*کثرتِ بعدِ قِلّت پہ پہ اکثر درود* *عزّتِ بَعدِ ذلّت پہ لاکھوں سلام*

*آج سے 5 سال پہلے اہلِ سنت وجماعت کے مخالفین کی طرف سے اِس عاجز کے پاس ایک پرچہ بھیجوایاگیا اور انتہائی بے صبری سے اس کے جواب کا مطالبہ کیا گیا_ اِس عاجز نے کہا کہ امتحان کے پرچہ جات، کاپیوں کی جانچ اور مدرسہ کے کچھ اِضافی کام ایسے آگئے ہیں کہ تقریبًا پندرہ دن تک مطالعہ اور جواب نہیں ہوسکتا، اِس عاجز کی مجبوری سننے کے بعد بھی وہ تین دن میں دوبار آئے کہ ہمیں فوری جواب چاہیے، آخر اِس عاجز نے اپنے سارے کام روک کر اللہ کے فضل سے رات بھر میں یہ جواب مرتب کیا اور صبح ان کے حوالے کردیا،

اِس عاجز کو پرسوں اس کا مسودہ نظر آیا تو سوچا کہ اسے اپنے احباب کو بھی شیئر کردیا جائے ممکن ہے کہ کسی کو کہیں کام آجائے

ذیل میں اس کے اعتراضات مع جوابات حاضر ہیں

.*اعتراضات* ……………………………………

🌸 احمد رضا بریلوی کا ایک شعر ہے:

*کثرتِ بعدِ قِلّت پہ پہ اکثر درود*

*عزّتِ بَعدِ ذلّت پہ لاکھوں سلام*

اس میں بےادبی کی ساری حدوں کو پَھلانگتےہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےلیے *ذلت* کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کیا یہ شانِ رسالت میں گستاخی نہیں ہے؟

🌸 بریلوی حضرات اپنے اعلیٰ حضرت کو انبیاءِ کرام سے بڑھ کر مانتے ہیں چنانچہ اُن کی کتاب جاءَ الحق ص 420 پر ہے کہ "نِسیانًا اور خَطاءً انبیاءِ کرام سے گناہِ کبیرہ صادر ہوسکتے ہیں مگر وہ اس پر قائم نہیں رہتے ہیں "اور اپنے اعلی حضرت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ان کی زبان و قلم کو اللہ نے اپنی حفاظت میں لے لیا ہے اور زبان و قلم نقطہ برابر خطا کرے اس کو ناممکن فرمادیا ” ( احکامِ شریعت ص 11)

غور کیجیے اِدھر تو خطا و نِسیان کو بھی راہ نہیں لیکن انبیاءِ کرام صرف خطا ہی نہیں بلکہ خطاءً گناہِ کبیرہ بھی کرسکتے ہیں

🌸 بریلویوں نے اپنی کتابوں میں احمد رضا بریلوی کو تِلمیذُالرحمٰن یعنی اللہ کا شاگرد کہا ہے اور لکھا ہے کہ ان کا ظاہرًاکوئی استاد نہیں

یہ سب انھیں اعلیٰ درجے کا معصوم ثابت کرنے کےلیے ہے

🌸احمد رضا بریلوی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں انتہائی بے باکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھا ہے :

تنگ و چست ان کا لباس اور وہ جوبن کا اُبھار

مَسکی جاتی ہے قَبا سر سے کمر تک لے کر

(حدائق بخشش حصہ سوم)

➖➖➖➖➖➖ *جوابات* ➖➖➖➖➖

*پہلےاعتراض کا جواب*

بسم اللہ الرحمن الرحیم – الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سیدالانبیاء والمرسلين _

سيدی اعلٰی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان نے بارگاہِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے عرض کیا:

*کثرتِ بعدِ قِلّت پہ پہ اکثر درود*

*عزّتِ بَعدِ ذلّت پہ لاکھوں سلام*

اِس شعر میں کثرت و عزت سے مراد رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اور قِلَّت سے مراد نورِ ہدایت ہے جبکہ ذِلّت سے مراد کفر وضلالت ہے_ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وِلادت سے پہلے کفر و ضلالت کا بول بالا تھا اور نورِ ہدایت بے نام ہوچلاتھا کفر اپنی کثرت پر نازاں تھا اور ہدایت اپنی قِلّت پر اشک افشاں _ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے تو نورِ ہدایت کی کثرت ہوگئی لوگوں کو کفر وضلالت کی ذلت کے بعد ایمان کی عزت نصیب ہوگئی، تاریکی کے بعد اجالا پھیل گیا اور رات کے بعد دن آگیا، خود اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اپنے متعدّد کلاموں میں اس کی صراحت کی ہے مثلًا:

