أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَهُوَ الَّذِىۡۤ اَنۡشَاَ جَنّٰتٍ مَّعۡرُوۡشٰتٍ وَّغَيۡرَ مَعۡرُوۡشٰتٍ وَّالنَّخۡلَ وَالزَّرۡعَ مُخۡتَلِفًا اُكُلُهٗ وَالزَّيۡتُوۡنَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّغَيۡرَ مُتَشَابِهٍ ‌ؕ كُلُوۡا مِنۡ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثۡمَرَ وَاٰتُوۡا حَقَّهٗ يَوۡمَ حَصَادِهٖ‌ ‌ۖ وَلَا تُسۡرِفُوۡا‌ ؕ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور وہی ہے جس نے بیلوں والے باغ پیدا کیے اور جس نے درختوں والے باغ پیدا کیے اور کھجور کے درخت اور کھیت اگائے جن کے کھانے مختلف ہیں اور زیتون اور انار اگائے جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور مختلف بھی جب وہ درخت پھل دار ہوں تو انکے پھلوں سے کھاؤ اور جب ان کی کٹائی کا دن آئے تو ان کا حق ادا کرو اور بےجاخرچ نہ کرو ‘ بیشک اللہ تعالیٰ بےجاخرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہی ہے جس نے بیلوں والے باغ پیدا کیے اور جس نے درختوں والے باغ پیدا کیے اور کھجور کے درخت اور کھیت اگائے جن کے کھانے مختلف ہیں اور زیتون اور انار اگائے جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور مختلف بھی جب وہ درخت پھل دار ہوں تو انکے پھلوں سے کھاؤ اور جب ان کی کٹائی کا دن آئے تو ان کا حق ادا کرو اور بےجاخرچ نہ کرو ‘ بیشک اللہ تعالیٰ بےجاخرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الانعام : ١٤١) 

مشکل الفاظ کے معانی : 

معروشات : یہ لفظ عرش سے بنا ہے ‘ عرش کا معنی ہے چھت۔ جس چیز پر بادشاہ بیٹھتا ہے ‘ اس کو بھی بلندی کی وجہ سے عرش (تخت) کہتے ہیں۔ عرب کہتے ہیں عرشت الکرم میں نے انگور کی چھت بنادی ‘ یعنی انگور کی بیلیں اس طرح پھیلا دیں کہ ان سے چھت بن گئی۔ اس آیت میں ” جنات معروشات “ سے مراد وہ باغ ہیں جن میں پھلوں کی بیلیں ہوں ‘ مثلا انگور کی یا خربوزہ اور تربوز کی۔ 

غیر معروشات : جن پھلوں کے درختوں کو زمین پر چھوڑ دیا گیا ہو ‘ جو اپنے تنے اور شاخوں کی وجہ سے کسی چھت پر ڈالے جانے سے مستغنی ہوں۔ 

حصاد : یہ لفظ حصد سے بنا ہے ‘ اس کا معنی ہے فصل کاٹنا۔ درختوں سے پھلوں کے توڑنے کو بھی حصاد کہتے ہیں۔ 

وجود باری اور توحید پر دلیل : 

قرآن مجید کا موضوع توحید ‘ رسالت ‘ احکام شرعیہ ‘ معاد اور جزاء و سزا کو بیان کرنا ہے۔ اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان کفار کو سرزنش کی تھی جو شرک کرتے تھے اور از خود احکام بنا لیتے تھے ‘ اس کے بعد اب پھر اصل مقصود کی طرف متوجہ ہوا اور وجود باری اور توحید پر دلائل دیئے۔ 

