حدیث نمبر :606

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ مجھے سنت اذان سکھائیے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضورانورنے ان کے سرکے اگلے حصہ پرہاتھ پھیرا ۲؎ فرمایاکہو اﷲ اکبر اﷲ اکبر اﷲ اکبر اﷲ اکبر بلند آؤاز سے پھرکہو “اشھدان لا الہ الا اﷲ اشھدان لا الہ الا اﷲ،اشھدان محمدًا رسول اﷲ اشھدان محمدًا رسول اﷲ”پست آواز سے پھرشہادت سے اپنی آواز اونچی کرو۳؎ “اشھدان لا الہ الا اﷲ اشھدان لا الہ الا اﷲ،اشھد ان محمدًا رسول ا ﷲ اشھد ان محمدًا رسول اﷲ،حی علی الصلوۃ حی علی الصلوۃ،حی علی الفلاح حی علی الفلاح”اگرصبح کی نمازہوتویہ بھی کہہ لو”الصلوۃ خیر من النوم الصلوۃ خیر من النوم۴؎ ،اﷲ اکبراﷲ اکبر،لا الہ الا اﷲ”۔(ابوداؤد)

شرح

۱؎ ظاہریہ ہے کہ سنت سے مرادشرعی سنت ہے،لہذا یہ امام اعظم کی دلیل ہے کہ اذان سنت ہے،ہاں چونکہ اشعاردین میں سے ہے،اس لئے اس کے چھوڑ دینے والوں پرجہادکیاجائیگا۔

۲؎ محبت کی بناءپران کا شوق علم دیکھ کر۔معلوم ہوا کہ حضورکو طالب علم بہت پیارے ہیں۔

۳؎ اس میں وہ تاویل نہیں ہوسکتی جو ہم عرض کرچکے ہیں کہ اتفاقًا ترجیع ہوئی کیونکہ یہاں تو ترجیع کاقانون بتایاجارہا ہے مگر پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ حضرت ابومحذورہ کی احادیث مضطرب اورمتعارض ہیں اورعمل صحابہ،خواب کی اذان جو فرشتہ نے سکھائی اورحضرت بلال کی اذان کے خلاف ہے،لہذا قابل عمل نہیں۔(مرقاۃ وغیرہ)

۴؎ یہ داخلی تثویب ہے،یعنی اعلان کے بعداعلان سواءفجر کے کسی اوراذان میں کہنا بدعت سیئہ ہے،ہاں اذان واقامت کے درمیان تثویب متاخرین علماءنے مستحب جانی۔(کتب فقہ و مرقات)اس تثویب کے لئے الفاظ مقررنہیں،مسلمان جوچاہیں مقررکرلیں۔بعض جگہ”اَلصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ یَارَسُوْلُ اﷲ”پڑھ دیتے ہیں یہ بھی ٹھیک ہے کہ درودبھی ہے،تثویب بھی۔