ناریوں کا دور تھا دل جل رہا تھا نور کا

تم کو دیکھا ہوگیا ٹھنڈا کلیجہ نور کا

شعر میں مُسَبَّب بول کر سبب مراد لیا گیا ہے چنانچہ کثرت و عزت مُسَبَّب ہیں معنیٰ یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت کی قلت اور زمانۂ کفر وضلالت کے بعد تشریف لائے تو آپ حق وصداقت کی کثرت کا سبب ہوئے اور کفروضلالت کی ذلت مٹاکر حق کی عزت کا سبب ہوئے، مذکورہ شعر میں قِلَّت و ذِلّت کا لفظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے نہیں ہے اسے زبردستی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فِٹ کرنا درپردہ کسی دشمنی کی بھڑاس نکالنا ہے

انبیا و اولیا کے لیے ذِلَّت کا لفظ سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان نے نہیں استعمال کیا البتّہ وہابیوں اور دیوبندیوں کے مُتَّفِقہ پیشوا اسماعیل دہلوی نے ضرور استعمال کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ ” ہر مخلوق بڑا ہو یاچھوٹا وہ اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے،،

(تقویۃ الایمان ص 41 مطبوعہ فرید بک ڈپو)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔(یہ بعد کا اضافہ ہے ) :

اس شعر کی ایک توجیہ یہ دیکھنے کو ملی کہ شعر میں ”قلت وذلت ” سے اسلام و اہلِ اسلام کی ابتدائی حالت مراد ہے

لیکن یہ توجیہ کمزور ہے اس لئے کہ اِس شعر سے پہلے اور بعد کا کلام خود ذاتِ مصطفی ﷺ سے متعلق ہے بیچ میں صرف ایک شعر اِسلام سے یا صحابہ سے متعلق ہو یہ غیر معقول ہے ۔اسلام کی ابتدائی حالت کو ذلت سے تعبیر کرنا یاصحابہ کو ذلیل کہنا امامِ اہلِ سنت سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ سے مُتصور نہیں

یہ بھی کہا گیا کہ ”وأنتم أذلۃ ” میں خود اللہ نے صحابہ کرام کو ”أذلَّہ” کہا ہے اور ”أذلَّہ”ذلیل کی جمع ہے

یہ توجیہ بھی کمزور ہے اس لئے کہ صحابہ ہوں یا انبیا سب اللہ کے بندے ہیں اللہ ان کے حق میں جو چاہے فرمائے کسی دوسرے کو یہ حق نہیں کہ وہ بھی انھیں ”أذلہ” کہے، البتہ اقتباس کی صورت میں اس کا استعمال ممکن ہے لیکن یہاں اقتباس ظاہر نہیں

نیز آیت میں یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کلام ”وأنتم أذلۃ ” ”فی نظرِھم”پر محمول ہو

یہ بھی کہا گیا کہ یہاں "بَعد” نہیں ہے، بلکہ "بُعد” بالضم ہے جوکہ ” بعید اَز ” کے معنی میں ہے

یہ توجیہ نہیں، تبدیل ہے- "بُعد” بالضّم کی ایسی ترکیب عُرف اور اصول کے خلاف ہے اِس معنی میں اُس کی ایسی ایک بھی نظیر پیش نہیں کی جاسکتی، البتہ اگر بُعد کا معنیٰ طول، عرض اور عُمْق (لمبائی، چوڑائی اور گہرائی)لیا جائے تو اصولًا اس کا استعمال درست تو ہوگا لیکن معنیٰ کس قدر فاسد ہوجائیں شاید یہ کسی پر مَخفی نہ ہو

➖➖➖➖ دوسرے اعتراض کاجواب ➖➖➖➖

اصل جواب سے پہلے نفسِ مسئلہ کی نوعیت ملاحظہ فرمائیں-

جاءَ الحق ص 420 پر ہے : انبیاءِ کرام اِرادۃً گناہِ کبیرہ کرنے سے ہمیشہ معصوم ہیں کہ جان بوجھ کر نہ تو نُبُوّت سے پہلے گناہِ کبیرہ کرسکتے ہیں اور نہ اس کے بعد، ہاں نِسیانًا خطاءً صادر ہوسکتے ہیں مگر اس پر قائم نہیں رہتے”