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیلوں اور درختوں والے باغات پیدا کیے اور کھجور کے درخت اور کھیت پیدا کیے۔ ان پھلوں کی شکل و صورت ‘ ان کا رنگ ‘ ان کی خوشبو اور ان کا ذائقہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اسی طرح کھیتوں سے جو غلہ پیدا ہوتا ہے ان کی ہیئت ان کا ذائقہ ان کے فوائد ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ یہ چیزیں از خود تو پیدا نہیں ہوئیں ‘ اور نہ یہ چیزیں سورج ‘ چاند اور ستاروں نے پیدا کی ہیں۔ کیونکہ جب وہ غروب ہوجاتے ہیں تب بھی یہ چیزیں اسی طرح برقرار رہتی ہیں۔ پھر دنیا بھر کے لوگ جو اللہ کے سوا اور چیزوں کی خدائی کے قائل ہیں ‘ ان چیزوں میں سے کسی نے بھی یہ دعوی نہیں کیا کہ وہ ان باغوں اور کھیتوں کے پیدا کرنے والے ہیں۔ بلکہ اللہ کے سوا کوئی بھی ان کے پیدا کرنے کا دعوی دار نہیں ہے تو پھر ہم کیوں نہ مانیں کہ اللہ ہی دنیا بھر کے باغوں ‘ کھیتوں اور ہرے بھرے جنگلوں کا خالق ہے اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ وہ نباتات کا خالق ہے تو جمادات ‘ حیوانات ‘ انسانوں ‘ جنوں اور فرشتوں اور ساری کائنات کا بھی وہی خالق ہے اور وہی عبادت کا مستحق ہے۔ 

فصل کی کٹائی کے حق سے مراد عشر ہے یا عام صدقہ ؟ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جب فصل کی کٹائی کا دن آئے تو اس کا حق ادا کرو۔ 

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) ‘ جابر بن زید ‘ محمد بن حنیفہ ‘ حسن بصری ‘ سعید بن مسیب ‘ طاؤس ‘ زید بن اسلم ‘ قتادہ اور ضحاک کا یہ قول ہے کہ اس حق سے مراد عشر (پیداوار کا دسواں حصہ) اور نصف العشر (پیداوار کا بیسواں حصہ) ہے اور حضرت ابن عباس (رض) سے دوسری روایت یہ ہے کہ اس حق کو اس حدیث نے منسوخ کردیا جس میں عشر اور نصف عشر کو فرض کیا گیا ‘ اور یہ قول اس اصول پر مبنی ہے کہ قرآن کے حکم کو سنت سے منسوخ کرنا جائز ہے ‘ حسن بصری سے روایت ہے کہ اس حکم کو زکوۃ نے منسوخ کردیا ضحاک نے کہا ہے کہ قرآن میں مذکور ہر صدقہ کو زکوۃ نے منسوخ کردیا ‘ اور حضرت ابن عمر اور مجاہد سے روایت ہے کہ یہ آیت محکمہ (غیر منسوخ) ہے اور فصل کی کٹائی کے وقت اس حق کو ادا کرنا واجب ہے اور یہ حق زکوۃ کے علاوہ ہے اور روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رات کے وقت کھجور توڑنے اور فصل کاٹنے سے منع فرمایا ہے۔ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ یہ ممانعت اس لیے ہے تاکہ دن میں کٹائی کے وقت مساکین آسکیں۔ مجاہد نے کہا جب فصل کاٹی جائے تو اس میں سے کچھ حصہ مساکین کو دیا جائے اس طرح جب درخت سے کھجوریں توڑی جائیں تو کچھ کھجوریں ان کو دی جائیں۔ اسی طرح جب ان کو صاع کے حساب سے ماپا جائے تو ان کو کچھ کھجوریں دی جائیں۔ (احکام القرآن ج ٣‘ ص ٩‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) کے نزدیک اس آیت میں فصل کی کٹائی کے حق سے مراد عشر یا نصف عشر ہے اور حضرت ابن عمر (رض) کے نزدیک اس حق سے مراد عام صدقہ ہے اور یہ حق زکوۃ کے علاوہ ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) کا قول اس لیے راجح ہے کہ احادیث میں بھی ارضی پیداوار کی زکوۃ ‘ عشر یانصف عشر بیان کی گئی ہے۔ 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو باغ یا کھیت بارش سے یا چشموں سے یا بارش کے جمع شدہ پانی سے سیراب کیا گیا ہو ‘ اس میں عشر ہے اور جن کو کنوئیں سے پانی حاصل کر کے سراب کیا گیا ہو ‘ اس میں نصف عشر ہے۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٧٩١‘ سنن الترمذی ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٦٤٠‘ صحیح مسلم ‘ زکوۃ ٧‘ (٩٨١) ٣٢٣٦‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٥٩٧‘ سنن النسائی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٨٩) 

