أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ مِنَ الۡاَنۡعَامِ حَمُوۡلَةً وَّفَرۡشًا‌ ؕ كُلُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ‌ ؕ اِنَّهٗ لَـكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ۞

ترجمہ:

اور اس نے بعض (قدآور) مویشی پیدا کیے جو بوجھ اٹھانے والے ہیں اور بعض زمین سے لگے ہوئے (کوتاہ قد) مویشی پیدا کیے، اللہ نے تمہیں جو رزق دیا ہے اس سے کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس نے بعض (قدآور) مویشی پیدا کیے جو بوجھ اٹھانے والے ہیں اور بعض زمین سے لگے ہوئے (کوتاہ قد) مویشی پیدا کیے، اللہ نے تمہیں جو رزق دیا ہے اس سے کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ (الانعام : ١٤٢) 

مویشیوں کے وجود میں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مزید رحمتوں اور برکتوں کا بیان فرمایا ہے کہ اس نے سواری اور بوجھ لادنے کے لیے بڑے بڑے اور قد آور جانور پیدا کیے جیسے گھوڑے ‘ اونٹ ‘ بیل اور بھین سے وغیرہ ‘ اور چھوٹے جانور پیدا کیے جن پر زمین پر بچا کر ذبح کیا جاسکتا ہے ‘ جیسے بھیڑ ‘ بکری ‘ اور دنبے وغیرہ ‘ ان جانوروں سے دودھ حاصل کیا جاتا ہے جو ہماری غذائی ضرورت پورا کرتے ہیں اور ان سے اون بھی حاصل کیا جاتا ہے جو ہماری لباس کی ضرورت پورا کرتے ہیں ‘ جیسا کہ ان آیات میں فرمایا ہے : 

(آیت) ” اولم یروا انا خلقنالھم مما عملت ایدینا انعاما فھم لھا مالکون، وذللنھا لھم فمنھا رکوبھم ومنھایاکلون، ولھم فیھامنافع ومشارب افلا یشکرون “۔ (یسین : ٧٣۔ ٧١) 

ترجمہ : کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اپنے دست قدرت سے ان کے لیے مویشی پیدا کیے جن کے وہ مالک ہیں ‘ اور ہم نے ان مویشیوں کو ان کے تابع کردیا ‘ سو وہ بعض پر سواری کرتے ہیں اور بعض کو وہ کھاتے ہیں ‘ اور ان کے لیے ان مویشیوں میں بہت فائدے ہیں اور پینے کی چیزیں ہیں تو کیا وہ شکر نہیں کرتے۔ 

(آیت) ” وان لکم فی الانعام لعبرۃ نسقیکم مما فی بطونہ من بین فرث ودم لبنا خالصا سآئغا للشربین “۔ (النحل : ١٦) 

ترجمہ : اور بیشک مویشیوں میں تمہارے لیے مقام غور ہے ‘ ہم تمہیں اس چیز سے پلاتے ہیں جو انکے پیٹوں میں ہے ‘ گوبر اور خون کے درمیان سے پینے والوں کے لیے خالص خوشگوار دودھ۔ 

پھر اللہ تعالیٰ نے جس طرح غلہ جات اور پھلوں سے کھانے کا حکم دیا تھا اسی طرح اب ان مویشیوں سے کھانے اور ان کا دودھ پینے کا حکم دیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ درخت اور کھیت ہوں یامویشی ‘ سب کو اللہ تعالیٰ نے انسان کے منافع اور فوائد کے لیے پیدا فرمایا ہے ‘ سو اس کو چاہیے کہ ان سے نفع حاصل کرے اور شیطان کے قدموں پر نہ چلے ‘ کیونکہ شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے ‘ جیسا کہ ان آیتوں میں ارشاد ہے : 

(آیت) ” ان الشیطان لکم عدو فاتخذوہ عدوا انما یدعوا حزبہ لیکونوا من اصحب السعیر “۔ (فاطر : ٦) 

ترجمہ : بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے سو تم بھی اس کو دشمن ہی بنائے رکھو ‘ وہ اپنے گروہ کو اس لیے بلاتا ہے کہ وہ دوزخ والے ہوجائیں۔ 

(آیت) ” انما یامرکم بالسواء والفحشآء وان تقولوا علی اللہ مالا تعلمون “۔ (البقرہ : ١٦٩) 

ترجمہ : شیطان تم کو صرف برائی اور بےحیائی کا حکم دیتا ہے اور اللہ کے متعلق ایسی بات کہنے کا جس کو تم نہیں جانتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 142