شرحِ عقائدِ نسفی میں ہے :

اِنَّھم معصومونَ عَنِ الکفرِ قبلَ الوحیِ و بَعدَہٗ بِالْاِجماعِ وکذا عن تَعَمُّدِ الکبائرِ عندَالجمھور ___ یعنی انبیاءِ کرام وحی سے پہلے اور وحی کے بعد کفر سے بِالْاِتّفاق معصوم ہیں یونہی قصدًا گناہِ کبیرہ کے اِرتِکاب سے معصوم ہیں جمہور کے نزدیک_

مولوی مجیب اللہ صاحب گونڈوی استاذ دارالعلوم دیوبند ” بیان الفوائد جلد دوم ص 189″ پر لکھتے ہیں :

"انبیاءِ کرام نبوت ملنے کے بعد کبائر (گناہِ کبیرہ) کا عمدًا (یعنی جان بوجھ کر) ارتکاب کرنے سے تمام مُتَکَلّمین کے نزدیک معصوم ہیں "

جمہور اہلِ سنت کا نظریہ تو یہی ہے لیکن صوفیہ اور محقّقین کانظریہ یہ ہے 👈 ” انبیاءِ کرام کبائر (کبیرہ گناہوں) سے مطلقًا معصوم ہیں اور حق یہ ہے کہ کہ تَعَمُّدِ صغائر (یعنی قصدًا صغیرہ گناہ کرنے) سے بھی قبلِ نبوت و بعدِ نبوت معصوم ہیں (بہارِ شریعت حصہ اول ص 29)

سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان کا بھی یہی نظریہ ہے، انھوں نے بہار شریعت حصہ اول پر نظرِ ثانی کرنے کے بعداس پر تقریظ بھی لکھی ہے اور احکامِ شریعت حصہ سوم ص 309 پر لکھاہے کہ 👈 ” حق یہ ہے کہ بعدِ بِعثت ( یعنی اعلانِ نبوت کے بعد) صدورِ کبیرہ سے سَہوًا بھی معصوم ہیں”

استاذی الکریم حضرت علامہ مفتی نظام الدین صاحب قبلہ دامت برکاتھم القدسیہ صدر شعبۂ اِفتا و صدر المدرسین الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور نے اپنی کتاب عِصمتِ انبیا ص 29 پر لکھا کہ 👈 انبیاءِ کرام سے گناہِ کبیرہ کا صدور _ خواہ قصدًا ہو خواہ سہوًا _محال ہے”

اِن حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر سنّی (بریلوی) علما کے نزدیک صوفیہ اور محقّقین کا نظریہ ہی مختار و پسندیدہ ہے

……

اب ہم اصل جواب کی طرف آتے ہیں – بہارِ شریعت حصہ اول ص 29 پر ہے کہ 👈 نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں، اماموں کو انبیا کی طرح معصوم سمجھنا گمراہی و بیدینی ہے _ عِصمتِ انبیا (یعنی انبیا علیہم السلام کے معصوم ہونے) کے یہ معنیٰ ہیں کہ ان کے لیے حفظِ اِلٰہی (یعنی اللہ کی طرف سے حفاظت) کا وعدہ ہولیا جس کے سبب ان سے صُدورِ گناہ شرعًا محال ہے بخلاف اَئِمّہ و اَکابِرِ اولیا کہ اللہ انھیں محفوظ رکھتا ہے، ان سے گناہ نہیں ہوتا مگر شرعًا محال بھی نہیں "

سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان نے اپنے رسالہ دوامُ العیش ص 17 پر لکھاہے کہ 👈 اہلِ سنت کا اِجماع ہے کہ بشر میں انبیا علیہم السلام کے سوا کوئی معصوم نہیں جو دوسرے کو معصوم مانے اہلِ سنت سے خارج ہے”

ہم سنّی بشر میں انبیا علیہم السلام کے علاوہ کسی اور کو محفوظ تو مان سکتے ہیں لیکن معصوم نہیں مانتے _ جب کسی ولی کے لیے” ناممکن” یا ” محال” کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد محالِ شرعی اور محالِ عقلی نہیں ہوتا ہے بلکہ محالِ عادی ہوتا ہے