عشر کے نصاب میں مذاہب فقہاء : 

امام ابوحنیفہ کے نزدیک زمین کی پیداوار قلیل ہو یا کثیر ‘ اس میں عشر یانصف عشر واجب ہے اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک پانچ وسق (تقریبا تیس من) سے کم کی مقدار میں عشر واجب نہیں ہے۔ 

ائمہ ثلاثہ کی دلیل یہ حدیث ہے : 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پانچ وسق سے کم میں صدقہ نہیں ہے اور نہ پانچ اونٹوں سے کم میں صدقہ ہے اور نہ پانچ اواق دو سودرھم ‘ ٣٦، ٦١٢ گرام ‘ ساڑھے باون تولہ چاندی سے کم میں صدقہ ہے۔ 

(صحیح البخاری ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٤٧‘ صحیح مسلم ‘ زکوۃ ‘ ١‘ (٩٧٩) ٢٢٢٦‘ سنن ابودؤاد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٥٥٨‘ سنن الترمذی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٦١٢٦‘ سنن النسائی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٤٥‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٧٩٣) 

امام ابوحنیفہ (رح) کے موقف پر دلائل : 

امام ابوحنیفہ (رح) کی دلیل قرآن مجید کی زیر تفسیر آیت ہے۔ امام فخر الدین رازی نے اسکی یہ تقریر کی ہے۔ 

امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا قلیل اور کثیر میں عشر واجب ہے اور جمہور نے کہا جب زمین کی پیداوار پانچ وسق کی پہنچ جائے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے اس آیت سے استدلال کیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” واتواحقہ یوم حصادہ “ (الانعام : ١٤١ )

ترجمہ : اور فصل کی کٹائی کے دن اس کا حق ادا کرو۔ 

یہ آیت قلیل اور کثیر میں حق کے ثبوت پر دلیل ہے اور جب یہ حق زکوۃ (عشر) ہے تو قلیل اور کثیر میں وجوب زکوۃ کا قول کرنا واجب ہے۔ (تفسیر کبیر ‘ ج ٥‘ ص ١٦٤‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت) 

نیزامام ابوحنیفہ (رح) نے اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے جس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس زمین کو بارش ‘ چشمے یا بارش کا جمع شدہ پانی سیراب کرے ‘ اس میں عشر ہے اور جو زمین کنوئیں کے پانی سے سیراب کی جائے ‘ اس میں نصف عشر ہے۔ 

(صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث :‘ رقم الحدیث : ١٤٨٣‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ١٥٩٦‘ سنن الترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٦٤٠‘ سنن الترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٨٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ١٨١٧‘ سنن دارقطنی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٠١٣‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث :‘ ١٢٨٥‘ ٣٢٨٦‘ ٣٢٨٧) 

اس حدیث سے وجہ استدلال یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زمین کی پیداوار پر برسبیل عموم عشر یا نصف عشر واجب کیا ہے اور اس کو پانچ وسق کے ساتھ خاص نہیں کیا اور عام ‘ خاص پر مقدم ہوتا ہے ‘ لہذا جس حدیث میں آپ نے پانچ وسق پر وجوب زکوۃ کا حکم فرمایا ہے ‘ وہ مال تجارت پر محمول ہے ‘ یعنی جس شخص کے پاس پانچ وسق سے کم مال تجارت ہو ‘ اس پر زکوۃ فرض نہیں ہوگی اور اس وقت پانچ وسق دو سو درہم کے برابر ہوتے تھے۔ 

