۡحَامُ الۡاُنۡثَيَيۡنِ‌ ؕ نَـبِّـئُــوۡنِىۡ بِعِلۡمٍ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اللہ نے آٹھ جوڑے پیدا کیے ‘ دو بھیڑ کی قسم سے اور دو بکری کی قسم سے ‘ آپ کہیے کی اس نے دو نر حرام کیے یا دو مادہ حرام کیں ‘ یا وہ جسے دونوں مادہ اپنے پیٹوں میں لیے ہوئے ہیں، مجھے علمی دلیل سے خبر دو اگر تم سچے ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ نے آٹھ جوڑے پیدا کیے ‘ دو بھیڑ کی قسم سے اور دو بکری کی قسم سے ‘ آپ کہیے کی اس نے دو نر حرام کیے یا دو مادہ حرام کیں ‘ یا وہ جسے دونوں مادہ اپنے پیٹوں میں لیے ہوئے ہیں، مجھے علمی دلیل سے خبر دو اگر تم سچے ہو۔ اور اللہ نے اونٹ کی قسم سے دو اور گائے کی قسم سے دو (جوڑے) پیدا کیے آپ کہئے کیا اس نے دو نر حرام کیے یا دو مادہ حرام کیں ‘ یا وہ جسے دونوں مادہ اپنے پیٹوں میں لیے ہوئے ہیں ‘ یا تم اس وقت حاضر تھے جب اللہ نے تمہیں یہ حکم دیا تھا، سو اس سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر افترا پردازی کرے تاکہ وہ بغیر علم کے لوگوں کو گمراہ کرے ‘ بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (الانعام : ١٤٤۔ ١٤٣) 

مناظرہ اور قیاس کی اصل : 

وہ مویشی جو دراز قد اور کوتاہ قد ہیں انکی آٹھ قسمیں ہیں۔ انمیں سے ایک اونٹ اور اونٹنی کا جوڑا ہے ‘ دوسرا بیل اور گائے کا جوڑا ہے ‘ تیسرا مینڈھا اور بھیڑا کا جوڑا ہے اور چوتھا بکرے اور بکری کا جوڑا ہے اور یہ کل آٹھ عدد ہیں۔ 

مشرکین عرب نے مویشیوں میں سے بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام بنا رکھے تھے اور عام لوگوں کے لیے ان پر سواری کرنا ‘ بوجھ لادنا انکو کھانا اور ان کا دودھ پینا حرام کردیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے پوچھئے کیا اللہ تعالیٰ نے ان میں سے دو نر حرام کیے ہیں ‘ اگر اللہ تعالیٰ نے نر کی صنف حرام کردی ہے تو تم نر جانور کیوں کھاتے ہو اور اگر اللہ نے مادہ کی صنف حرام کردی ہے تو تم مادہ کیوں کھاتے ہو اور اگر اللہ نے دونوں حرام کردیئے ہیں تو پھر تم نر اور مادہ دونوں کیوں کھاتے ہو ؟ 

اور اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کسی صنف کو حرام نہیں کیا۔ یہ تحریم کے دعوی میں محض جھوٹے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس انکار کو مزید مؤکد کرنے کے لیے فرمایا کیا تم اس وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر تھے جب اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو حرام کرنے کی وصیت فرمائی تھی ؟ سو یہ محض تمہارا جھوٹ افتراء ہے اور اگر تم سچے ہو تو بتاؤ اللہ تعالیٰ نے کس نبی کی کتاب میں ان جانوروں کی تحریم نازل کی تھی یا کس نبی پر وحی آئی تھی ؟ اگر تمہارے پاس کوئی نقل ہے تو پیش کرو ‘ ان آیتوں میں علمی مباحثہ اور مناظرہ کرے کے جواز پر دلیل ہے اور اس میں قیاس کی بھی اصل ہے ‘ کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مذکر کو حرام کیا ہے تو ہر مذکر حرام ہے اور اگر مونث کو حرام کیا ہے تو ہر مونث حرام ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 143