اِس تناظر میں احکامِ شریعت کی تقدیم میں ص 11 پر ذکر شدہ اِس عبارت کو بھی دیکھنا چاہیے👈 ” حضرت شیخ محقق مولانا عبدالحق محث دہلوی، حضرت مولانا بحرالعلوم فرنگی محلی پھر اعلیٰ حضرت کی زبان و قلم کا یہ حال دیکھا کہ مولیٰ تعالیٰ نے اپنی حفاظت میں لے لیا ہے اور زبان و قلم نقطہ برابر خطا کرے اس کو ناممکن فرمادیا. ذلک فضلُ الله یؤتیه من يشاء”

اِس عبارت میں ناممکن سے مراد محالِ عادی ہے _ المعتمد المستند مترجم ص 55 پر ہے کہ 👈 محال کی تین قسمیں ہیں 1_ محالِ عقلی 2_ محالِ شرعی 3_ محالِ عادی

اُسی کے ص 56 پر ہے کہ : ہر محالِ عقلی شرعًا اور عادۃً بروجہِ اطّراد محال ہے اور کسی مراد کے استثنا کا قابل نہیں "

اسی صفحہ پر آخری لائن میں ہےکہ : ہرمحالِ شرعی کا وجود (شرعًا کے ساتھ) عادۃً (بھی) محال ہے”

پھر ص 57 پر ہے کہ 👈 ہر مُستحیلِ عادی (ہر محالِ عادی) نہ عقلًا محال ہوتا ہے نہ شرعًا "

اب جب احکامِ شریعت کی تقدیم سے نقل کی گئی عبارت کے یہ معنیٰ ہوئے کہ” مذکورہ بزرگوں کی زبان و قلم سے اللہ نے خطا کو عادۃً ناممکن کردیا ” تو اِس محفوظی ميں اور انبیاءِ کرام علیہم السلام کی عِصمت (یعنی معصوم ہونے) کے معنیٰ میں زمین و آسمان کا فرق ہوگیا، انبیاءِ کرام سے کفر و فِسق کا صدور اور احکامِ تبلیغیہ میں خطا و نِسیان کا صدور شرعًا اور عادۃً محال ہے جبکہ محفوظ اولیاءِ کرام سے کفر و فسق اور کسی خاص معاملے میں خطا و نِسیان کا صدور صرف عادۃً محال ہے شرعًا محال نہیں

خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا امجد علی علیہ الرحمہ نے بہارِ شریعت حصہ اول ص 29 پر لکھا کہ 👈 احکامِ تبلیغیہ میں انبیا علیہم السلام سے سہو و نسیان محال ہے

جاءَ الحق ص 419 پر ہے 👈 انبیاءِ کرام شرک، کفر، بدعقیدگی، گمراہی اور ذلیل حرکتوں سے ہر وقت بفضلہ تعالیٰ معصوم ہیں

اسی کے ص 419 پر ہے کہ :👈 رہے احکامِ تبلیغیہ، اُن میں کمی بیشی کرنے یا چُھپانےسے انبیا ہمیشہ معصوم ہیں کہ یہ حرکت ان سے نہ تو جان بوجھ کر صادر ہو نہ خطاءً "

محفوظ اولیائے کرام سے گناہ کبیرہ بلکہ کفر و گمراہی اگرچہ عادۃً ناممکن ہوتے ہیں لیکن عقلًا اور شرعًا ممکن ہوتے ہیں _ ممکن ہے کہ زبان و قلم سے مراد احکامِ تبلیغیہ ہوں، رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچی پیروی کی برکت سے اللہ تعالیٰ کسی کے لیے احکامِ تبلیغیہ میں خطا اور نِسیان(یعنی بھول چوک) عادۃً ناممکن کردے یہ اس کے کرم سے کچھ بعید نہیں

اولیاءِ کرام کی محفوظی اور انبیا علیہم السلام کی عِصمت میں کوئی مقابلہ نہیں اِس لیے کہ اولیا جوعادۃً محفوظ ہوتے ہیں وہ انبیا علیہم السلام کی سچی مُتابَعَت کی برکت سےمحفوظ ہوتے ہیں ورنہ ان سے شرعًا ہر گناہ ممکن ہے