نیزامام ابوحنیفہ (رح) کا استدلال اس آیت سے بھی ہے : 

(آیت) ” یایھا الذین امنوا انفقوا من طیبت ماکسبتم ومما اخرجنا لکم من الارض “۔ (البقرہ : ٢٦٧) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنی کمائی ہوئی پسندیدہ چیزوں کو (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو اور ان چیزوں میں سے جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے پیدا کی ہیں۔ 

وجہ استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے برسبیل عموم فرمایا ہے کہ زمین سے ہم نے جو کچھ پیدا کیا ہے ‘ اس میں سے خرچ کرو اور اس کو اللہ تعالیٰ نے کسی مقدار اور نصاب کے ساتھ مقید نہیں فرمایا اور اس میں امام ابوحنیفہ کے موقف کی تائید ہے کہ زمین کی پیداوار خواہ قلیل ہو یا کثیر اس میں عشر واجب ہے۔ 

نفلی صدقہ کرنے میں کیا چیز اسراف ہے اور کیا نہیں : 

نیز اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے اور بےجا خرچ نہ کرو بیشک بےجا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ 

اہل لغت کے اسراف میں دو قول ہیں۔ ابن الاعرابی نے کہا حد سے تجاوز کرنا اسراف ہے اور شمر نے کہا مال کو لغو اور بےفائدہ کاموں میں خرچ کرنا اسراف ہے۔ (لسان العرب ‘ ج ٩‘ ص ١٤٨‘ مطبوعہ ایران) 

انسان جب اپنا مال صدقہ کر دے اور اپنے اہل و عیال کے لیے کچھ نہ چھوڑے تو یہ بھی اسراف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 

(آیت) ” ولا تبسطھا کل البسط فتقعد ملوما محسورا “۔ (الاسراء : ٢٩) 

ترجمہ : اور نہ اپنا ہاتھ پوری طرح کھول دے کہ بیٹھا رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہارا۔ 

ابن جریج نے کہا یہ آیت ثابت بن قیس بن شماس کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے درخت سے کھجوریں توڑیں اور کہا آج جو شخص بھی آئے گا میں اس کو کھلاؤں گا پھر وہ لوگوں کو کھجوریں کھلاتے رہے حتی کہ شام ہوگئی اور ان کے پاس ایک کھجور بھی باقی نہیں بچی۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ بےجا خرچ نہ کرو ‘ بیشک اللہ بےجا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا (جامع البیان ‘ جز ٨ ص ٨١‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

حضرت حکیم بن حزام (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بہترین صدقہ وہ ہے جو خوشحالی کی حالت میں دیا جائے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور صدقہ کی ابتداء اپنے عیال سے کرو۔ 

(صحیح مسلم ‘ الزکوۃ ٩٥‘ (١٠٣٤) ٢٣٤٨‘ سنن النسائی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٤٣‘ صحیح البخاری ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٥٣٥٦) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : افضل صدقہ وہ ہے جو خوشحال چھوڑے ‘ اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔ صدقہ کی ابتداء اپنے عیال سے کرو ‘ بیوی کہے گی مجھے کھلاؤ یا مجھے طلاق دو ‘ نوکر کہے گا مجھے کھلاؤ اور مجھ سے کام لو ‘ بیٹا کہے گا مجھے کھلاؤ مجھے کس پر چھوڑتے ہو ؟ 