__

اب لگے ہاتھوں دیوبندی اکابرین کی شان بھی ملاحظہ کرلیجیے، تذکرۃ الرشید جلد دوم مطبوعہ دارالکتاب دیوبند ص 35 پر ہے کہ 👈 ہادی و رہبرِ عالَم ہونے کی حیثیت سے چوں کہ آپ اُس بے لوث مسند پر بٹھائے گئے تھے جو بطحائی پیغمبر کی میراث ہے اس لیے آپ کی قدم قدم پر حق تعالیٰ کی جانب سے نگرانی و حفاظت ہوتی تھی – آپ اولیا اللہ کے اُس اعلیٰ طبقہ میں رُکنِ اعظم بن کر داخل ہوئے تھے جن کے اَقوال و اَفعال اور قلب و جَوارِح (ظاہری اَعضا) کی ہر زمانہ میں حفاظت کی گئی ہے _______ پھر ص 36 پر ہے 👈 یہی وہ کرامت ہے جس کا صدور دوسروں سے عادۃً ممکن نہیں "

..

وہاں احکامِ شریعت کی تقدیم ص 11 پر سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے زبان وقلم سے (عادۃً) خطا ناممکن ہونے کی بات تھی لیکن یہاں گنگوہی صاحب کے اَقوال و اَفعال اور قلب و جوارِح سب خطا سے محفوظ ہیں اور من جانبِ اللہ برابر ان کی حفاظت کی جارہی ہے _ کیا گنگوہی صاحب کی اِس حالت کا انبیاءِ کرام کی عِصمت سے مُقابَلہ کریں گے؟

یاد رہے کہ گنگوہی صاحب وہی ہیں جنھوں نے ” جَعَلَا لَهٗ شُرَکاءَ” کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا رضی اللہ عنہا کو گناہِ کبیرہ کا مرتکِب بتایا ہے ( دیکھئے فتاویٰ رشیدیہ مکتبہ ثاقب بکڈپو دیوبند ص 50)

لیکن ہائے تباہی کہ جس نے سارے انسانوں کے ماں باپ پر ایسا الزام لگایا اُس کو اندھی عقیدت والوں نے دودھ کا دُھلا بناکر پیش کردیا

ارواحِ ثلاثہ ص 292 پر ہے کہ حضرت (رشید گنگوہی صاحب) نے فرمایا کہ حق تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میری زبان سے غلط نہیں نکلوائے گا”

کیا حفاظت کے اِس وعدۂ اِلٰہیہ اور عِصمت (معصوم ہونے) کے معنیٰ میں کچھ فرق ہے؟

کیا اپنے اکابر کی عِصمت ثابت کرنے کے لیے یہاں شرعی حدود کو نہیں پَھلانگا گیا ہے

اُسی تذکرۃُ الرشید میں ص 82 پر حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب کی شان اِس طرح بیان کی گئی ہے کہ 👈 اعلیٰ حضرت(یعنی حاجی امداد اللہ مہاجر مکی) کی زبان فرمانِ رحمان کا ترجمان تھی "

زبان کے فرمانِ رحمان کے ترجمان ہونے کا کیا مطلب؟ کیا وہ زبان كُنْ کی کنجی تھی یا عادۃً محفوظ عَنِ الخطا تھی؟

مولوی اسماعیل دہلوی نے صراطِ مستقیم فارسی (مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور) ص 36 پر لکھاکہ 👈 وایں حِفظ نصیبۂ انبیا و حکما است و ہمیں را عِصمت می نامند – ندانی کہ اثباتِ وحیِ باطن وحکمت ووجاہت و عِصمت مر غير انبیا را مخالفِ سنت واز جنسِ اختراعِ بدعت است چہ بسیار ازیں امور در احادیثِ رسولِ مقبول علیہ الصلاۃ والسلام در مزناقبِ صحابۂ کِبار منقول است”

یعنی یہ حفاظت (یعنی اللہ کی طرف سے بچایا جانا) انبیا اور حُکَما کا حصہ ہے اور اسی کو عِصمت کہتے ہیں – یہ مت سمجھنا کہ باطنی وحی، حکمت، وجاہت اور عِصمت (یعنی معصوم ہونے) کو غیر انبیا کے لیے ثابت کرنا خلافِ سنت اور اِختراعِ بدعت کی جنس سے ہے اِس لیے کہ اِن میں سے بہت سی چیزیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیثوں میں صحابۂ کِبار کے فضائل میں وارِد ہوئی ہیں "

اِس عبارت میں دہلوی صاحب نے صرف باطنی وحی ہی نہیں بلکہ صاف صاف” عِصمت ” (یعنی معصوم ہونے) کو غیر انبیا کے لیے ثابت مانا ہے اور اسے بدعت اور خلافِ سنت قرار دینے سے روکا ہے

سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے بارے میں ایک عبارت کا مطلب نہ سمجھ کر آسمان سر پر اٹھانے والو اگر تمھارے نزدیک محالِ عادی کوئی چیز نہیں تو بتاؤ کہ تذکرۃ الرشیدجلددوم ص 234 کی عبارت ” یہ ممکن نہ تھا کہ (گنگوہی صاحب) خلافِ شرع امر میں اُن بڑوں کے ادب و لحاظ کی وجہ سے سکوت یا مُداہَنَت فرمائیں ” میں *یہ ممکن نہ تھا* کا کیا مطلب؟

اگر ہم محالِ عادی پر گفتگو کریں تو بات دور تک جائے گی _ لیکن صرف بطورِ مثال کچھ مثالیں مُلاحظہ کرلیں _ علمائے دیوبند کا عقیدہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظیر ممکن ہے چنانچہ تقویۃ الایمان مطبوعہ فرید بکڈپو ص 68 پر ہے کہ اُس شہنشاہ (یعنی اللہ تعالیٰ) کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میں ایک حُکمِ کُن سے چاہے تو کروڑوں نبی اور ولی اور جن و فرشتے جبریل اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برابر پیدا کرڈالے”

لیکن اپنے مولانا حسین احمد ٹانڈوی کے بارے میں اُن کا عقیدہ یہ ہے کہ:

اب حسین احمد سا خِضرِ راہ ممکن ہی نہیں

تاجدار ایسا ہو کوئی شاہ ممکن ہی نہیں

(الجمعیہ کا شیخ الاسلام نمبر صفحہ 43)

اسی میں صفحہ 78 پر ہے کہ” شیخ الاسلام ٹانڈوی صاحب کی وفات سے جو خَلا پیدا ہوگیا ہے اُس کا پُر ہونا نہ صرف مشکل بلکہ محال ہے”

مبشّرات دارالعلوم دیوبند ص 3 پر ہے کہ :

اُن کا ثانی اب کہیں تم پاسکو، ممکن نہیں

جو بھی ہیں وابستۂ دارالعلومِ دیوبند

یہ کیسا اندھیر ہے کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ثانی (یعنی مِثل) ممکن مانتے ہیں اور اسے ثابت کرنے کے لیے رسالہ یکروزی اور تحذیرالناس جیسی پوری پوری کتاب لکھ مارتے ہیں ان کے ماننے والے آج یہ بکواس کرتے ہیں کہ ان کی اور دار العلوم دیوبند سے وابستہ تمام لوگوں کی کوئی نظیر ممکن نہیں بلکہ ان کے جیسوں کا وجود ہی محال ہے

انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مِثل کا وجود صرف ممکن ہی نہیں بتایا بلکہ دو قدم آگے بڑھ کر احتمالًا اپنے مولانا رشید گنگوہی کو بانیِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ثانی قرار دے ڈالا اور ان کے انتقال پر کلیاتِ شیخ الہند میں لکھا :

زباں پر اہلِ اَہوا کے ہے کیوں أُ عْلُ ھُبَل! شاید

اٹھا دنیا سے کوئی بانیِ اسلام کا ثانی

➖➖➖➖ تیسرے اعتراض کا جواب ➖➖➖➖

یہ الزام کہ اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ "میرا ظاہری کوئی استاذ نہیں” سِرے سے غلط ہے- سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے ایسا کچھ کبھی نہیں کہا، در اصل معترِض نے پوری بات نقل نہیں کی ہے _ واقعہ یہ ہے کہ جب مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب نے علمِ ریاضی میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی حیران کُن مہارت دیکھی تو پوچھا کہ اِس فن ( ریاضی) ميں آپ کا استاد کون ہے؟

اُس پر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ میرا کوئی استاد نہیں (دیکھئے حیاتِ اعلیٰ حضرت حصہ اول مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی بریلی، ص 245)

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ تقریبًا ہر علم و فن میں ماہر تھے اور شعر وشاعری میں آپ کا درجہ بہت بلند تھا چونکہ عُرف میں شاعر کو تلمیذُ الرحمان کہا جاتا ہے حتی کہ لُغات میں بھی یہ معنیٰ دیکھاجاسکتا ہے اس بنا پر آپ کو کسی کتاب میں تلمیذُ الرحمان لکھا گیا ہوگا

قلیل وقت میں اتنے سارے علوم خاص عنایتِ خداوندی کے بغیر ممکن نہیں، علمِ لَدُنّی (یعنی وہ علم جو اپنی محنت کے بغیر صرف اور صرف اللہ کی خاص عطا سے آجائے ” اُس کے) جلوے لوگ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے یہاں سر کی آنکھوں سے دیکھتے تھے، ممکن ہے کہ اُس کے پیشِ نظر کچھ علما نے آپ کو تلمیذُ الرحمان قرار دیاہو _ لیکن اس کے یہ معنیٰ نہیں کہ سيدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا کسی بھی علم میں ظاہری کوئی استاد نہیں _ جہاں آپ کے بہت سے عُلُوم محض اللہ کی عطا تھے وہیں کئی عُلُوم میں آپ کے ظاہری اساتذہ تھے _ حیاتِ اعلیٰ حضرت حصہ اول صفحہ 95 پر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے استاذوں کی فہرست میں چھے لوگوں کا نام ذکر کیا ہے

1_ ابتدائی کتابوں کے استاد

2_جناب مرزا غلام قادر بیگ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ

3_مولانانقی علی خان عليہ الرحمہ

4_عبدالعلی رام پوری علیہ الرحمہ

5_ابوالحسین نوری علیہ الرحمہ

6_حضور اچھے میاں مارہروی علیہ الرحمہ

تلمیذُ الرحمن کے لفظ کو لیکر یہ سوال کرنا کہ جب اعلیٰ حضرت بریلوی اللہ تعالیٰ کے شاگرد ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ سے کس جگہ درس لیا کرتے تھے، اللہ سے کلام کرنے اور اُس کا کلام سننے کی کیا صورت ہواکرتی تھی؟

یہ عُرف و لغات سے واقف نہ ہونے اور حقیقت ومجاز کا فرق کھوکر مجاز کو حقیقت بناڈالنے کا نتیجہ ہے، پھر حیرت کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کلامِ حقیقی دعواےِ نبوت ہونے کےسبب اِجماعی طور پر کفر ہے لیکن دیوبندی اسے سالک کے لیے ممکن مانتے ہیں چنانچہ مولوی اسماعیل دہلوی نے صراطِ مستقیم اردو مطبوعہ ادارہ الرشید دیوبند ص 196 پر لکھا ہےکہ ” کبھی سالک کو کلامِ حقیقی بھی (مُیَسَّر) ہوجایاکرتاہے”

کسی نے مجازی معنیٰ میں سيدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو تلميذ الرحمن کہدیا تو کچھ حقیقت سے بے خبر اور جاہل لوگ اسکے خلاف صف آرا ہوگئے لیکن وہ اپنے مولوی اسماعیل دہلوی کی بکواس پر آج تک لب کشائی نہ کرسکے

➖➖➖➖➖چوتھے اعتراض کا جواب ➖➖➖➖➖

اُمُّ المومنین حضرتِ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا محبوبۂ محبوبِ خدا ہیں ان کے فضائل بے انتہا ہیں، سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں 👈 اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پر طعن؟ یہ اللہ و رسول کی جناب میں گستاخی ہے۔ اللہ تعالی ان کی تطہیر و بریت ( پاکدامنی و عِفَّت اور منافقین کی بہتان تراشی سے براءت ) میں آیات نازل فرمائے اور ان پر تہمت دھرنے والوں کو عذابِ الیم کی وعیدیں سنائے، حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم انھیں اپنی سب ازواج مطہرات میں زیادہ چاہیں، جہاں منھ رکھ کر عائشہ صدیقہ پانی پئیں حضور اسی جگہ اپنا لبِ اقدس رکھ کر وہیں سے پانی پئیں، یوں تو حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی سب ازواج ( مطہرات ، طیبات طاہرات) دنیاو آخرت میں حضور ہی کی بیبیاں ہیں مگر عائشہ سے محبت کا یہ عالم ہے کہ ان کے حق میں ارشاد ہوا کہ یہ حضور کی بی بی ہیں دنیا و آخرت میں_ حضرت خیر النساء یعنی فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالی عنہا کو حکم ہوا کہ فاطمہ ! تو مجھ سے محبت رکھتی ہے تو عائشہ سے بھی محبت رکھ کہ میں اسے چاہتا ہوں اور فرمایا :