(صحیح البخاری ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٥٣٥٥‘ مسند احمد ج ٢‘ ص ٢٤٥‘ المنتقی ‘ رقم الحدیث :‘ ٧٥١‘ مسند القضاعی ‘ رقم الحدیث :‘ ١٢٣٢) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب سے فرمایا صدقہ کرو ‘ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس ایک دینار ہے آپ نے فرمایا اس کو اپنے نفس پر خرچ کرو۔ اس نے کہا میرے پاس ایک اور دینا رہے آپ نے فرمایا اس کو اپنی بیوی پر خرچ کرو اس نے کہا میرے پاس ایک اور دینار ہے۔ آپ نے فرمایا اس کو اپنی اولاد پر خرچ کرو۔ اس نے کہا میرے پاس ایک اور دینار ہے۔ آپ نے فرمایا تم کو زیادہ معلوم ہے یعنی تم کو زیادہ معلوم ہے تمہارے رشتہ داروں میں کون زیادہ ضرورت مند ہے ؟ اس کودو۔ 

(سنن ابو داؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٩١‘ سنن النسائی ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٣٤‘ مسند الشافعی ‘ ج ٢‘ ص ٦٤۔ ٦٣‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ ص ٤٧١‘ ٢٥١‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣٣٨‘ المستدرک ‘ ج ١ ص ٤١٥‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٧ ص ٤٦٦) 

حضرت طارق محاربی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا دینے والے کا ہاتھ بلند ہوتا ہے اور صدقہ کی ابتداء اپنے عیال سے کرو۔ اپنی ماں ‘ اپنے باپ ‘ اپنی بہن اور اپنی بھائی کو دو ۔ پھر جو تمہارے زیادہ قریب ہوں اور جو ان سے قریب ہوں۔

(سنن النسائی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٣١‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣٤١‘ سنن دارقطنی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٩٥٧‘ مصنف ابن ابی شیبہ ‘ ج ٣ ص ٢١٢‘ المعجم الکبیر ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٨١٧٥‘ سنن کبری للبیقہی ‘ ج ٨ ص ٣٤٥‘ مسند احمد ‘ ج ٣ ص ٦٤) 

ان احادیث میں ماں باپ اور بیوی بچوں پر جو صدقہ کی ابتداء کرنے کا حکم ہے اس سے مراد صدقہ نفلیہ ہے ‘ کیونکہ صدقہ واجبہ کو ان پر خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔ جس شخص کا دل مضبوط ہو اور اس کا نفس مستغنی ہو ‘ اور وہ اللہ تعالیٰ پر متوکل ہو اور وہ اکیلا ہو ‘ اس پر ماں باپ ‘ بیوی ‘ بچوں اور بہن بھائیوں کی ذمہ داری اور ان کی پرورش کا بار نہ ہو اور وہ مالی حقوق سے متعلق اللہ تعالیٰ کے تمام فرائض ادا کرچکا ہو تو وہ اگر اللہ کی راہ میں اپنا سارا مال خرچ کر دے تو یہ جائز ہے اور اسراف نہیں ہے۔ 

امام عبدالرحمن بن محمد بن ادریس رازی ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

مجاہد نے کہا اگر تم ابو قیس (ایک پہاڑ) کے برابر سونا بھی اللہ کی اطاعت میں خیرات کردو تو یہ اسراف نہیں ہے اور اگر تم ایک صاع (چار کلو) بھی اللہ کی معصیت میں خرچ کرو تو یہ اسراف ہے۔ (رقم الحدیث : ٧٩٦٤ )

(تفسیر امام ابن ابی حاتم ‘ ج ٥‘ ص ١٣٩٩‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الریاض ‘ ١٤١٧ ھ) 

امام ابو الشیخ نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ ابو بشر نے بیان کیا کہ لوگوں نے ایاس بن معاویہ سے پوچھا اسراف کیا ہے ؟ انہوں نے کہا جب تم اللہ کے حکم سے تجاوز کرو تو یہ اسراف ہے۔ سفیان بن حسین نے کہا جب تم اللہ کے حکم میں کمی کرو تو یہ اسراف ہے۔ (درمنثور ‘ ج ٣‘ ص ٣٦٩‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٤ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 141