پیاری بیٹی ! جس سے میں محبت کرتا ہوں کیا تو اس سے محبت نہیں رکھتی؟ عرض کیا : بالکل یہی درست ہے ( جسے آپ چاہیں میں ضرور اسے چاہوں گی) فرمایا تب تو بھی عائشہ سے محبت رکھا کر)سوال ہوا سب آدمیوں میں حضور کو کون محبوب ہیں؟ جواب عطا ہوا : عائشہ

وہ عائشہ صدیقہ بنت الصدیق ، ام المومنین، جن کا محبوبۂ رب العالمین ہونا آفتاب نیم روز سے روشن تر، وہ صدیقہ جن کی تصویر بہشتی حریر میں روح القدس خدمتِ اقدسِ سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں حاضر لائیں۔ وہ ام المومنین کہ جبرئیل امین بآں فضل مبین انھیں سلام کریں اور ان کے کاشانۂ عزت و طہارت میں بے اذن لیے حاضر نہ ہوسکیں، وہ صدیقہ کہ ﷲ عزوجل اپنے محبوب پر وحی نہ بھیجے ان کے سوا کسی کے لحاف میں۔ وہ ام المومنین کہ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اگر سفر میں بے ان کے تشریف لے جائیں ان کی یاد میں واعروساہ فرمائیں۔

وہ صدیقہ کہ یوسف صدیق علیہ الصلوۃ والسلام کی براء ت و پاکدامنی کی شہادت اہلِ زلیخا سے ایک بچہ ادا کرے بتول مریم کی تطہیر و عِفَّت مآبی، روح ﷲ کلمۃ ﷲ فرمائیں، مگر ان کی براء ت ، پاک طینتی ، پاک دامنی و طہارت کی گواہی میں قرآن کریم کی آیات کریمہ نزول فرمائیں۔ و ہ ام المومنین کہ محبوب رب العالمین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ان کے پانی پینے میں دیکھتے رہیں کہ کوزے میں کس جگہ لب مبارک رکھ کر پانی پیا ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنے لب ہائے مبارک و خدا پسند و ہیں رکھ کر پانی نوش فرمائیں۔

صلی اللہ تعالی علیہ وعلیہا وعلی ابیہا وبارک وسلم۔

آدمی اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر دیکھے اگر کوئی اس کی ماں کی توہین کرے اس پر بہتان اٹھائے یا اسے برا بھلا کہے تو اس کا کیسا دشمن ہوجائے گا اس کی صورت دیکھ کر آنکھوں میں خون اتر آئے گا، اور مسلمانوں کی ماں (سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) یوں بے قدر ہوں کہ کلمہ پڑھ کران پر طعن کریں تہمت دھریں اور مسلمان کے مسلمان بنے رہیں۔

لاحول ولاقوۃ الا باللّٰه العلی العظیم

(فتاویٰ رضویہ جلد 29)

جو روافض کے خلاف زندگی بھر اُمُّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قصیدے پڑھتا رہا قدم قدم ان کی عظمت و رفعت بیان کرتا رہا، سوال میں حدائق بخشش حصہ سوم کے حوالے سے مذکور اس کا شعر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کبھی نہیں ہوسکتا،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گیارہ مشرکہ عورتوں کا واقعہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو سنایا تھا

جس کی تفصیل صحیح مسلم شریف وغیرہ میں موجود ہے حدیث پاک میں ان کے جو اوصاف ذکرکیے گیے سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے انھیں کو سامنے رکھ کر ان گیارہ عورتوں کے بارے میں کچھ اشعار لکھے اور بات کچھ اس طرح سے اٹھائی :

یاد وہ مجمعِ رنگینِ عَروسانِ حجاز

اور پیماں کہ چھپائیں گی نہ حالِ شوہر

بات عروسانِ حجاز کی چلی ہے اور وہ شعر یعنی :

تنگ وچست ان کالباس اوروہ جوبن کاابھار

مسکی جاتی ہے قبا سر سے کمر تک ہوکر

اُنھٖیں عروسانِ حجاز سے متعلق ہے اسے زبردستی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر فٹ کرنا بے غیرتی کی انتہا ہے

اللہ رب العزت اَمّی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے صدقے میں مجھ گنہگار کی مغفرت فرمائے _ آمین

جزی اللہ عنا حبيبنا محمدا ماهو وصلی اللہ علیہ وعلی آلہ و صحبہ و بارک و سلم

العارض : محمدمشاہدرضاعبیدالقادری

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.